سپریم کورٹ، فوج ، نیب اور میاں نواز شریف
28 مئی 2018 2018-05-28

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں کامیاب زندگی گزارنے کے لیے دو چیزیں بنیادی حیثیت کی حامل ہیں۔ ایک دولت کی فراوانی اور دوسرا حکومتی اقتدار۔ آپ کہیں گے کہ صرف پاکستان ہی کیوں یہ دونوں عوامل تو ہر ملک میں کامیاب زندگی گزارنے کے لیے بہت ضروری ہیں۔ نہیں نہیں پاکستان اور باقی دنیا میں بہت فرق ہے۔ پاکستان میں جس کے پاس یہ دونوں ہوں وہ اس ملک کے قوانین اور اداروں سے اوپر ہو جاتاہے۔ قوانین اور ادارے اس سے دبکے رہتے ہیں ۔بشرطیکہ آپ خود کوئی دولتی نہ مار دیں ۔ میاں نواز شریف اس ملک کے کامیاب ترین آدمی ہیں، انھوں نے ہمیشہ یہ دونوں چیزیں اپنے پاس رکھیں اور ایک لمبا عرصہ اس ملک پہ حکمرانی کی۔غلامانہ اطوار کی حامل قوم نے ان کی تابعداری میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ لیکن پانامہ لیکس کے سامنے آنے کے بعد ان کے حالات بگڑنا شروع ہو گئے جس میں ایک بڑا رول ان کا اپنا ہے۔کافی لوگوں کا تو یہ بھی خیال ہے کہ ان کے حالات کے بگاڑ میں سب سے بڑا کردار ان کی اپنی بیٹی کا ہے۔ ویسے تو اس وقت بھی میاں نواز شریف اس ملک کے طاقت ور ترین آدمی ہیں۔ انھوں نے ان دگر گوں حالات میں بھی اس ملک کے تقریباً ہر طاقتور ادارے کو دفاعی پوزیشن پر لا
کھڑا کیا ہے۔آج کل میاں صاحب کا جس ادارے سے واسطہ پڑتا ہے وہ اسے بد ترین ادارہ paint کرنا شروع کر دیتے ہیں۔اس میں کسی ادارہ کو استثنیٰ حاصل نہیں ہے، چاہے وہ اس ملک کی سپریم کورٹ ہو ، فوج ہو یا نیب ہو۔پانامہ لیکس کے سامنے آنے کے بعد میاں صاحب اور ان کے خاندان نے اپنا دفاع پیش کرنا شروع کردیا۔ ان کے دیرینہ ساتھی چوہدری نثار اور اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ ( جنہوں نے ہمیشہ اپنے تعاون کا ہاتھ میاں صاحب کی طرف بڑھائے رکھا ) نے اس مسئلہ کوپارلیمنٹ میں حل کرانے کے مشورے دئیے لیکن میاں صاحب نے خود سپریم کورٹ کوh approacکرنابہتر جانا ۔ انہوں نے الیکشن میں دھاندلی والے مسئلہ کی طرح اس مسئلہ کو بھی سپریم کورٹ کی مہر کے ساتھ ہمیشہ کے لیے ختم کرنا چاہا۔ سپریم کورٹ کے پانچ ججز پر مشتمل فل بنچ نے ایک لمبی اور کھلی شنوائی کے بعد انہیں صادق اور امین نہ ہونے کی بنا پرقومی اسمبلی کی سیٹ کے لیے نا اہل قرار دے دیا، نتیجتاً وہ وزیراعظم کے عہدہ سے فارغ ہوگئے۔ وزیراعظم ہاوس اسلام آباد سے لاہور جانے کے لیے انہوں نے جی روڈ کا راستہ اختیار کیاجس پر حکومت کا بہت بڑا خرچہ اٹھ گیا۔ وہ غریب عوام کا پیسہ تھا۔ میاں صاحب سارا راستہ سپریم کورٹ کے فیصلہ دینے والے پانچوں ججز کی جواب پرسی کرتے رہے۔ یہی رٹ لگائے رکھی کہ یہ پانچ جج کون ہوتے ہیں مجھے نا اہل کرنے والے، یہ تو خود نا اہل ہیں۔ سپریم کورٹ چونکہ خود کسی کیس کی تفتیش کرنے والا ادارہ نہیں اس لیے انہوں نے فیصلے میں پانامہ لیکس کیس کی تفتیش کے لیے مختلف محکموں پر مشتمل ایک جے آئی ٹی ( JIT) تشکیل دے دی۔ میاں صاحب اور ان کے خاندان نے جو جے آئی ٹی کے ممبران کے ساتھ کیا وہ پوری قوم کے سامنے ہے۔اس ٹیم کے ممبران کو ’’ ہیروں ‘‘ کا خطاب دیا گیا۔اس جے آئی ٹی کے انچارج مسٹر واجد ضیاء جو کے وفاقی ادارہ ایف آئی اے کے ایک سینئر آفیسر ہیں کے ساتھ جو کچھ ہوا اور ہو رہا ہے وہ کسے معلوم نہیں۔لوگ ان کے صبر اور حوصلہ کی داد دیتے ہیں۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ پر سپریم کورٹ نے نیب کو میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف احتساب عدالت میں ریفرنسز دائر کرنے کے احکامات دئیے جو آج تک زیر سماعت ہیں۔ سپریم کورٹ کے ججز کے خلاف کھلے جلسوں میں وہ کچھ کہا گیا ہے اور کہا جا رہا ہے جوعدلیہ کی پوری تاریخ میں نہیں سنا گیا تھا۔یہاں تک کہا گیا کہ یہ فیصلہ تو کہیں اور لکھا گیا تھا صرف سنانے کا کام عدلیہ نے کیا۔چیف جسٹس سپریم کورٹ نے حلف اٹھا اٹھا کر یقین دہانیاں کرائیں کہ ان کے اور عدلیہ کے کوئی سیاسی عزائم نہیں ہیں، وہ آئین اور جمہوریت پر مکمل یقین رکھتے ہیں۔ جمہوریت پر اگر کوئی آنچ آئی تو وہ ایک سیسہ پلائی دیوار بن جائیں گے اوراگر کچھ نہ کر سکے تو اپنی سیٹ چھوڑ کر گھر چلے جائیں گے۔اس پر بھی میاں صاحب اور ان کی دختر نیک اختر کی تسلی نہ ہوئی۔ وہ اس ر ٹ سے باز نہ آئے کہ اس کیس میں ڈوریاں پیچھے سے ہلائی جا رہی ہیں۔ میاں صاحب کا غصہ کسی طور کم نہیں ہو رہا تھا، اس لیے انھوں نے ایک انگریزی اخبار کے اس صحافی کوانٹرویو دیا جس کا نام اس سے پہلے ڈان لیکس قضیہ میں آیا تھا۔ اس انٹرویو میں انہوں نے وہ باتیں کیں جو ممبئی واقعہ کے سلسلے میں ہندوستانی نکتہء نظر کی بالواسطہ طور پر تائید کرتی تھیں۔
پوری قوم کے جذبات مجروح ہوئے۔ پاک فوج نے قومی سلامتی کمیٹی میں اس مسئلہ کو زیر بحث لانے کی درخواست کی ۔ قومی سلامتی کمیٹی کی میٹنگ ہوئی جس میں میاں صاحب کے انٹرویو کے ا س حصے کو جسے انڈین میڈیا خوب اچھال رہا تھا حقائق کے منافی قرار دیا گیا اور اس کی مذمت کی گئی۔لیکن میاں نواز شریف نے قومی سلامتی کمیٹی ،جو اس ملک کے اہم ترین آئینی اداروں میں سے ایک ہے ،کے اعلامیہ کو مسترد کر دیا ۔یہ ملک کے آئینی اداروں کی حرمت کے ساتھ اس شخص کا سلوک ہے جو اس ملک کا تین دفعہ وزیراعظم رہ چکا ہے۔اس ملک کے فوج جیسے اہم اور طاقتورادارے نے ایک خاموشی سی طاری کر لی ۔ کیا اب بھی کسی کو شک ہے کہ اس ملک میں ادارے کمزور ہوچکے ہیں اور شخصیات مضبوط۔
کیا اس سے آپ کو کمزور اداروں والی ایک کمزور ریاست کی تصویر نظر نہیں آتی۔ شاید آپ کو یہ بھی معلوم ہوگا کہ اس دنیا میں کمزور ریاستوں کے ساتھ طاقتور ملک کیا سلوک کرتے ہیں۔ اگر شک ہے تو شام ، لبنان ، لیبیا اور عراق پر ایک نظر ڈال لیں۔ اب اس طاقتور شخصیت کا اس ملک کے ایک اور آئینی ادارہ جسے نیب (NAB) کہتے ہیں کے ساتھ سلوک پر ایک نظرڈال لیں۔ نیب اس ملک کا آئینی ادارہ ہے جو 1999 ء سے کام کر رہا ہے۔ اس نے ابھی حال ہی میں میاں نواز شریف کو ان کے پچھلے وزارت عظمیٰ کے دور میں رائیونڈ روڈسے جاتی عمرہ تک سڑک کی تعمیر کے سلسلے میں بلایا تھا۔ میاں صاحب نے نیب کے بلاوے کو قابل غور نہ سمجھا۔ نیب کی ٹیم سارا دن انتظار کرتی رہی لیکن میاں صاحب نے نہ جانا تھا نہ گئے۔اب تو نیب اور اس ملک کے سب لوگوں کو بھی واضح ہو چکا ہو گا کہ میاں صاحب نیب کے بلاوے پر نیب کے پاس کبھی نہیں جائیں گے۔ یہ قومی آئینی ادارے صر ف عام آدمی کے لیے طاقتور ہیں ۔ عام آدمی کو نیب کا بلاوہ آجائے تو بیچارے کی ٹانگیں کانپنے لگ جاتی ہیں۔ لیکن یہی ادارہ طاقتور اور زور آور لوگوں کے لیے پیاری سی معصوم pussy cat بن جاتا ہے۔ میاں صاحب کا تو خیر رتبہ ہی اور ہے میاں صاحب کے خاندان کے دیگر افراد بھی
نیب کے بلاوے کو کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے۔ ابھی نیب میاں شہباز شریف کے داماد عمران علی اور بیٹے حمزہ شہباز کو بلاتی پھرتی ہے۔ ایک ایک دفعہ تو یہ دونوں subject to good mood and good weather نیب کے دفتر چلے گئے لیکن دوبارہ بلانے پر نہیں گئے۔ ہاں اپنے سیکر ٹریز اور نمائندگان کے ہاتھوں جوابات بھجوا دئیے۔یہ ہیں اس خاندان کے لوگ جو بات بات پر قانون کی حکمرانی کی بات کرتے ہیں۔کاش اس ملک کے قومی ادارے عام آدمی اور طاقتور لوگوں کے درمیان فرق کرنا چھوڑ دیں۔ان اداروں کے کچھ افراد نے اپنے ذاتی مفاد ات کی خاطرکچھ لوگوں کو بہت طاقتور بنا دیا ہے اور اپنے اداروں کو کمزور کر دیا ہے۔خدا کے لیے اب بھی سنبھل جائیں ۔ کیا آپ کونظر نہیں آتا کہ ملک خوفناک حالات کی طرف بڑھ رہا ہے۔خدارااسے شام ، یمن ،عراق اور لیبیا نہ بننے دیں۔ہر فرد عہد کرلے کہ اس ملک کے ہر بزعم خویش طاقتور کو اس ملک کے عام شہری کی سطح پر لائیں گے ،بلکہ طاقتوروں کی نسبت عام آدمی سے بہتر سلوک کا مظاہرہ کریں گے۔
شاید کے تیرے دل میں اتر جائے مری بات


ای پیپر