عدم برداشت کی سیاست!
28 مئی 2018

پاکستان میں جوتا مارنے کی قبیح رسم کی ابتدا کا سہرا صوبہ سندھ کے آغا جاوید پٹھان کے سر سجتا ہے۔جس نے اپریل 2008ء میں سابق وزیر اعلی سندھ ارباب غلام رحیم کے منہ پر جوتا دے مارا تھا۔اور اس واقعہ نے سیاست میں عدم برداشت کی پہلی اینٹ چنی تھی۔اس واقعے کے بعد ابتک اس دھرتی پر متعدد اخلاقیات سوز واقعات رونماء ہو چکے ہیں۔قیام پاکستان کے بعد ابتدائی عرصہ میں پاکستانی معاشرہ کی حالت اتنی پتلی نہیں تھی ۔جتنا آج ہمارا معاشرہ بد قسمتی سے عدم برداشت کے باعث تنزلی کا شکار ہے۔جس بات کو ہمارے سیاسی رہنما معمولی سمجھ کر لطف اندوز ہو رہے ہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے مستقبل قریب میں اس کے نتائج خطرناک بر آمد ہو سکتے ہیں۔ایسے واقعات کے باعث اخلاقی بگاڑ اس انداز سے معاشرہ میں سرایت کر چکا ہے کہ امانت‘ دیانت‘ صدق‘ عدل‘ ایفائے عہد‘فرض شناسی‘اور ان جیسی اعلی اقدار کمزور پڑتی جا رہی ہیں۔ نارووال میں وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملہ‘جاوید ہاشمی اور خواجہ آصف کے منہ پر سیاہی پھینکنے کے واقعات‘میاں نواز شریف پر جوتا پھینکنا‘عمران خان پر تھپڑوں سے حملہ یہ ایسے اخلاقیات سوز واقعات ہیں جو پاکستان کے قومی سیاسی منظر نامہ کو پوری دنیا میں گدلا کر رہے ہیں۔ابھی ان اخلاقیات سے عاری واقعات کی گرد سیاسی فضا کو تعفن زدہ کیے ہوئے تھی کہ ایک نجی ٹی وی کے ٹاک شو میں پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو برا بھلا کہنے پر تحریک انصاف کے مرکزی رہنما نعیم الحق نے وفاقی وزیر مملکت دانیال عزیز کے منہ پر الٹے ہاتھ کا تھپڑ جڑ دیا۔اس طوفان بد تمیزی پر مسلم لیگ ن کے رہنما کیپٹن(ر)صفدر نے کہا کہ یہ تھپڑ نعیم الحق نے دانیال عزیز کے منہ پر نہیں مارا بلکہ پارلیمان کے منہ پر مارا ہے۔اس واقعہ پر میاں نواز شریف نے کہا کہ یہ عمران خان کی تربییت کا نتیجہ ہے جبکہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے اس واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تنقید برداشت کرنے کے کلچر کو فروغ دینا چاہیے۔بحر حال یہ جو واقعہ ہوا ہے اس سے دنیا میں پاکستان کی نیک نامی میں اضافہ نہیں ہوا بلکہ جگ ہنسائی ضرور ہوئی۔دانیال عزیز کے مطابق یہ پری پلان تھا ۔اگر یہ پری پلان تھا تو اس کے پس پردہ کیا محرکات ہو سکتے ہیں تا حال تو کچھ کہا نہیں جا سکتا لیکن اس سے یہ اخذ کرنا دشوار نہیں کہ نعیم الحق جیسے کردار پاکستان کی سیاست کیلئے زہر قاتل ہیں جو پاکستان کے سیاسی امیج کو داغدار کر رہے ہیں۔اس واقعہ کی ویڈیو کو پی ٹی آئی کے نائب سیکرٹری جنرل عمران اسماعیل نے شےئر کرتے ہوئے پنجابی میں لکھا کہ ’’ہن آرام اے روک سکو تو روک لو‘‘ مجھے بڑے افسوس کیساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ ایسے واقعات کی پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کو حوصلہ شکنی کرنی چاہیے کیونکہ تحریک انصاف نصف صدی کے بعد ملک میں ایک قومی پارٹی کے طور پر ابھری ہے اور تبدیلی کے پروگرام کیساتھ آئندہ عام انتخابات میں اترنے کی تیاری کر رہی ہے۔بد قسمتی سے اگر ایسے افراد کے ہاتھ میں پاکستان تحریک انصاف کی میڈیا پر نمائندگی کا کلی اختیار سونپ دیا گیاتو جہاں تحریک انصاف کے سنجیدہ اور نظریاتی ووٹرز کو ایسی تبدیلی سے مایوسی ہو گی وہیں دنیا میں موجود اوورسیز پاکستانیوں کی آنکھوں میں دئیے کی طرح ٹمٹماتی تبدیلی کی لو ماند پر جائے گی۔کسی کی حمائت کرنا یا اختلاف کرنایہ انسانی فطرت میں شامل ہے ۔اس سے کوئی ذی شعور راہ فرار اختیار نہیں کر سکتا۔اپنا اپنا ہر انسان کا نقطہ نظر ہے جو دوسرے کو مائل کرنے کیلئے دلیل کا محتاج ہے۔ہماری سیاست کا احوال ایسا ہے کہ چوک‘چوراہوں‘پارلیمان اور ٹی وی ٹاک پروگرامز میں سیاسی دعویدار اپنے اپنے آقاؤں کی خوشنودی اور اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے غیر اخلاقی قبیح حرکات کے ذریعے اخلاقی حدود و قیود کا بھی خیال نہیں رکھتے جو کہ بڑی افسوسناک صورتحال ہے۔یہ وہ نمائندے ہیں جو ووٹرز کے تقدس کو سر بازار پامال کر رہے ہیں۔کسی بھی سیاسی پارٹی کی صفوں کو ٹٹول کر دیکھ لیں آپ کو جا بجا ایسے کرداراخلاقی اقدار کو اپنے غیر شائشتہ رویوں اور حرکات سے بلڈوز کرتے کرتے نظر آئیں گے۔ نعیم الحق کی شخصیت سے جڑا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے اس سے قبل ایک ٹی وی ٹاک شو میں اپنے حواس پر قابو نہ رکھ سکے اور پیپلز پارٹی کے جمیل سومرو پر پروگرام کے دوران پانی کا گلاس پھینک دیا۔جب سپریم کورٹ میں پانامہ کا کیس زیر سماعت تھا تب یہ عوامی تحریک کے رہنما خرم نواز گنڈا پور سے الجھ پڑے تھے۔کسی بھی سیاسی جماعت کے رہنما کے ایسے کردار کو گو پارٹی میں تو پذیرائی ضرور ملتی ہو لیکن معاشرے میں ایسے کردار و عمل کے انسان کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔پاکستان میں موجود سیاسی جماعتوں کا سب سے بڑا یہ المیہ بھی ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کے اندر سیاسی ورکرز کی تربیت کیلئے کوئی ادارہ موجود نہیں ہے جو سیاسی کارکن کی گرہ سے سیاسی آداب کا ضابطہ اخلاق باندھ سکے۔یہی وجہ ہے کہ عدم تربیت کے باعث ہر الیکشن میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ضابطہ اخلاق کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔پاکستان میں موجود سیاسی جماعتیں اگر سنجیدہ ہیں کہ مستقبل میں سیاسی منظر نامہ میں ایسے اخلاقیات سوز واقعات سر نہ ابھاریں تو پارٹیوں کے اندر تربیتی ادارے قائم کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ یہ ادارے ایسے افراد تیار کر سکیں جو مکمل سیاسی شعور کیساتھ پارٹی کا پیغام عام کر سکیں۔پاکستان کی سیاسی تاریخ کے اوراق اس بات کے غماز ہیں کہ ہمارے سیاسی رہنما ؤں کی اکثریت اخلاقیات سے عاری ہی رہی۔پاکستان میں جتنی بھی متحرک سیاسی جماعتیں موجود ہیں انہوں نے آج تک ایسے اخلاقیات سوز واقعات پر ایکشن نہیں لیا جس کے باعث ایسے واقعات تواتر کیساتھ دیکھنے میں آرہے ہیں۔جو کہ پاکستان کی سیاست کیلئے اچھا شگون نہیں ہے۔ان حالات میں یہ سوال بڑی شدت کیساتھ اپنی جگہ قائم ہے کہ سیاسی جماعتوں کے قائدین نسل نو کے دل و دماغ میں ایسی منفی طرز سیاست کے ذریعے کس قسم کے سیاسی شعور کی آبیاری کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں۔سیاسی جھومر کو داغدار کرتے یہ حالات سیاسی قائدین کیلئے غور و فکر کے متقاضی ہیں۔پارٹی رہنماؤں کی شخصیت تقلیدی ہوتی ہے۔انکے بیشمار فالورز ہوتے ہیں جو انکے کردار و عمل کے نشیب و فراز پر گہری نظر رکھتے ہیں۔اس لئے سیاسی جماعتوں کے قائدین کو چاہیے کہ ایسے افراد کا چناؤ عمل میں لائیں جو پارٹی نظریات اور منشور کو دلیل سے گندھے خیالات کیساتھ پیش کر سکیں اور پارٹی کی حرمت پر قدغن نہ آنے دیں تا کہ ووٹرز کی سوچ کی اپروچ کو تقویت مل سکے۔اگر سیاسی جماعتوں کے قائدین اخلاقی تنزلی کے آگے بند نہ باندھ سکے تو پھر ایسا نہ ہو کہ گالی‘تھپڑ‘جوتے کی حدیں کراس کرتی گولی کی سیاست اخلاقی اقدار کے جھومر کو لہو سے تر کر جائے۔۔۔!!!


ای پیپر