خلائی مخلوق او ر پِٹھو گول گرم
28 مئی 2018 2018-05-28

جب سے پاکستانی سیاست میں خلائی مخلوق کا غلغلہ بلند ہوا ہے بچپن کی پڑھی ہوئی کہانیاں ، لڑکپن میں سائنس فکشن پر دیکھی ہوئی فلمیں اور اسی عمر میں کھیلے ہوئے کھیل بارِ دگر یاد آنے لگے ہیں۔ سائنس فکشن پر مبنی فلمیں دیکھ کر تو یہ معلوم ہوتا تھا کہ خلائی مخلوق کہیں نہ کہیں موجود ہے اور گاہے بگاہے زمین پر قدم رنجا فرماتی ہے کہیں سے فضا میں اُڑن طشتریاں دیکھائی دینے کی خبر بھی اُڑ جاتی مگر حقیقی معنوں میں انہیں کبھی زمین پر اترتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ ہمارے تین بار کے بے بدل بلکہ بیدخل اور نااہل وزیرِ اعظم نے ان کا زمین پر اعتراف کر کے یار لوگوں کو موضوعات کا خزانہ عطا کر دیا ہے حالانکہ اس سے قبل ملکِ عزیز میں صرف فرشتوں کی موجودگی کا اعتراف سُننے میں آتا رہتا تھا۔

دنیا کے مشہور خلائی تحقیقی ادارے ’’ ناسا ‘‘ کا قیام 1958 کو عمل میں آیا۔ عجیب اتفاق یہ ہے کہ ہمارے ہاں بھی ’’ نا خدائی‘‘ کے دعوے دار ایک ادارے کا وجود بھی 1958 ہی میں عمل میں لایا گیا۔ بعد ازاں ’’ ناخدائی‘‘ کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ میاں صاحب اور اسی قبیل کے دیگر سیاستدان اب خدا خدا کر رہے ہیں۔ اس ناخدائی کے ذریعے خلائی مخلوق نے نہ صرف خود مشن مکمل کئے بلکہ بعض ’’نو آموز‘‘ سیاستدانوں جن میں ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر نواز شریف تک ایک طویل فہرست موجود ہے ان میں سے بیشتر کو ’’اقتداری سیارچے ‘‘ پر قدم رکھنے کے مشن سونپے گئے۔

آج کل سابقہ وزیرِ اعظم اپنی تقاریر میں جس کرب اور دُکھ سے خلائی مخلوق اور دیگر حوالوں کا ذکر کر رہے ہیں اسے سُن کر اور انہیں دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ ٹریجڈی اور المیہ کے بڑے بڑے فنکار بھی اپنی اداکاری سے حقیقی رنگ نہیں بھر سکے ۔ ان کی تقاریر سن کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان پر ساتوں آسمان ٹوٹ پڑے ہیں۔ اصل میں قصور میاں صاحب کا اپنا ہے یا ان میں کچھ مینوفکچرنگ فالٹ یعنی پیدائشی نقص ہے جب اقتدار کی مسند پر کُلی طور پر فائز ہو جاتے ہیں تو اقتدار کے نشے میں چور ہو کر آپے سے باہر ہو جاتے ہیں ۔ جب یہ نشہ آخری حدوں کو چھوتا ہے تو پھر آپے میں نہیں رہتے بقول یاس یگانہ چنگیزی

خودی کا نشہ چڑھا ، آپ میں رہا نہ گیا

خُدا بنے تھے یگانہ مگر بنا نہ گیا

ایسے حالات میں میاں صاحب آ بیل مجھے مار کے عملی مظاہرے پر اُتر آتے ہیں چونکہ خلائی مخلوق کی ایک ہی آنکھ ہوتی ہے تو وہ پھر وہی سلوک کرتی ہے جو مہاراجہ رنجیت سنگھ کیا کرتا تھا۔

سابقہ وزیراعظم کا انجام پہلی بارایسا نہیں ہوایہ تیسری بار اس کا شکار ہوئے ہیں۔ اصل میں سب نشوں میں سے اقتدار کا نشہ سب سے اعلیٰ ہے اورجو اس کے گھیراؤ میں آ گیا وہ اسی کا ہو کر رہ گیا۔ مسلمان بادشاہوں کی ساری تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ میاں صاحب کو اقتدار سے اذلی محبت ہے ۔خود کو گھیر گھار کر ایسی حالت میں لے آتے ہیں کہ منیر نیازی کے کہے ہوئے کو سچ ثابت کر دیتے ہیں

میں جس سے پیار کرتا ہوں اُسی کو مار دیتا ہوں

اور اسی اقتدار ی محبت نے انہیں ہمیشہ بَلی پہ چڑھایا ہے

میاں صاحب اقتدار سنبھالتے ہی خود کو حقیقی شیر سمجھنا شروع کر دیتے ہیں اور ایسا دھاڑتے ہیں کہ اصلی شیر نے بھی کبھی ایسا دھاڑا نہیں ہوگا حالانکہ اصلی شیر اور سرکس کے شیر میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ سرکسی شیر ٹرینر ماسٹر کے اشاروں ابرؤں پر چلتا ہے اور یہی سرکسی شیر جب ’’ سرکشی شیر‘‘ بنتا ہے تو ٹرینر ماسٹر اسے اپنی اوقات میں لے آتے ہیں۔

آج کل وہ جس بیانیے کے بل بوتے پر مار دھاڑ والی تقاریر کر رہے ہیں شاید انہیں اس کا اندازہ نہیں ہے کہ یہ اُن کے لیے کتنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس دفعہ ’’ قلعی گروں ‘‘ نے پرانے بھانڈے (برتن) پھر سے قلعی کرنے سے نہ صرف انکار کر دیا ہے بلکہ کباڑ خانے کی طرف بھی لُڑکھا دیئے ہیں۔

سابقہ وزیراعظم نے ایک حالیہ بیان میں ایک دوسرے سیاستدان کو خلائی مخلوق کا پٹھو قرار دیا ہے حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ پٹھو کون رہا ہے ۔ پانچ بار صوبائی اور مرکزی حکومتوں میں رہنے والے کو ایسا بیان زیب نہیں دیتا ۔ ہماری ملکی تاریخ گواہ ہے کہ پٹھو بنے بغیر کوئی بھی کسی مٹھو بلکہ ’’ میاں مٹھو ‘‘ کو چُوری نہیں ڈالتا سو میاں صاحب اس بار ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنی چُور ی خود ہی ختم کرا بیٹھے ہیں۔

پٹھو سے یاد آیا ہے کہ میاں صاحب کے بچپن میں بڑے دلچسپ کھیل کھیلے جاتے تھے جن میں کوکلا چھپاکی اور پٹھو گول گرم وغیرہ شامل تھے۔ ان کھیلوں کو میاں صاحب کی زندگی پر اپلائی کر کے دیکھیں تو سو فیصد پورا اُترتے ہیں۔ ’’ کوکلا چھپاکی جمعرات آئی ہے جنہے پچھے مُڑ کے ویکھا اوس دی شامت آئی اے ‘‘ میاں صاحب کے گزشتہ ٹریک ریکارڈ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کہہ سکتے ہیں کہ ان کا سیدھے سبھاؤ بیٹھنا ہمیشہ مشکل رہا ہے بس ان کا پیچھے مُڑ کر دیکھنا ان کے لیے شامت لے آتا ہے ۔ ان کی ’’جمعرات ‘‘ ہمیشہ ان کے اقتدار کے تیسرے یا چوتھے سال میں آن کھڑی ہوتی ہے سو وہ اسی شامت کی بنا پر یوسفِ بے کارواں ہو کر اکیلے پھر رہے ہوتے ہیں۔

پٹھو گول گرم بھی نہایت دلچسپ کھیل ہے چند ٹھیکریوں کو ترتیب سے اُوپر تلے رکھا جاتاہے پھر ایک ماہر نشانہ باز گیند سے ان کا نشانہ لیتا ہے اور یوں کھیل کا آغاز ہو جاتا ہے۔ میاں صاحب جس مخلوق کا ذکر کر رہے ہیں وہ ماہر نشانہ باز تو ہیں ہی مگر پٹھو رکھنے میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں ایسا پٹھو رکھتے ہیں کہ بھلائے نہ بھولے۔سابقہ وزیرِ اعظم کے اقتدار کی ٹھیکریاں ایک ہی نشانے سے ایسی بکھری ہیں کہ اب ان کو ترتیب دینا مشکل ہے ۔ اس دفعہ یہ پٹھو گول گرم ہی نہیں بلکہ خاصا گرما گرم ہے اور یہی گرمی انہیں پگھلائے جا رہی ہے اور آپے سے باہر کر رہی ہے۔


ای پیپر