صرف اسد درانی ہی کیوں؟
28 مئی 2018 2018-05-28

’’دی سپائی کرانیکلز‘‘ را، آئی ایس آئی اینڈ الوئنز آف پیس لکھنے والے صحافی نے کئی ملاقاتوں میں پاکستان کے سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی اور بھارتی خفیہ ایجنسی کے سربراہ امر جیت دُلت کی خیالات پر مبنی ایسی کتاب لکھی ہے جس کا مقصد اُن کے مطابق اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ پاک بھارت تعلقات کی راہ میں ماضی کی اُن غلطیوں کی نشاندہی کر سکیں جو دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان اچھے تعلقات کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئی ہیں مگر یہ تعلقات اتنے خراب ہیں کہ اس کو درست ہونے کے دور دور تک امکانات نظر نہیں آتے۔ کتاب منظر عام پر آنے سے پہلے ہی بھارتی سابق ہم منصب امر جیت نے نئی دہلی کو مشورہ دیا تھا کہ Red Carpetبچھائیں اور جنرل باجوہ کو نئی دہلی میں آنے کا موقع دیں ۔ اہم بات تو یہ ہے کانگریس کے سربراہ راہول گاندھی اور بھارتی وزیراعظم مودی نے اس کتاب کی تعریف کی ہے کہ پاکستان پر جو الزامات لگائے گئے ، اس میں اس مؤقف کو بڑی حد تک منوایا گیا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ بھارت کے اہم سیاست دانوں کو کتاب دیتے ہوئے بریفنگ بھی دی گئی کہ اس کتاب میں بھارت کے مؤقف کی کہاں کہاں فتح ہوئی ہے بالکل وہی باتیں بیان کی گئی ہیں جو جنرل مشرف کھل کر بیان کرتے رہے ہیں کسی حد تک وہ آج بھی کر رہے ہیں۔ کتاب کے منظر عام پر آنے سے بھارت سے مشروط تعلقات کی بات چیت جو بیک ڈور رابطوں سے جاری تھی اُس کو بھی بریک لگ گئی ہے کتاب میں ممبئی حملوں کے بارے میں نواز شریف نے جو مؤقف پیش کیا تھا اُس پر سوالات ہی نہیں اُٹھے بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے مبینہ مہرے عمران خان نے تو نواز شریف کو غدار کہہ ڈالا پھر ان کے طوطوں اور انصافیوں نے غداری کی ایسی گردان شروع کی کہ لوٹے بننے والے مسلم لیگیوں نے یہ کہہ کر پارٹی سے ہجرت کرنا شروع کر دی کہ مسلم لیگ اور نواز شریف کی سیاست پاکستان دشمن ہے۔ غداری کے تمغے یوں تقسیم ہوئے کہ خدا کی پناہ، نواز شریف جب وزیراعظم تھے اور وزیراعظم کے عہدے سے ہٹنے کے بعد یہی کہتے رہے کہ پہلے گھر کو درست کریں۔ پھر وزیر خارجہ نے بھی یہی بات کی تو دونوں آج کہاں ہیں ۔ خواجہ آصف کے چہرے پر سیاہی پھینکنے کا معاملہ یونہی نہیں ہوا یقیناًاس کے پیچھے کوئی نہ کوئی ضرور ہے۔ سلامتی کمیٹی کی میٹنگ میں نواز شریف کے اسی مؤقف کو جب اگلے روز ڈان اخبار نے اپنی خبر کا موضوع بنایا تو عسکری قیادت نے خبر کو پبلک کرنے کا معاملہ اٹھایا تو کپتان اور اُن کی قیادت نوا زشریف کے مخالف سمت پر کھڑی ہو گئی۔ کیوں کھڑی ہوئی یہ راز بھی دھرنوں جیسا ہے جس کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنا تھا۔ نواز شریف نے تو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو جن کی وزارت عظمیٰ کی مدت ختم ہونے میں صرف دو دن رہ گئے ہیں، خراج تحسین پیش کیا ہے۔ شاہد خاقان عباسی کی جگہ کون حکومت چلا رہا تھا بابا رحمتے اچانک آئین کے آرٹیکل 184(1) کلاز تھری کے تحت میدان میں کیوں آئے نوا زشریف کے مطابق جو درست ہے یا نہیں کہ حکومت کا انتظامی کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ عدلیہ کی تاریخ میں کسی چیف جسٹس نے ایسا رول آئین کا سہارا لے کر نہیں ادا کیا۔ پھر ایک سیاست دان جسے ’’لاڈلا‘‘ کہتے تھے ایک فیصلہ میں جانبداری کا الزام ایک آدھ مرتبہ نہیں بلکہ مسلسل لگایا ایسے ماحول میں شاہد خاقان عباسی نواز شریف کے ہٹائے جانے پر عدالتی فیصلے پر نہ صرف تنقید کرتے رہے بلکہ کھل کر نواز شریف کے بیانہ کو درست کہتے رہے۔ نواز شریف کے ایک بیان پر قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ ممبئی اٹیک کے بارے میں عسکری قیادت اور وزیراعظم نے مشترکہ اعلامیہ میں نواز شدریف کے مؤقف اور بیان کو مسترد کیا اس کے باوجود شاہد خاقان عباسی نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اعلان کیا کہ وہ نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہیں۔ 28 مئی کو اسد درانی کتاب کے مندرجات کے حوالے سے وضاحت کے لیے جی ایچ کیو آئے۔ دوسری جانب نواز شریف کے خلاف اُسی دن غداری کا مقدمہ بنانے کی لاہور ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی جبکہ غداری کے الزام کا مفرور ملزم جنرل (ر) پرویز مشرف کتاب میں لکھے گئے مندرجات کو درست مان رہا ہے بلکہ وہ تو گرفتار جاسوس ڈاکٹر شکیل آفریدی کے بارے میں کہہ رہا ہے کہ میں ہوتا تو اُن کو کب کا امریکہ بھیج چکا ہوتا ۔ آج کل سوشل میڈیا پر آئی ایس آئی کے ایک کرنل کی تفصیلات منظر عام پر آ رہی ہیں کہ وہ ہی اصل کردار ہیں جن کی اطلاع پر ایبٹ آباد میں امریکی سیلرز نے حملہ کیا۔ بتایا گیا کہ ہمارے انٹیلی جنس اداروں کو اس کی کانوں کان خبر نہیں اسی کرنل کو انعامی رقم ملی اور وہ اسی رقم کے بل بوتے پر آرام کی زندگی گزار رہے ہیں امریکہ ڈاکٹر آفریدی کو اپنا ہیرو سمجھتا ہے مگر ہم انہیں اپنا غدار سمجھتے ہیں۔ احتساب کے نام پر انہوں نے ’’پاناما‘‘ کے باقی مقدموں کا کیا یا انہیں مسلم لیگ کی قیادت کی فائلیں کھولنے کی جلدی ہے۔ باقی سیاست دانوں کے بارے میں ایسا نہیں ہے بلوچستان، سندھ اور کے پی کے میں مقدمات چیونٹی کی رفتار سے چل رہے ہیں۔ نواز شریف آج غدار ہے؟ لاہور ہائی کورٹ نے اس مقدمہ کی سماعت ایسے دن کی جب اس نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا۔ عجب کھچڑی پکائی جا رہا ہے ۔ سیاست اور جمہوریت کو کتنے خدشات ہیں میڈیا اور نیب کس کے کنٹرول میں ہے۔ اس کے بارے میں شاہد خاقان عباسی نے بڑے پتے کی بات بتائی ہے ’’آج کے حالات میں ملک چلانا ناممکن ہے بلکہ مستقبل کی حکومت بھی انہی مسائل کا شکار رہے گی۔ انہوں نے صاف بتا دیا ہے عدلیہ، نیب اور میڈیا نے جو صورت حال پیدا کی ہے اس سے ملک کیسے ترقی کرے گا انہوں نے ایمنسٹی سکیم کی راہ میں رکاوٹ عدلیہ کو قرار دیا ہے۔ عباسی نے اب کھل کر میدان میں آنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میڈیا، عدلیہ ، نیب نے جو کچھ شاہد خاقان عباسی کے دور وزارت عظمیٰ میں کیا ہے اس سے وہ کافی مایوس ہیں پاکستان میں جمہوریت کی جو تباہی جسٹس منیر سے شروع ہوئی تھی وہ ابھی تک نہیں رکی نظر یہ ضرورت ختم ہو چکا اگر شاہد خاقان عباسی کے تازہ خیالات کو لیا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ نام کے وزیراعظم تھے حکومت کوئی اور چلا رہا ہے اگر تین اداروں کا اکٹھ جو کر کے کسی کو سیاسی طور پر فنا کرنا ہے تو سمجھ لیجیے یہ تجربہ ناکام ہو گیا۔ جنرل اسد درانی کے خیالات مشترکہ کتاب کی صورت میں آچکے ہیں انہوں نے جس ملٹری کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی ہے۔ ہماری عسکری قیادت کی یہ خاموشی کہاں تک ، سابق امریکی سنٹرل کمان کے چیف جنرل زینی اور بروس ریڈل کی کتاب کے علاوہ وہ کارگل آپریشن کے تجزیاتی رنگ کے ڈی جی سابق ڈی جی ملٹری آپریشن سابق چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل شاہد عزیز کی کتاب کا بھی جائزہ لینا چاہیے اگر 1965ء کی جنگ کے بارے میں سابق کمانڈر انچیف جنرل موسیٰ کی کتاب کو بھی تحقیقات میں شامل کر لیا جائے کہ غلطی عسکری قیادت سے بھی ہوتی رہی ہے۔ ایک کرنل نے اسامہ کو بیچا مشرف نے تین سو کے لگ بھگ دہشت گرد امریکہ کوفروخت کر دیئے۔ کسی نے ایمل کانسی کی رقم وصول کی
مشرف کی کتاب ’’ان دی لائن آف فائر‘‘ ایسے وقت لکھی گئی جب مشرف آرمی چیف اور صدر پاکستان تھا ۔ انہوں نے اپنی کتاب ستمبر 2006ء میں امریکہ سے لانچ کی کتاب کا یہ انکشاف بھی جھوٹا ثابت ہوا کہ پاکستان کو پتھر کے زمانے میں دھکیلنے کا جو انکشاف مشرف نے کیا۔ وہ حقیقت پر مبنی نہیں تھا۔ بینظیر بھٹو اور نواز شریف کی سیاست کو برباد کرنے کے لیے انہوں نے ایک سیاسی جماعت کو مسلم لیگ (ق) کو تخلیق کیا۔ کرپشن میں ملوث سیاست دانوں کو اقتدار میں شامل کیا۔ آئین پاکستان کی جگہ ججوں سے اپنا حلف لیا۔ پھر اس بات کی تحقیقات ہونی چاہیے کہ جنرل ظہیر نے اپنے وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کیوں کیا۔ اب سول ملٹری تعلقات کا معاملہ اٹھا ہے تو اسے انجام تک جانا چاہیے صرف اسد درانی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ 1965ء کو جیتی جنگ تاشقند معاہدہ میں ہارنے کا بھی سوال ہے۔ یہاں سوال یہ بھی ہے کہ ملک میں چار مارشل لاء کیوں لگے۔ اچھا ہوا جنرل اسد کی کتاب نے پرانے اختلافات کے پس منظر میں مباحثے کے نئے دروازے کھولے ہیں۔ اگر یہ پیپلزپارٹی کی پالیسی ہے یا نہیں۔ نہیں ہو سکتی زرداری اپنی دولت بچانے اور بلاول
کے لیے جگہ بنانے کے لیے فوج کے ساتھ جائے گا مگر سینیٹ میں سابق چیئرمین رضا ربانی نے سچ کہا ہے اگر یہ کام کسی سیاست دان نے کیا ہوتا تو غداری کے فتوے آ چکے ہوتے ۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہمارے عسکری ادارے اپنے احتساب کے نظام کی اصلاح کریں اور خود بھی سروس میں ہوتے ہوئے کوڈ آف کنڈکٹ کے ساتھ سیاسی دانوں کی طرح احتساب کا سامنا کریں۔ 62، 63 کی شقیں جرنیلوں اور عدلیہ کے ججوں پر بھی اپلائی ہونی چاہیے۔ خاص طور پر ان اداروں نے ماضی ہیں جو پولیٹیکل انجینئرنگ کی ہے۔ اس کا راستہ روکا جائے۔


ای پیپر