پاکستان کے اندھے عاشق
28 مئی 2018

کبھی کسی غریب کے کام کے اوقات دیکھیں اور اس کی معاشرے میں اوقات دیکھیں معاشرے کی بے ہودگی کی حد تک بے حسی اور ناانصافی ظاہر ہوجائے گی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ عزت کو پیسے سے مشروط کرکے ہم نے اس غریب سے عزت اور ناموس بھی چھین لی ہے لیکن ملک خداداد پاکستان میں جو مسلمانوں کی اس سلطنت کا سچا عاشق ہے وہ کوئی اور نہیں یہی غریب طبقہ ہے جو اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ بمشکل پالتا ہے سرکاری تعلیمی اداروں میں بچوں کو پڑھاتا ہے اور جب بچے کچھ بننے کی بجائے اس جیسے غریب اور مفلس ہی بن جاتے ہیں تو تقدیر پر ڈال کر دال روٹی سے جوانی جیسا بڑھاپا گزارنے کی ٹھان لیتا ہے اور اگر مشیت الٰہی سے کوئی بڑی بیماری گھیرا ڈال لے تو سرکاری ہسپتالوں میں اسے ایک پورا بستر بھی نہیں ملتا اور جب ملک کا ناقص نظام اسے صحت جیسی بنیادی ضرورت
سے محروم کرتا ہے تو اسے بھی اللہ کی مرضی سمجھ کر خاموشی سے مر جاتا ہے۔ اس کے لواحقین کو تدفین کی فکریں یوں گھیرتی ہیں کہ انھیں یاد ہی نہیں رہتا کہ انکا بنیادی حق حکومت وقت نے چھین کر ان کا ایک اور پیارا ان سے چھین لیا ہے اور یہ پاکستان کا سچا عاشق ایڑیاں رگڑتے رگڑتے اس لیے مرا ہے کہ چند بااثر گھرانوں کے بچوں کو دولت سے عشق ہے۔
یہ وہی غریب محکوم ہے جو اگست کی چودہ تاریخ کو آسودہ حال طبقے کو جشن آزادی مناتا دیکھ دل ہی دل میں آزادی مناتا ہے انتخابات قریب ہوں تو کرائے پر نعرے لگانے کے لیے دھر لیا جاتا ہے اور اکثر اوقات بریانی کی ایک پلیٹ پا کر پھولے نہیں سماتا۔
یہ عجیب عاشق ہے جسے زندگی ذرا سی ملتی ہے جینے کے لیے صرف آس اور دلاسوں کے سوا صاف پانی تک نہیں ملتا۔ اکثر سر ڈھانپنے کو چھت نہیں ہوتی اور ڈھنگ سے بدن ڈھانپنے کو پرانے کپڑے بھی بمشکل میسر آتے ہیں۔ کہیں یہ مزدور کے روپ میں دن رات پسینہ بہاتا ہے اور کہیں نہ کہیں وطن کا کوئی نہ کوئی تعمیری عمل عملی طور پر اپنے پسینے سے سینچتا ہے تو کہیں یہ ایک عام سپاہی کے طور پر دشمن کی گولیوں کے سامنے سینہ سپر ہو جاتا ہے دشمن کی پہلی گولی چلتی ہے تو مادر وطن کے اس عاشق پر چلتی ہے اور ہر بار یہ عشاق پہلے سے بڑھ کر اپنی دھرتی کے جانباز بیٹوں کی طرح جانیں نچھاور کرتے ہیں شہید ہو جائیں تو گمنام شہید اور بچ جائیں تو گمنام سپاہی لیکن جذبہ حب الوطنی میں اپنے افسروں کو بھی ہر دم حیران اور پر جوش کیے دیتے ہیں اس عاشق کا ایک روپ بہت ہی سنہرا ہے۔ یہ غریب سرکاری سکول کا ٹیچر ہے بچوں کو وطن سے محبت کوٹ کوٹ کر سکھاتا اور ان کے دلوں میں کوٹ کوٹ کر بھرتا ہے۔ علم بستی کے بچوں میں بانٹ کر جب گھر جاتا ہے تو بنیادی سہولیات سے عاری اس کی زندگی نچلے درجے کے کسی اچھوت سے بڑھ کر نہیں ہوتی سب سے زیادہ تکلیف دہ بات تو یہ ہے کہ اکثر خود اس کے اپنے بچے وسائل نہ ہونے کے باعث اعلیٰ تعلیم سے محروم رہتے ہیں
یہ بھٹیوں میں جلتا ہے فیکٹریوں میں اس کی زندگی ایندھن بن کر فیکٹریاں چلاتی ہے ملوں میں ان عشاق کو کام کر کر کے چمڑی کے عوض دمڑی نہیں ملتی یہ سڑکوں پر
اپنی جوانیاں لگا کر روانیاں پیدا کرتے ہیں دو ٹکے کے عوض زندگی کسی ٹرک یا بس کی ڈرائیونگ سیٹ پر گزار دیتے ہیں اور اس کے عوض اسکی اولاد جوان ہو کر اسی کام میں جت جاتی ہے۔
یہ جوتے گانٹھے، کھیت میں جتا رہے ، کسی کے مویشی سنبھالتا رہے ، گھر گھر کوڑا اٹھاتا پھرے ، راتوں کو گلیوں کی چوکیداری کرے ، منڈیوں میں سبزیوں کے ٹوکروں سے لے کر کوئلے کے ٹالوں میں چاکری کرے ، مٹی کے برتن بنائے یا لکڑی کے فرنیچر ، ٹریفک کا انصرام ٹھیک کرنے کو چلچلاتی دھوپ برداشت کرے یا پروٹوکول کی گاڑیوں میں وقت کے فرعونوں کے آگے پیچھے بھاگتا پھرے یہ مزدورِکہن عاشق وطن ہے۔ سچا عاشق ۔ جس کے بغیر نہ کاروبار حیات چل سکتا ہے نہ یہ ملک خداداد چل سکتا ہے
لیکن افسوس صد افسوس کبھی کسی حکومت نے اس غریب طبقے کیلئے نعروں اور وعدوں کے سوا کچھ نہیں کیا۔ ان غریبوں کی آہیں جب تک عرشِ معلیٰ تک پہنچتی رہیں گی تو ترقی نہیں بے برکتی آئے گی آسودگی اور سکینت نہیں بلکہ نحوست چھائے گی۔ ملک میں وہ آسودہ حال طبقہ جو وطن سے محبت کے نت نئے دعوے کرتا نہیں تھکتا وہ سب دعوے اور وعدے نبھاتا ملک کا یہی غریب عاشق ہے۔ وطن سے عشق کے دعوے امیر کرتا ہے لیکن عاشق بن کر دکھاتا غریب ہے
اس ملک کے پچاسی فیصد عوام باقاعدہ سطح غربت سے نیچے بنیادی سہولیات سے محروم زندگی گزارتے ہیں مگر ملک سے پیار کرنا نہیں چھوڑتے۔ اس ملک کے ڈھائی کروڑ بچے سکول نہیں جاتے اور مزید دو کروڑ بچے معیاری تعلیم سے محروم ہیں لیکن اس ملک کے امراء کے بچے بیرون ملک تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اس ملک کے کسی غریب بزرگ کو کبھی کسی سرکاری ہسپتال میں صحت کی کوئی معیاری سہولت عزت و احترام سے نہیں ملی مگر اس ملک کا کوئی ایک سربراہ ایسا نہیں جس نے خود یا اپنے خاندان کا علاج ملک میں کروایا ہو۔ امراء کو وطن سے محبت نبھانی نہیں آئی اور ان غریب عشاق کو وطن عزیز کے سوا کوئی ریاست کبھی پسند نہیں آئی۔ اعداد و شمار کے مطابق ان غریبوں نے مزدوری کے لیے اگر کبھی رخت سفر پاندھا تو 92فیصد غریب مزدور ملک میں واپس آئے لیکن مڈل کلاس اور اپر کلاس میں ہجرت کا رجہان بالترتیب ہر نچلے طبقے سے زیادہ رہاہے۔ بم دھماکوں سے لیکر دہشت گردی کی بھینٹ چڑھنے والے 80 فیصد افراد اسی غریب طبقے کا حصہ تھے لیکن آفرین ہے اس قوم کے سپوتوں پر جو بدترین حالات میں بھی کام کرتے رہے اور ڈپریشن زدہ ماحول میں ڈپریشن کا شکار نہیں ہوئے۔
اگر اس اندھے گونگے بہرے عاشق کو کوئی ایسا لیڈر مل جائے جو اس طبقے میں حقوق مانگنے کی جوت جگادے تو یقین مانئے یہ ملک ترقی پذیر ممالک کی صف سے نکل کر ترقی یافتہ ممالک کی صف میں قدم جما لے گا۔ اگر یہ اندھا عاشق یہ دیکھنے کے قابل ہو جائے کہ ملک میں تبدیلی کیسے لانی ہے۔ اگر اسے یہ شعور آجائے کہ آواز کیسے بلند کرنی ہے تو یہ وفاداروں کا ہجوم ایک ایسی بے مثال قوم بن جائے جس میں کسی لبرل، کسی ملاّ، کسی لٹیرے سیاستدان کو اپنی کھوکھلی توجیہات کی دکان کھولنے کی جرأت نہ ہو اور چور بازاری سے غریب عوام کا استحصال کرنے والے کاروباری طبقے کی دکان بند ہو جائے۔ پاکستان کے اس اندھے عاشق کو دیدہ بینا کی ضرورت ہے اور وہ ایک مخلص اور بیدار مغز لیڈر ہی کرسکتا۔ دیکھئے اندھے عشاق کا یہ ہجوم بیدار ہوکر باشعور قوم کب اور کیسے بنتا ہے۔ ابھی تو ان اندھے عاشقوں کو یہ ادراک تک نہیں کہ روز و شب جن حالات میں وہ روزی کمانے کے لیے اپنا آپ مار رہے ہیں وطن پرستی کی لازوال مثال ہے۔


ای پیپر