”سرزنش یا شاباش“
28 مئی 2018 2018-05-28

میں آج کے دور اور آج کے زمانے کی بات کررہا ہوں، جس کے بارے میں حضرت ابوبکر صدیق ؓفرماتے ہیں کہ زمانے کی گردش عجیب ہے، اور ”حالات“ سے غفلت عجیب تر ہوتی ہے،
پاکستان بننے کے بعد ہمارے آباﺅ اجداد اور والدین نے جو سختیاں جھیلیں، اور جن نامسائد حالات سے وہ گزرے یا ہم گزر رہے ہیں۔ صبح سے شام، شام سے رات گئے اور پھر صبح سویرے ، ہم جو بیانات ، واقعات اور دگرگوں حالات کو سمجھنے کی کوشش کرہی رہے ہوتے ہیں کہ ایک ایسی ”نئی بات “سامنے آجاتی ہے کہ پرانے اجارہ داروں کے ہتھکنڈے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں، براہ کرم میری نوازشات و گزارشات کو بھی سیاق وسباق سے ہٹ کر ” من مرضی“ کے معنی نہ نکالے جائیں۔
میں تو بات کرنا چاہ رہا تھا، کہ اخلاقیات ، رواداری، شائستگی ، متانت سنجیدگی تحمل، بردباری، عفو درگزر کی بجائے تکبر، فخروغرور، خود پسندی ، شہرت طلبی ریاکاری، وعدہ خلافی، بدگمانی، مدح سرائی، خِوشامد، چاپلوسی، مذاق اور جھوٹ زبان درازی، تلخ مزاجی، بدکلامی، سخت دلی، شقاوت قلبی، شکی مزاجی، جہالت ، بزدلی ، بخیلی، حسد، حرص وحوس، بے حیائی، بے چینی، دشمنی اور کینہ پروری، سختی دل و دماغ ، جھوٹے حلف، جھوٹی قسمیں، کبرونخوت، بہتان بازی، چغل خوری ،سینہ زوری، حسب نسب میں طعنہ زنی ، دوزخی، ناشکری ، قطع رحمی، نافرمانی، خیانت، رشوت، غیبت، فتنہ بازی ، دھوکہ دہی، ظلم وجبر، عصبیت ، بدقماشی ہمارے عوام اور حکمرانوں میں اس حدتک سرایت کر گئی ہے، کہ جیسے یہ کہا جاتا ہے کہ ابلیس انسان کے خون کے ساتھ گردش کررہا ہوتا ہے، اس طرح متذکرہ بالا عیوب ونقائص ، ہماری پوری قوم اور عوام کے قول وکردار کا حصہ بن چکی ہیں۔ کہ اس سے نجات کے لیے ”طریقہ ضمینی“اپنائے بغیر کوئی چارہ ہے ہی نہیں۔
اب اگر ان قومی نقائص کا فرمان حضرت ابوبکر صدیقؓ کی کسوٹی اور فرمان کے مطابق جائزہ لیں، اور حالات سے غفلت اور گردش ایام، دنیاوی گورکھ دھندے کے پھندے ، اور ہمارے لیل و نہار پکار پکار کر کہہ رہے ہیںکہ ہمارے وطن کے کروڑوں مسلمان صراط مستقیم سے ہٹ، کر ان لوگوں کی تقلید وتعریف میں لگے ہوئے ہیں، جن پر تیرا غضب ہوا، مگر چونکہ ہم تیرے محبوب کی امت میں سے ہیں، لہٰذا ہمیں نہ تو کسی اور قوم میں بدلا گیا ، اور نہ تو ہم پہ پتھروں کی بارش ہوئی، نہ ہم پہ طوفان نوح مسلط کیا گیا، نہ ہمیں زمین میں دھنسا دیا گیا اور نہ ہمیں سور اور بندرمیں بدلا گیا ، نہ ہمیں گھروں میں اوندھا کیا گیا، نہ ہم پہ کسی بادصرصرکا اثر ہوا، حالانکہ ہم خود”سونامی“ کے طلب گار رہے۔ اے اللہ، آپ نے صرف اور صرف اخلاق کی تعلیم کی تکمیل کرنے کے لیے اپنی ہی صفات سے مزین وددیعت کرکے، رحمت اللعالمین کوشان رحیمی وکریمی کے ساتھ معبوث فرمایا، ان کے اخلاق کا تو یہ عالم تھا، کہ وہ راہ میں کانٹے بچھانے والی مشرکہ کے گھر نظر نہ آنے پر تشریف لے گئے، ان کے تربیت یافتہ، چچا زاد بھائی حضرت علی کرم اللہ وجہ نے تو کافر کے سینے پہ خنجر اتارنے کے لیے ہاتھ اٹھایا مگر اسے صرف اس لیے چھوڑ دیا گیا کہ کافر کو اس وقت مار دینا، اپنی ذات کے لیے سمجھاجاتا، جب کہ جنگ تو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے لڑی جارہی تھی۔ مگر یہاں تو نعیم الحق کو کسی صاحب اقتدار واختیار کے منہ پر تھپڑ مارنے پہ ”قائداعظم ثانی“نے اپنی من مانی کرتے ہوئے اسے شاباش دی ہے۔ ”سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر شاباش نہیں دی ، تو سرزنش بھی تو نہیں کی گئی۔ بقول حضرت اقبال ؒدے رہا ہے اپنی آزادی کو مجبوری کا نام، ظالم اپنے شعلہ¿ سوزاں کو خود کہتا ہے دور دورکہتے ہیں اپنے غباراور بخارات کو گوعمران خان کے اربوں درخت لگانے، مشرف دور میں آیات جہاد نکالنے کے بعد خیبرپختونخواہ میں دوبارہ شامل کرنے ، یکساں نظام تعلیم ، مساوی قوانین واحتساب جیسے ”سُنہری سُراب“ کُون بَد بخت ’ متفق نہین ہوگا؟ تحریک انصاف نے صوبہ سندھ کیلئے بھی کہا تھا ، کہ میں اپنے صوبے کی طرف سے اظہار یکجہتی اور تحفے کے طور پر ایک ارب دَرخت لگوانے لگا ہوں، تا کہ کراچی شہر کا بڑھتا ہوا درجہ حرارت ، معتدل اور خوشگوار ہُوجائے، کہاں گئے وہ سر سبز وعدے؟ مجھے نہیں معلوم کہ درجہ حرارت سے مراد، موسمی درجہ حرارت تھا، یا سیاسی درجہ حرارت تھا، پچھلے دِنوں جَب اَربوں رُوپے کی کرپشن کے سلسلے میں شرجیل میمن کو پکڑا گیا تھا، تو سندھ میں اُس کی گرفتاری کی شدید مذمت کی گئی تھی، حالانکہ اُس کے صرف گھر سے دو اَرب روپے برآمد ہوئے تھے، صوبہ سندھ وہ صوبہ ہے کہ جس کی اسمبلی میں نیب کے خلاف ” قرار داد مذمت منظور کی گئی تھی۔ صوبہ سندھ واحد صوبہ ہے ، جہاں ذریعہ تعلیم اُردو نہیں ہے۔ اب اگر مُہاجر اپنے حقوق کی بات کرتے ہیں ، تو کراچی کو الگ صوبہ بنانے کی شدید مذمت اور مخالفت کی جاتی ہے، مگر آصف زرداری اور بلاول گرج برس کرسرائیکی صوبے کی ؟لسانی؟، بنیاد پر حمایت کرتے ہیں، مشہور و معروف مفاہمتی شہرت یافتہ اُپوزیشن لیڈر خورشید شاہ ، دنیا کو دعوت دیتے ہیں، کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے دعوﺅں پر نہ جائیں، کسی نے اگر ” ترقی “ دیکھنی ہے ، تو میں دعوت دیتا ہوں کہ وہ اندرون سندھ کا دورہ کرے، جبکہ اُن کے اپنے انتخابی علاقے میں سید ہونے کے ناطے ایسی مساوات قائم ہے، کتے بلے اور سُور اور اِنسان ایک ہی جگہ چلو ، بھر کر ڈوب مرنے کے بجائے، چلو بھر بھر کر پانی پیتے ہیں، سندھ واحد صوبہ ہے، جہاں گھوسٹ سکول آباد ہیں۔ سڑکیں ہیں نہ پانی ہے نہ ہسپتال ہیں۔ وہاں اب بھی پتھر اور دھات کے دور والے انسان بستے ہیں۔
دُوسرا صوبہ ، خیبر پختونخواہ ہے، جس کا نام نجانے کِس بنیاد پر نواز شریف نے بدل دیاتھا، لیکن شکر ہے فاٹا کو صوبہ خیبر میں ختم کر دیا گیا، شاید پانچ سالوں میں قومی اسمبلی کی یہی کار کردگی رہی ہے، جس پر فخر کیا جاسکے ، کہ سالوں کے بعد وہاں ملکی قانون کا نفاذ ہوا ہے، اس حوالے سے سپریم کورٹ کے جسٹس نثار ثاقب صاحب کا کردار قابل تعریف رہا کہ وہ وہاں جاپہنچے تھے اور کہا تھا کہ یہاں اب قانون کی عمل داری چلے گی۔ مگر اس صوبے میں نیب پر پابندی ہے اب کل سے جو اسد درانی صاحب، جن کو جنرل لکھتے ہوئے، قلم میں کپکپاہٹ شروع ہوجاتی ہے، اور لوڈشیڈنگ کے دعوے دھرے رہ جاتے ہیں.... صرف ایک بات میرے ذہن میں آجاتی ہے کہ آئی ایس آئی پاکستان کا واحد ادارہ ہے جس پر ہر محب وطن پاکستانی بجا طورپر فخر کرسکتا ہے میرے دو ہمسائے ایسے ہیں کہ جو پہلے آئی ایس آئی کے سربراہ رہے ہیں، پہلے وہ کبھی کبھی کالم تو لکھ دیا کرتے تھے مگر میرے اصرار اور پہیم تکرار کے باوجود کہ وہ اپنی ” آپ بیتی “ لکھیں، مگر دونوں مسکراکر انکار کردیتے ہیں۔
ایک اور بات بھی، جس کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، اس میں یحییٰ خان کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ وہ محب وطن اور باعزت شخص تھا۔ کیونکہ اوآئی سی جو امت مسلمہ کی ایک تنظیم ہے، اس میں بھارتی مندوب کو بلا لیا گیا تھا، تو انہوں نے بھرپور احتجاج کرکے اسے نکلوا دیا تھا، کیونکہ انہوں نے بطور احتجاج خود واپسی کی تیاری شروع کردی تھی۔ کیا پاکستانی فوج میں جنرل بن جانا اتنا آسان ہے؟ یا پھر افسروں کے طریقہ ترقی میں تبدیلی آگئی ہے؟ حالانکہ پاکستان میں تو یہ محاورہ زبان زدعام ہے کہ مرا ہوا جنرل تو سوالاکھ کا ہوجاتا ہے۔
واضح رہے کہ یہ مثال پہلے ہاتھی کے لیے دی جاتی تھی .... جس کا تعلق سفید رنگ ہونے سے بالکل نہیں ہے۔ کیونکہ میں تو رنگ ونسل پہ یقین ہی نہیں رکھتا مجھے یقین ہی نہیں آتا کہ خورشید شاہ، اور رضا ربانی کے بیانات بالکل مختلف کیوں ہوتے ہیں؟ شاید اس لیے کہ رضا ربانی کبھی ”میٹر ریڈر‘، نہیں رہے!!!مگر High Voltageوالی تاروں میں تو وہ بھی ہاتھ ڈالتے ہوئے بالکل نہیں ڈرتے!!بقول اقبال
الفاظ کے پیچوں میں الجھتے نہیں دانا
خواص کومطلب ہے صدف سے کہ گہر سے


ای پیپر