حشر بپا ہے کہ غدر رقص کناں
28 مئی 2018

کہتے ہیں مصیبت میں گھبرا جانا سب سے بڑی مصیبت ہے ۔ ضیاء الحق نے جن کے لیے کہا کہ پنجاب میں کلا گاڑھا ہوا ہے اور جنرل حمید گل کے بقول ایجنسیوں کے فخر میاں نواز شریف کے بیان کی بازگشت جاری تھی کہ عمران خان جس پارلیمنٹ پر لعنت بھیج چکے تھے نواز شریف کی طرف سے 2014ء کے دھرنے کے پیچھے بتائے گئے محرکات اور نادیدہ ہاتھوں کے بے نقاب کرنے کے بیان کا جواب دینے چلے گئے۔
میاں صاحب کی تیسری حکومت کو ختم کیا گیا دوبارہ اسمبلی توڑ کر اور ایک بار پانامہ سے شروع ہونے والا مقدمہ ماہانہ تنخواہ پر منتج ہوا لہٰذا وہ صادق اور امین نہیں رہے اور گھر بھیج دیا گیا۔
جناب نوا زشریف کے حالیہ مختلف بیانات میں ایک یہ بھی تھا کہ میں چار سال سے مزاحمت کر رہا تھا، لیاقت علی خان، جناب ذوالفقار علی بھٹو ، محترمہ بینظیر بھٹو شہید کا ذکر بھی کیا کہ ان کی ارواح سے پوچھا جائے ان کے ساتھ کیا ہوا۔ لیاقت علی خان شہید کا قصہ تو پرانا ہوا چلا ، جناب ذوالفقار علی بھٹو اور بی بی شہید کے جسموں سے روحوں کو جدا کرنے والوں یا ایذا دینے والوں میں میاں صاحب کسی نہ کسی صورت شامل رہے تو پھر ایسے میں بی بی شہید کی بات یاد آتی ہے کہ نواز شریف ایک دن تم مجھے اورمیرے باپ کو یاد کر کے روؤ گے۔
میاں صاحب کے بیانات کہ ایجنسی کے سربراہ کو فارغ کر سکتا تھا اور یہ کہ مشاہد اللہ اور پرویز رشید کو فارغ کرنا بھی بردباری تھی۔ سن کر ایک محاورہ یاد آتا ہے کہ لڑائی کے بعد یاد آنے والا مکا اپنے سر پر مار لینا چاہیے۔ میاں صاحب کے بیانیے اور بیانات سے نہ جانے مجھے وہ آدمی کیوں یاد آ رہا ہے جس کے گھر کے باہر بڑے بڑے گول گول سینگوں والا ہمسایوں کا بیل بندھا ہوتا تھا آدمی روزانہ نکلتااور سوچتا کہ اس کا سر اس بیل کے سینگوں میں سے گزر سکتا ہے کہ نہیں۔ ایک دن اس نے سر گزارنے کی کوشش کی ابھی سر بیل کے سینگ کے اندر تھا کہ بیل نے جھٹکا دے کر آدمی کو ایسا پٹخا کہ اس کی گردن کے مہرے کھسک گئے۔ اس حد تک کہ گردن کی ہڈی ٹوٹتے ٹوٹتے بچ گئی وہ پٹیاں اور پلاسٹر لگوائے ہوئے تھا لوگ خبر گیری کے لیے چلے گئے ہر کوئی کہنے لگا تمہیں کیا ضرورت تھی اچھا بھلا سمجھدار آدمی ہے اور یہ حرکت کر دی۔ آدمی نے کہا کہ روز روز کی یہ ذہنی کِل کِل تو ختم ہوئی کہ سر گزرتا ہے کہ نہیں گزرتا۔ میاں صاحب نے خلائی مخلوق کے بیل کے سینگوں سے سر ٹکرانے کی کوشش میں حکومت بھی گنوائی اور مصیبت بھی مول لی۔ دراصل میاں صاحب جو بی بی شہید کے ساتھ کرتے رہے آج
اُن کے ساتھ ہو رہا ہے ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اُن سے جناب بھٹو اور محترمہ بی بی صاحبہ کا کردار نبھانا مشکل ہو رہا ہے جبکہ اُن کی جگہ عمران خان اُن کا سابقہ سیاسی کردار خوب نبھا رہے ہیں۔ عمران خان کو وزیراعظم بننے کے شوق کا یہ عالم ہے کہ اگلے روز سو روزہ خیالی حکومت کا پروگرام دیا جس میں اسد عمر نے کہا کہ ہم ’’وزیراعظم‘‘ عمران خان کی حکومت میں پہلے سو دن میں فلاں فلاں کام کریں گے۔ وزیراعظم کہے جانے پر عمران کے چہرے کا جو رنگ بدلا وہ دیدنی تھا۔ سبحان اللہ! میں نے سوچا کہ خوشامد کی شروعات تو وزیراعظم کہنے سے ہی شروع کر دی گئیں۔
عمران خان کے سو روزہ پروگرام سے مجھے اس چالاک دیہاتی کا واقعہ یاد آ رہا ہے جس نے دوسرے دیہاتی سے پوچھا کہ فلاح گاؤں کتنی دور اور کس طرف ہے اس نے راستہ بھی بتایا اور فاصلہ بھی کہ 9کوس پر ہے راہی نے دیہاتی نے پوچھا کہ میں کتنی دیر میں پہنچ جاؤں گا ۔ دوسرے دیہاتی نے کہا کہ سامنے سائیکل پنکچر والے کی دکان پر جاؤ اگر وہ بیٹھا ہے تو مجھے آ کر بتاؤ پھر میں تمہیں بتاؤں گا راہگیر دیہاتی واپس آیا اور بتایا کہ نہیں ہے اس نے کہا تم دو گھنٹے میں پہنچ جاؤ گے وہ کہنے لگا میں تمہیں دور سے ہی بتا دیتا کہ پنکچر والا نہیں ہے اور تم مجھے پہلے بتا دیتے کہ مجھے کتنا وقت لگے گا، دوسرے دیہاتی نے کہا کہ پہلے مجھے تمہاری رفتار اور چال کا اندازہ نہیں تھا لہٰذا میں نہیں بتا سکتا تھا کہ تمہیں کتنا وقت لگے گا جبکہ اب تو عمران خان کی رفتار چال اور ویژن بھی سامنے ہے ۔ خیبر پختونخوا میں 5 سالوں میں جو کیا ہے اس کو مد نظر رکھا جائے تو وفاق میں سو روزہ پروگرام سو سالہ دکھائی دیتے ہیں۔
میاں صاحب کا بیانیہ اور بیان نا قابل تردید ہو سکتا ہے مگر وہ بیان آدھا دیتے ہیں جس میں اپنے سابقہ سیاسی کردار کو گول کر جاتے ہیں۔ 2014ء کے حالات کے پیچھے محرکات کوئی نئی خبر نہیں ہے اس سے تو وطن عزیز کا ریڑھی بان بھی واقف تھا اور اب بھی جو ہو رہا ہے اس سے واقف ہے ۔ مشکل صرف یہ ہے کہ ماضی پر کھڑے ہو کر ہی مستقبل کا دعویٰ کیا جا سکتا ہے ۔ کردار اور ماضی ایسی چیز ہے جس کی لوگ گواہی دیتے ہیں اور مستقبل میں جس تاریخی کردار کی ذمہ داری میاں صاحب نے کندھوں پر اٹھائی ہے اس کے لیے ماضی کا ہونا بہت ضروری ہے ۔ جب بلاول نے کہا تھا کہ یہ بازی جان کی بازی ہے ، سر مانگو سر دیں گے جان مانگو جان دیں گے تو اینکرز اور سیاستدان کہنے لگے کہ یہ کیا بات ہے اب تو حالات ایسے نہیں ہیں۔
میاں صاحب سے اب پوچھیں کہ بلاول کے نعرے کے دن آج بلاول پر نہیں تو میاں صاحب کے دروازے پر دستک دے چکے ہیں کہ نہیں یہ بازی جان کی بازی بن چکی ہے کہ نہیں، یہ سر مانگ رہی ہے کہ نہیں۔ یہ جان مانگ رہی ہے کہ نہیں۔ مصیبت یہ ہے کہ جب بلاول کہتا ہے تو اس کے پیچھے شہیدوں کے قبرستان اور باپ کی کاٹی ہوئی جیل گواہی دیتی ہے کہ یہ کر گزرے گا لیکن افسوس کہ میاں صاحب کے لیے لوگ ابھی بھی تذبذب کا شکار ہیں مگر میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ میاں صاحب ووٹ کی قدر اور حق حکمرانی کے جس نعرے کے ساتھ نکلے ہیں وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ان کو اپنا ماضی اپنے مستقبل کی قربانی سے دھونا ہو گا۔ شہرت ، کردار اور ماضی ایسی چیز ہے جو ہمیشہ پیچھا کرتے ہیں یہ تو سیاست دان ہیں شوبز کے سٹار علی ظفر پر میشا شفیع نے جنسی ہراسگی کا الزام لگایا، لوگوں نے اس کو کچھ وزن نہ دیا حالانکہ ایک آدھ خاتون اور بھی میدان میں کود گئیں علی ظفر کے ماضی کی وجہ سے ان کے فالورز نے ان کے بارے میں رائے نہ بدلی جبکہ سیاست دان کی زندگی تو ہوتی ہی کھلی کتاب ہے ۔ لہٰذا ہرگزرتا لمحہ ماضی کے سپرد ہوا چلا جاتا ہے جو انسان کا کردار بن جاتا اور ماضی کسی کے بس میں نہیں ہوتا کوئی تبلیغی جماعت کا بڑا سرکردہ مبلغ بھی بن جائے لوگ ماضی اس کا بھی دہراتے ہیں چاہیے جیسا بھی ہو۔
کسی کے کیا آج کوئی اپنے کردار کی ذمہ داری نہیں اٹھا رہا۔ مجھے یاد ہے بھٹو صاحب نے جیل سے اپنی زندگی نہیں لیکن اپنی بیٹی کے لیے فکر مند ہو کر لکھا تھا سات سال کی جس پنکی نے طوطا ہلاک ہو جانے پر کئی پہروں کچھ کھایا نہ پیا میں اس پر بہت بھاری ذمہ داری ڈالے جا رہا ہوں یعنی وہ پنکی جو طوطے کے مارے جانے پر غم زدہ تھی آج باپ کی پھانسی اور بعد میں آنے والی مصیبتیں دیکھیں گی۔ وہ قانون سیاست اور تاریخ کے طالب علم تھے۔ تاریخ میں زندہ رہنا چاہتے تھے۔ میاں صاحب تاجر سیاست دان ہیں۔ بیٹوں کو ذمہ دار اور جوابدہ ٹھہرا دیا۔ جہاں حقائق بیان کر رہے تھے بہتر تھا کہہ دیتے کہ مشرف کے غیر آئینی دور میں جو اُن کے اور خاندان کے ساتھ ہوا وہ کسی بھی طریقہ اپنی دولت باہر لے گئے کہ جائیدادوں کے ساتھ کاروبار تو ہو سکتا ہے نظریاتی سیاست نہیں۔ وطن عزیز کا ہر شعبہ، ہرسٹیک ہولڈر حالات پر نارمل ردعمل دینے سے قاصر ہے ۔ کیا ایٹمی دھماکے کرنے والا تین بار وزیراعظم رہنے والا ملک دشمن ہو سکتا ہے ؟ ہرگز نہیں مگر باقی سوالات اسی جگہ پر ہیں۔ سیاسی لوگوں کی جماعتیں بدلنے کے لیے دور لگی ہوئی ہے ۔ سیاستدان معاشرے میں تشدد کے رجحانات پھیلا رہے ہیں۔ الزامات کی برمار ہے ۔ تاریخ میں پہلی بار قوم قیادت کے بغیر سفر کر رہی ہے اور یہ پہلے انتخابات ہیں جن میں غریب کو دلچسپی نہیں۔ کہیں جرائم کا بازار گرم ہے اور ایسے میں دلت درانی کی کتاب بھی تہلکا مچائے دیے رہی ۔ گویا اک حشر بپا ہے عذر رقص کناں


ای پیپر