جاسوسی ادب سائبان سے محروم !
28 مئی 2018 2018-05-28

’’میں نے اتنی بڑی تعداد میں ناول اپنی قوت خیال کے زور پر لکھے ہیں کیونکہ جب خیال کو قوت مل جاتی ہے تو جیسے آپ کو پر لگ جاتے ہیں اب یہ آپ پر ہے کہ آپ کہاں تک اُڑ سکتے ہیں۔ قوت خدا کی دین ہے تھوڑی بھی ہو سکتی ہے اور زیادہ بھی اس میں مطالعہ لازمی جزو ہے، مطالعہ اور مشاہدہ تخیل کو پر لگا دیتے ہیں جتنا عمیق مطالعہ ہو گا جتنا مشاہدہ تیز ہوگا جب ان ساری قوتوں میں تخیل بھی شامل ہو جائے تو پھر کوئی ایسی چیز ہی بنے گی جو لوگوں کے لئے حیران کن ہوگی۔‘‘مظہر کلیم نے یہ الفاظ اپنے ایک انٹرویو میں کہے تھے اور صاحب علم سوچ کی طاقت سے واقف ہیں۔بلکہ کامیابی و ناکامی کا دارومدار سوچ پر ہی ہوتا۔انسان کے اعمال بھی سوچ کے تابع ہوتے ہیں۔خیال کے تابع ہوتے ہیں۔جیسا کہ غالب نے کہا ہے کہ۔عالم تمام حلقہ دام خیال ہے۔
آب زر سے لکھے جانے والے یہ الفاظ تقریبا سات سو کے قریب عمران سیریز لکھنے والے ملک کے صف اول کے تخلیق کار مظہر کلیم ایم اے کے ہیں ۔ جاسوسی ادب میں ابن صفی کے بعد مظہر کلیم ایم اے کو جو شہرت حاصل ہوئی اس کی مثال مشکل ہی نہیں ناممکن ہے ۔انہوں نے عمران کے کردار کو نہ صرف موجودہ عہد بلکہ آنے والے عہد میں لکھا ہے ۔عمران کے کردار کی تخلیق کا بڑا دلچسپ واقعہ ہے ۔ہوا ایسا کہ چند ادیب بیٹھے ادب بارے گفتگو کر رہے تھے ان میں ابن صفی بھی شامل تھے ۔زیادہ اس رائے کے حق میں تھے کہ ادب عشق و محبت کے علاوہ کچھ نہیں ۔لیکن ابن صفی نے اس بات پر اختلاف کیا ۔اور بعد ازاں عمران کا کردار متعارف کروایا ۔جو عشق ومحبت میں ان ادبا سے بھی دو قدم آگے تھا لیکن یہ محبت زمین سے تھی اپنے وطن سے تھی ۔اس میں مزاح بھی تھا اور ادبی چاشنی کے ساتھ جاسوسی بھی تھی ۔ہم میں سے شائد ہی کوئی ایسا ہوجس نے بچپن میں عمران سیریز نہ پڑھی ہو۔ہزاروں نے لکھنا ابن صفی کو پڑھ کر سیکھا ۔یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے ۔ابن صفی کے وفات کے بعد یک دم بہت سے جعلی ابن صفی وجود میں آ گئے انہوں نے اپنے نام کے ساتھ صفی کا لاحقہ بھی لگایا ۔انہی دنوں مظہر کلیم ایم اے بھی اس میدان میں کودے اور دیکھتے ہی دیکھتے چھا گئے ۔اب جب بھی عمران سیریز کا ذکر ہوتا ہے تو دو نام ہی قابل ذکر ہیں ابن صفی اور مظہر کلیم ایم اے ۔
مظہر کلیم 22 جولائی 1942ء کو پاکستان کے شہر ملتان میں پیدا ہوئے۔والد حامد یار خان ایک پولیس آفیسر تھے ۔ملتان اسلامیہ ہائی اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ جامعہ ملتان (حالیہ جامعہ بہاء الدین زکریا) سے اردو ادب میں ایم اے پھر صحافت کی طرف آئے ۔اصل نام مظہر نواز خان تھا لیکن قلمی نام مظہر کلیم ایم اے کے نام سے شہرت پائی۔ ملتان سے ایک روزنامہ ’’آفتاب‘‘ شائع ہوتا تھا 3 سال کالم ’’تماشا میرے آگے‘‘ بھی اسی اخبارکے ادارتی صفحہ پر چھپتا رہا۔ صحافت کے دوران ہی میں ایل ایل بی کر لیا تھا، 78ء کے قریب اخبار کی ملازمت چھوڑ کر کل وقتی وکالت شروع کر دی۔اور جز وقتی ناول نویسی ۔ناول نویسی کی طرف آنے کا بھی ایک معمولی سا حادثہ بنا ۔ان کے دوست بی اے جمال تھے ، انہوں نے بوہڑ گیٹ میں اپنی ایک لائبریری اور ایک پبلشنگ ہاؤس بنا رکھا تھا، وہ اپنے ادارے کی طرف سے جاسوسی ادب شائع کرتے رہتے تھے۔
ابن صفی کی وفات کے بعد ایک دن انہوں نے جاسوسی ادب میں دو نمبری کا ذکر کیا تو مظہر کلیم صاحب نے کہا میں ناول لکھ دیتا ہوں لیکن میرے نام سے شائع ہونا چاہیے ۔اس طرح انہوں نے زندگی کا پہلا جاسوسی ناول ’’ماکا زونگا‘‘ لکھا جو افریقی قبائل کے پس منظر میں تھا۔اس کے بعد یہ سفر ان کی وفات تک جاری رہا ۔ان کے ناول فحاشی سے بالکل پاک ہوتے ہیں ۔
میرے خیال میں ابن صفی کے بعد جاسوسی ا دب کو مزیدوسعت مظہر کلیم ایم اے نے دی ۔انہوں نے بہترین ادب لکھا۔ان کے موضوعات میں تنوع تھا ۔ان کے ناولز میں خاص بات سائنس کا ٹچ تھا ۔انہوں نے ایسی ایسی ایجادات کے بارے میں لکھا جو بعد میں ایجاد ہوئیں ۔ان کا ہر ناول 50 سے 60 ہزار کی تعداد میں شائع ہوتا رہا ۔بچوں کے لیے انہوں نے آنگلو بانگلو سیریز شروع کی تھی ۔اس پر بھی انہوں نے کافی ناولز لکھے ۔ابن صفی چونکہ عمران سیریز کے خالق ہیں اس لیے ان کا مقام اپنی جگہ ہے لیکن جناب مظہرکلیم ایم اے نے ان کرداروں پر جتنا کام کیا ہے اس کی مثال ہی نہیں ملتی۔
اس وقت پاکستان میں شاید ہی کوئی اور ناول نگار ہو جو ان کی جگہ لے سکے ۔ان کے علاوہ عمران سیریز پر یوں تو ظہیر احمد نے بھی لکھا لیکن وہ بھی ا س دار فانی سے کوچ کر گئے ہیں ۔ایک نام مشتاق احمد قریشی بھی ہیں لیکن اب کافی عرصہ ہوا ۔انہوں نے اسلامی بکس اور ایک مشہور اخبار میں کالم نویسی شروع کی ہوئی ہے ۔ابن صفی کی وفات کے بعد مظہر کلیم صاحب نے ایک طویل عرصے تک عمران سیریز کو زندہ رکھا تھا اور اپنے لاکھوں قارئین کو عمران سیریز کے کرداروں سے جوڑے رکھا تھا ۔ تاہم اب ان کی وفات کے بعد اس سیریز پر لکھنے والا کوئی نہیں رہا۔اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ ان کی وفات سے ہونے والا خلا برسوں پر نہ ہو سکے گا ۔۔ نسل نو میں کتب بینی اور کتاب دوستی کو فروغ دینے میں مظہر کلیم ایم اے کا بہت بڑاکردار ہے۔تقریباً نصف صدی تک وہ بچوں کے ادب اور جاسوسی ناولز پر راج کرتے رہے ، وہ بے شمار خدا داد صلاحیتیں رکھتے تھے ،انہیں ادبی دنیا میں ایک منفرد مقام حاصل تھا۔
مظہر کلیم ایم اے کی عاجزی و انکسار ی بھی قابل دید ہوتی۔ وہ اپنے کام اور فن پر فخر کرنے والے کبھی نہ تھے۔ وہ اپنے کام سے کام رکھنے والے عظیم انسان تھے۔ ان کی وفات سے بچوں کا ادب ایک خوبصورت سائبان سے محروم ہو گیا ہے۔ وہ پیشہ کے اعتبار سے وکیل تھے اور ریڈیو پرسرائیکی پروگرام ''جمہور دی آواز'' میں بطور اینکر بھی کام کرتے تھے۔26 مئی 2018ء بعد نماز ظہر ابدالی مسجد ملتان میں ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور انہیں ہزاروں سوگوارن کی موجودگی میں آہوں سسکیوں کے ساتھ منوں مٹی تلے سپرد خاک کر دیا گیا ۔اللہ تعالی مرحوم کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے۔ آمین


ای پیپر