سیاست، رمضان اور عوام
28 مئی 2018

رحمتوں، برکتوں اور بے شمار فضیلتوں والا پیارا ماہِ صیام جاری ہے۔ دنیابھر میں مسلمان انتہائی عقیدت و احترام سے جہاں روزہ رکھنے کا اہتمام کررہے ہیں وہیں خشوع و خضوع سے نماز قائم کرنے اور تراویح میں شامل ہونے کی سعادت بھی حاصل کررہے ہیں۔ یہ اللہ کا احسان ہے کہ اس نے اس مہینے کواپنا مہینہ قرار دیا کہ اس مہینے میں جتنی نیکیاں سمیٹنی ہیں سمیٹ لی جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی فرزندانِ اسلام نیکیاں اکٹھی کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ مواقع حاصل کرنے کی جستجو کررہے ہیں۔ تقویٰ، عاجزی اور انکساری کے ساتھ بارگاہِ الٰہی میں پیش ہو کرجہاںبہترین انسان بننے کا موقع ملتا ہے آنے والے دیگر مہینوں میں لوگوںکے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی ریہرسل کا نام ماہ رمضان ہے۔کوئی شک نہیں عام پاکستانی لوگوں کے روزے سیاستدانوں کی نسبت بہت خاص ہوتے ہیں۔ ان میں رمضان کا جزو یعنی صبر و برداشت کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتاہے۔ تبھی تو رمضان بازاروں میں مہنگے بھاو¿ پست معیار کے راشن صبر و شکرسے خرید لیتے ہیں، بجلی نہ ہو اور پنکھا نہ چلے پھر بھی پسینے میں شرابورکیفیت کے ساتھ ہی خدا کا شکر ادا کرتے ہیں۔ اس نیت کے ساتھ روزہ جتناسخت ہوگا ثواب بھی اتنا ہی ملے گا۔ رہی بات وعدوں کی تو ہم نے ہی غضب کیا جو تیرے وعدوں پے اعتبار کیا۔ دوسری طرف، سیاستدانوں کو رمضان میں نئی اسمبلی میں آنے کی فکر کھائے جارہی ہے۔ یوں کہیئے روزے میں روزی کی فکر لاحق ہے۔ اپنی اپنی پارٹی کی ترجمانی میں کوئی کسی بھی لمحے کو غیر سیاسی پَن سے محفوظ کرنے کے لیے سیاسی وظائف اور تسبیح کرتا نظر آرہا ہے۔ حالانکہ رمضان صرف بھوک و پیاس کا نام نہیں بلکہ 29 سے 30 دن کی وہ بہترین ورزش بھی ہے جو نفس سے نبض تک روحانیت اور شفا کی تدبیر بنتی ہے۔ لیکن ہماری کروڑوں کی تعداد میں عوام کے ریوڑ کو ہانکنے والے سیاستدانوںکا رمضان کے مہینے میں نفس بھی مجروح نظر آرہا ہے اور نبض بھی بے ربط سنائی دے رہی ہے۔ جلسے کا سٹیج ہو یا ٹی وی ٹاک شو ہر جگہ پگڑیاں اچھالنے اور دست درازی کا آزادانہ استعمال بتا رہا ہے کہ رمضان شریف نے ہمارے سیاستدانوں کی شخصیت پر کس طرح کے اثرات چھوڑے ہیں۔ کوئی بتائے گا تقویٰ، صبر اور بھوک و پیاس میں حسن سلوک کا درس دینے والے اس مہینے میں ٹیلی وژن ٹاک شوز میںآئے کچھ سیاسی مہان عوام کی ذہنی تربیت اپنے حریف کو غلیظ القابات سے نواز کر یا اپنے مخالف کو الٹے ہاتھ کی چپت رسید کرکے کیوں کررہے ہیں۔ شاید رمضان نہیں اپنی شان کو محفوظ کرنا مقصود ہے۔ شدید گرمی میں بھولی عوام بھی دھڑا دھڑ جلسوں میں اپنا لہو گرمانے کے لئے پہنچ جاتی ہے اور ماضی میں کئی بار حکومت کرنے والے اس بار بھی بنیادی ضروریات سے ہٹ کر ترقیاتی کاموں پرحال اور مستقبل کا روزہ رکھنے کی تلقین کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ ساتھ ساتھ سیاسی روزے میں دل میں چھپے رازوں کا بھی افطار کررہے ہیں۔ جی ٹی روڈ کے جگہ جگہ پڑاو¿ سے لے کر شہر شہر جلسوں میں مجھے کیوں نکالاکا جواب بھی اور امپائر کی انگلی اٹھنے والی ہے کا طلسم بھی اسی رمضان میں افشاں ہورہا ہے۔ ویسے بھی خواجہ سعد رفیق پہلے کہہ چکے تھے کہ جاتی امرا میں بیٹھا نواز شریف پرائم منسٹر ہاو¿س میں بیٹھے نواز شریف سے زیادہ خطرناک ہے۔ تبھی تو سرل کو دیے گئے انٹرویو کے بعد دوسری قسط حاضر ہے۔ سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف نے اسلام آباد کی احتساب عدالت کو زیر سماعت ریفرنس کے دوران بتا دیا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ دائر کرنے پر ان کے خلاف کرپشن کے ریفرنسز دائر کئے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایک انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ نے انہیں ’مستعفی ہونے یا طویل چھٹی‘ پر جانے کو کہا تھا۔ خفیہ ملاقاتیں، عمران طاہرالقادری گٹھ جوڑ، لندن پلان، ہر طرف دعوتِ بحث دے دی گئی ہے لیکن چار حلقوں کے بیلٹ باکسز کھولنے اور سانحہ ماڈل ٹاو¿ن کا جواز میاں صاحب کیوں نہیں پیش کرپارہے کیونکہ 2014 کے دھرنے کی جو وجہ عام عوام کو سمجھ آئی تھی وہ یہ تھی کہ عمران خان چار حلقوں میں ڈالے گئے ووٹوں کی ایک بار پھر سے تصدیق چاہ رہے تھے اور ہر طرح کی چارہ جوئی کے بعد انہیں اس بات کی اجازت نہیں مل رہی تھی جس کے بعد اسلام آباد کا قصد کیا گیا تھا۔ سانحے ماڈل ٹاو¿ن میں بے گناہوں کے خون نے پاکستان عوامی تحریک کو اسلام آباد کا رخ کرنے پر مجبورکیا۔ پھر پریشانی کس بات کی ہے یہ دل تھامنے کا مقام ہے۔ آنے والے دنوں میں کئی راز افشاں ہوں گے ابھی تو پہلا عشرہ ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنماو¿ں شاہ محمود قریشی اور جہانگیرترین کے مابین اختلافات بھی اس صبر کے مہینے میں کھل رہے ہیں۔ پارٹی اجلاس کے دوران دونوں ایک دوسرے پر پارٹی کی ساخت کو نقصان پہنچانے کا الزام لگاتے رہے۔ اگر عمران خان بیچ میں نہ آتے تو رمضان کے اس پہلے عشرے میں پی ٹی آئی کا شیرازہ زیر بحث ہوتا جبکہ پیپلز پارٹٰی اور ایم کیو ایم ایک دوسرے سے لعن و طعن کے جواب اس مہینے میں مانگ رہے ہیں۔
لیکن اصل مدعا عوام کا ہے۔ بجلی کی جاندار اور بے جان تاروں سے جڑے مکان ہوں، مہنگے بیجوں پر سستی فصلیں بیچنے والے کسان ہوں، گاڑی، موٹرسائیکل کی ٹینکی میں جیب انتہائی ہلکی پھلکی کرتے عوام ہوں، یا ہسپتالوں میں ایک بستر پر پڑے ایک ہی ڈاکٹرکے منتظر کئی انسان ہوں۔ یہ سب جانتے ہیں کہ سیاستدانوں کے عہد و پیماں میں اور ان کے سیاسی اکھاڑے میں بجتی ڈگڈگی ان کے رمضان کو آسان نہیں بنا سکتی۔ لہٰذا ہر سال کی طرح اس مبارک مہینے میں سیاسی کھلاڑیوں کے کھیل سے دور رہ کر صرف ایمان کی طاقت کو مظبوط کرنے سے ہی کام چلایا جائے۔


ای پیپر