فاٹا کے انضمام پر افغانستان کو اعتراض کیوں ؟
28 مئی 2018 2018-05-28

پاکستان کی قومی اسمبلی نے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کی آئینی ترمیم منظور کر لی ۔ آئینی ترمیم کے حق میں 229 ووٹ آئے جبکہ ایک رکن نے اس کی مخالف کی۔اس موقع پر ایوان میں حکومت اور اپوزیشن کے ارکان کی بڑی تعداد موجود تھی۔ پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان بھی ایک طویل عرصے کے بعد ایوان میں آئے۔
خیبر پختونخوا کا حصہ بننے والے فاٹا کے علاقوں میں مہمند ایجنسی، باجوڑ ایجنسی، کرم ، شمالی اور جنوبی وزیرستان، خیبر اور اورکزئی ایجنسیوں کے علاوہ ایف آر پشاور، ایف آر بنوں، ایف آر کوہاٹ، ایف آر لکی مروت، ایف آر ڈیرہ اسماعیل خان اور ایف آر ٹانک کے علاقے شامل ہیں۔خیبر پختونخوا کا حصہ بننے والا ’پاٹا‘ علاقوں میں چترال، دیر، سوات، کوہستان، مالاکنڈ اور مانسہرہ سے منسلک قبائلی علاقہ شامل ہیں۔بلوچستان کا حصہ بننے والے پاٹا علاقوں میں ضلع ژوب، دکی تحصیل کے علاوہ باقی ضلع لورالائی، ضلع چاغی کی تحصیل دالبندین، ضلع سبی کے مری اور بگتی قبائلی علاقے شامل ہیں۔
بل کی منظوری کے بعد پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ فاٹا کے انضمام کے لیے قانون سازی آسان کام نہیں تھا لیکن تمام سیاسی جماعتوں نے اس پر اتفاق رائے کر کے آئینی ترمیم کی منظوری دی۔ اسمبلی کی مدت مکمل ہونے سے پہلے پہلے فاٹا کے انضمام کے لیے قانون پاس کیا تاکہ کہیں اس کی وجہ سے الیکشن میں تاخیر نہیں ہو۔ آئینی ترمیم کے ذریعے 100 برس سے زیادہ عرصے تک قبائلی علاقہ جات میں نافذ رہنے والے قانون فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن یا ایف سی آر کو بالاخر ختم کر دیا گیا ہے۔اس قانون میں سزا یافتہ شخص کو ایپل کا حق نہ ہونے وجہ سے اسے انسانی حقوق سے متصادم بھی قرار دیا جاتا رہا ہے۔
فاٹا اصلاحات بل کے مطابق قبائلی علاقہ جات کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد قومی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد 342 سے کم کر کے 336 کر دی جائے گی۔ انضمام کے بعد قومی اسمبلی میں قبائلی علاقوں کی 12 نشستیں ختم کر دی جائیں گی جبکہ اس کی جگہ خیبر پختونخوا سے قومی اسمبلی کی چھ نشستیں بڑھ جائیں گی۔ تاہم اس تبدیلی کا اثر 2018 کے عام انتخابات پر نہیں ہو گا۔ انضمام کے بعد قومی اسمبلی میں خیبر پختونخوا کی نشستوں کی تعداد 45 ہو جائے گی جبکہ اس کے علاوہ بلوچستان کی 16، پنجاب کی 141، سندھ کی 61 اور وفاقی دارالحکومت کی تین نشستیں ہوں گی۔ ترمیم کے مطابق 2018 کے عام انتخابات کے مطابق فاٹا سے منتخب ہونے والے ارکان اسمبلی اپنی مدت پوری کریں گے۔ فاٹا سے سینیٹ کی آٹھ نشستیں بھی ختم کر دی گئی ہیں جس کے بعد اب سینیٹ کے ارکان کی تعداد 96 رہ جائے گی تاہم موجودہ سینیٹ میں فاٹا کے منتخب ارکان اپنی مدت پوری کریں گے۔ خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی میں قبائلی علاقہ جات کے لیے 16 عام، خواتین کی چار اور غیر مسلموں کی ایک نشست رکھی گئی ہے جن کے لیے انتخاب 2018 کے عام انتخابات کے ایک سال کے اندر اندر ہوگا۔ پشتون تحفظ موومنٹ پی ٹی ایم ایک نئی مزاحمتی تحریک ہے جو پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں نقیب اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد معرضِ وجود میں آئی۔ اس تحریک کا مرکز ملک کا شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ ہے۔ جس طرح فضل اللہ نے اپنے ریڈیو کے ذریعے نفرت پھیلائی تھی بالکل اسی طرح اس تحریک کے لوگ بھی میڈیا اور سوشل میڈیا کو استعمال کر کے ملک کے طاقت ور ترین ادارے کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس طرح کے الزامات صرف آرمی کو بدنام کرنے کے لیے لگائے جارہے ہیں۔ انہوں نے قربانیاں دے کر ملک میں امن قائم کیا۔ جنوبی اور شمالی وزیرستان میں درجنوں ترقیاتی منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچے۔طالبان کو ختم کیا۔ اب یہ کہتے ہیں کہ چیک پوسٹیں ختم کر دی جائیں تا کہ طالبان دوبارہ آجائیں اور ملک ایک بار پھر بدامنی کا شکار ہوجائے۔ اس تحریک کا ایک بڑا مطالبہ فاٹا کا کے پی کے میں انضمام تھا جو پورا ہو چکا ہے ۔ اس کے علاوہ جس بنیا د پر یہ تنظیم قائم ہوئی یعنی نقیب اللہ محسود کی ہلاکت کی تحقیقات ، تو اس ضمن میں بھی بہت پیش رفت ہو چکی ہے۔ قتل کا مبینہ ملزم گرفتار ہو چکا ہے اور اس پر مقدمہ چل رہا ہے۔
پاکستان نے فاٹا کے انضمام پر افغان پریس ایجنسی کی جانب سے افغان قیادت سے منسوب بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا کے انضمام پر ہماری پارلیمان کا فیصلہ قبائلی علاقوں کے عوام کی امنگوں کے عین مطابق ہے۔ افغانستان کی جانب سے دو طرفہ تعلقات کے عمل میں مداخلت نہ کرنے کے اصولوں پر عمل نہ کرنا افسوسناک ہے۔ افغان میڈیا کے مطابق گزشتہ روز کابل حکومت نے فاٹا کے خیبرپختون خوا میں انضمام پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے پاکستانی حکومت کے فیصلے کو مسترد کردیا تھا۔
یہ طرفہ تماشا ہے کہ فاٹا اصلاحات بل کے ذریعے فاٹا کے خیبر پی کے میں انضمام کیلئے حکمران مسلم لیگ (ن) کے آمادہ ہونے کے بعد حکومتی حلیف دو جماعتوں جمعیت علماء اسلام (ف) اور پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی کے قائدین مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی نے کے پی کے میں فاٹا کے انضمام کی مخالفت کا بیڑہ اٹھالیا جبکہ ان دونوں جماعتوں کو کے پی کے میں نمائندگی حاصل ہے۔ انہوں نے محض اپنی انفرادی مفاداتی سیاست کے تحت یہ شوشہ چھوڑا کہ فاٹا کے عوام کے پی کے میں انضمام کے بجائے اپنے الگ صوبے کی تشکیل چاہتے ہیں جبکہ فی الحقیقت فاٹا کے عوام کی غالب اکثریت خود کو کے پی کے میں شامل کرنے کی خواہش مند رہی ہے جس کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے کہ انکے نمائندہ ارکان اسمبلی اور وہاں نمائندگی رکھنے والی دوسری سیاسی جماعتوں تحریک انصاف‘ اے این پی‘ پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی کی جانب سے بیک آواز فاٹا کے خیبر پی کے میں انضمام کیلئے آواز اٹھائی گئی۔ اس تناظر میں مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی محض اپنی تھانیداری قائم کرنے کی خاطر فاٹا کا الگ صوبہ بنانے کی وکالت کرتے رہے ہیں تاکہ وہاں کی مجوزہ اسمبلی اور حکومت میں وہ اقتدار کے مزے لوٹ سکیں۔ مولانا فضل الرحمان کی جمعیت علماء اسلام کا پس منظر بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں جس کے قائدین قیام پاکستان کی اعلانیہ مخالفت کرتے رہے جبکہ قیام پاکستان کے بعد مولانا فضل الرحمان کے والد محترم مفتی محمود نے اعلانیہ اس امر پر اظہار تشکر کیا تھا کہ وہ پاکستان کے قیام کے ’’گناہ‘‘ میں شریک نہیں ہوئے۔ اپنے اس ماضی کی بنیاد پر ہی یہ دونوں حکومتی حلیف پاکستان کی جڑیں کبھی مضبوط ہوتا نہیں دیکھ سکتے۔ اسی تناظر میں مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی فاٹا کے انضمام کیلئے اب تک حکومت کے اٹھائے گئے ہر اقدام کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔
اب 31ویں آئینی ترمیم کی شکل میں اس بل کی منظوری سے جہاں فاٹا کے عوام کا دیرینہ مطالبہ منظور ہوا ہے‘ وہیں کے پی کے کے ایک مستحکم صوبے کے قالب میں ڈھل کر وفاق کی ایک مضبوط اکائی بننے کا امکان بھی روشن ہوگیا ہے۔ اپنی آئینی میعاد مکمل کرنیوالی قومی اسمبلی کی جانب سے کی گئی یہ آخری آئینی ترمیم بلاشبہ اس کا بڑا کارنامہ ہے جس پر پوری پارلیمان مبارکباد کی مستحق ہے۔


ای پیپر