Photo Credit Social Media

متفقہ طور پر مقرر ہونے والے نگراں وزیراعظم جسٹس(ر)ناصرالملک کی زندگی پر ایک نذر
28 مئی 2018 (14:44) 2018-05-28

اسلام آباد:حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے متفقہ طور پر مقرر ہونے والے نگراں وزیراعظم جسٹس (ر) ناصرالملک 17اگست 1950کو سوات کے شہر مینگورہ میں پیدا ہو ئے، ایبٹ آباد پبلک اسکول سے میٹرک اور ایڈورڈز کالج پشاور سے گریجویشن کیا۔1977میں لندن سے بار ایٹ لا کرنے کے بعد پشاور میں وکالت شروع کی، 1981میں پشاور ہائی کورٹ بار کے سیکرٹری اور 1991اور 1993میں صدر منتخب ہو ئے۔

جسٹس (ر)ناصر الملک 4جون 1994کو پشاور ہائی کورٹ کے جج بنے اور 31مئی 2004کو چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کے عہدے پر فائز ہوئے جس کے بعد 5 اپریل 2005کو انہیں سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا گیا۔ جسٹس ناصرالملک نے نہ صرف 3نومبر 2007کے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا بلکہ وہ 3نومبر کی ایمرجنسی کے خلاف حکم امتناع جاری کرنے والے سات رکنی بینچ میں بھی شامل تھے۔پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھاکر وہ معزول قرار پائے اور ستمبر 2008میں پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں دوبارہ حلف اٹھا کر جج کے منصب پر بحال ہوئے۔

جسٹس ناصر الملک پی سی او، این آر او اور اٹھارویں ترمیم کے خلاف درخواستوں کی سماعت کرنے والے بینچوں کا حصہ رہے۔ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے جرم میں سزا سنانے والے بنچ کے سربراہ بھی وہی تھے۔ جسٹس ناصر الملک پاکستان کے 22ویں چیف جسٹس تھے جو 6جولائی 2014سے 16اگست 2015تک اس منصب پر فائز رہے۔


ای پیپر