صرف خدا کا خوف کریں!
28 مارچ 2020 2020-03-28

شاید پہلے بھی کسی کالم میں لکھ چکا ہوں ،بلکہ کئی بار لکھ چکا ہوں،ہم جب گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھتے تھے ۔اکثر اوقات ،جب کبھی موقع ملتا ،ہم ممتاز دانشور اشفاق احمد مرحوم کے چرنوں کو چھونے ان کے گھر واقع ”داستان سرائے“121سی ماڈل ٹاﺅن لاہور جایا کرتے تھے۔اس گھر میں اشفاق احمد نے برس ہا برس گزارے۔سنا ہے یہ گھر اب فروخت کر دیا گیا ہے۔ میرے پاس اتنے مالی وسائل ہوتے ،میں یہ گھرخرید لیتا۔ اسے ایک لائبریری ایک میوزیم بنا دیتا ۔جہاں اشفاق احمد اور بانوآپا کی ساری کتابیں ہوتیں اور وہ ساری چیزیں ہوتیں، جو ان کے زیر استعمال رہیں اور ان کی تصاویر دیواروں پر سجی ہوتیں اور ان کے اقوال دروازوں اور دیواروں پر لگے ہوتے۔ لوگ آتے ان سے استفادہ کرتے۔اپنی زندگیوں کو خوبصورت بناتے اور لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کا جذبہ وہاں سے لیکر جاتے۔اشفاق صاحب کے پاس جا کر ان کے قدموں میں بیٹھنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا وہاں موجود بانو آپا (بانو قدسیہ)سے بھی بہت کچھ سیکھنے کو مل جاتا۔ہم پوری کوشش کے باوجود یہ اندازہ لگانے میں ناکام رہے۔دونوں میاں بیوی میں سے بڑا رائٹر کون ہے اور بڑا انسان کون ہے؟۔دونوں ایک دوسرے سے بڑھ کر تھے۔ ان کی ”جوڑی“بڑی آئیڈیل تھی۔ بانو آپا خاوند کا احترام کرنے کی باقاعدہ ایک ”درس گاہ“تھیں۔ اشفاق احمد بھی ان کا اتنا ادب کرتے تھے کبھی کبھار میں سوچتا تھا دونوں کو مل کر ایسا ادارہ قائم کرنا چاہئے جس میں شادی سے پہلے لڑکی اور لڑکے کو میاں بیوی کے حقوق کی باقاعدہ ٹریننگ دی جائے۔تاکہ ان کی ازدواجی زندگیاں سکون سے گزریں۔....یہ ایک الگ موضوع ہے جس پر لکھتا رہا ہوں ،لکھتا رہوں گا۔فی الحال یہ بتانا ہے اشفاق احمد (مرحوم)اکثر یہ بات بڑا زور دے کر کہتے تھے”ایک زمانہ آئے گا جب ہمیں احساس ہو گا لاعلمی کتنی بڑی نعمت ہے“....وہ زمانہ شاید بہت پہلے آچکا ہے،پر اس کی سمجھ ہمیں اب آئی ہے۔ جب کرونا وائرس کے حوالے سے دنیا بھر سے ملنے والی معلومات نے زندگی کو ”کورونا وائرس“سے زیادہ بڑا عذاب بنا کر رکھ دیا ہے۔میرے خیال میں اتنا نقصان دنیا کو شاید کورونا وائرس سے نہیں ہو گا جتنااس وائرس کے حوالے سے دنیا بھر سے ملنے والی ایسی غیر ضروری معلومات سے ہوگا جنہوں نے انسان کو باقاعدہ پاگل بنا کر رکھ دیا ہے۔....جتنے منہ اتنی باتیں والا محاورہ بھی پہلی بار پوری شدت کے ساتھ سمجھ میں آیا ہے۔....میرے خیال میں وہ لوگ جو اس وائرس سے بے نیاز ہو کر اور اس حوالے سے دنیا بھر سے ملنے والی معلومات کو نظر انداز کرکے معمولات زندگی اپنائے ہوئے ہیں،وہ ان لوگوں سے کہیں زیادہ پرسکون ہیں جو ہر وقت مختلف ذرائع سے اس وائرس یا عذاب کے بارے میں معلومات حاصل کرکے نہ صرف غیر ضروری طور پر خود کو مختلف اقسام کے خوف میں مبتلا کرتے ہیں بلکہ ان معلومات کو دوسروں تک پہنچا کر ان کی زندگی یا ان کا جینا بھی حرام کر دیتے ہیں۔.... انہیں شاید معلوم نہیں اتنے انسان کسی مہلک بیماری سے نہیں مرتے جتنے اس بیماری کے خوف سے مرتے ہیں۔کسی انسان کے جسم میں کینسر یا اس ٹائپ کی کوئی اور مہلک بیماری پلتی رہتی ہے ۔جب تک وہ انسان سے اس بیماری سے لاعلم ہوتا ہے ۔وہ قائم رہتا ہے ،چلتا پھرتا رہتا ہے۔نارمل زندگی بسر کرتا ہے،جیسے ہی اسے اس بیماری کا علم ہوتا ہے،ایک خوف اس پر طاری ہو جاتا ہے جس کا اکثر وہ شکار ہو جاتا ہے۔....کرونا وائرس نے دنیا میں چند ہزار لوگوںکو متاثر کیا ہے،ان میںکچھ اس وائرس کا شکار ہو گئے۔ہر طرف اس کا رونا رویا جا رہا ہے۔یہ یقیناًایک افسوس ناک حقیقت ہے۔پر جو لوگ اس بیماری یا عذاب سے صحت یاب ہو گئے ،اس کا چرچا بھی ہونا چاہئے ،تاکہ لوگوں کا خوف کم ہو کیونکہ بے شمار لوگ اس بیماری کے خوف میں مبتلا ہو کر موت کے منہ کے بالکل قریب پہنچ چکے ہیں۔اس کے خوف میں مبتلا کروڑوں لوگ زندگی کی نعمت اس کے لطف سے محروم ہو چکے ہیں،ان کا اس بات پر یقین ،اطمینان یا ایمان کمزورپڑ چکاہے کہ جو دن یا رات قبر میں لکھے ہیں وہ باہر نہیں آسکتے اور جوقبر سے باہر لکھے ہیںوہ قبر میں نہیں آسکتے ۔موت کا ایک دن،ایک وقت مقرر ہے۔وہ ٹل نہیں سکتا۔سو کورونا وائرس میں مبتلا ہونے والوں کو یہ خوف نہیں ہونا چاہئے کہ یہ وائرس یا

بیماری لازمی طور پر جان لیوا ہو گی۔کئی لوگ اب تک اس سے صحت یاب ہو چکے ہیں۔وہ نارمل زندگی بسر کر رہے ہیں۔اگلے روز اٹلی میں مقیم دوست بتا رہے تھے وہاں پچپن برس کا ایک گورا کورونا وائرس میں مبتلاہوکر کئی یوم تک ہسپتال میں زیر علاج رہا۔اسے وینٹی لیٹر پر ڈال دیا گیا۔پھر وہ مکمل طور پر صحت یاب ہو کر گھر چلا گیا ۔نارمل زندگی بسر کرنے لگا۔دو روز قبل وہ دفتر سے گھر جاتے ہوئے ٹریفک کے ایک حادثے میں مارا گیا۔....بے شمار ایسے بیمار لوگ ہم نے دیکھے جن کے بارے میں ڈاکٹرز کی رائے یہ ہوتی ہے وہ دنیا میں چند گھنٹوں یا چند دنوں کے مہمان ہیں۔وہ کئی کئی برس زندہ رہتے ہیں۔اسی طرح عام سی کسی بیماری میں مبتلا لوگوں کے بارے میں ڈاکٹروں کی رائے یہ ہوتی ہے وہ چند دنوں میں مکمل صحت یاب ہو جائیں گے،پر وہ نہیں بچتے۔....کہنے کا مقصد یہ ہے موت کا خوف خود پر طاری کرکے موت کے ایک مقررہ دن یا مقررہ وقت سے پہلے مرنے سے ہزار گنا بہتر ہے جتنی زندگی اللہ نے انسانوں کو ایک نعمت کے طور پر بخشی ہے وہ کسی وائرس یا کسی بیماری کے خوف میں گزارنے کے بجائے صرف اور صرف خوف خدا کے تحت گزار کر خود بھی سکون کریں اور یہ پیغام آگے پہنچا کر دوسروں کو بھی کرنے۔.... خوف خدا کے تحت زندگی گزارنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کوئی اور خوف انسان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ خوف خدا کا ان دنوں سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ مستحق لوگوں کی اپنی توفیق سے بڑھ کر مدد کی جائے۔کورونا کے نتیجے میں لاکھوں لوگ اب تک بے روز گار ہو چکے ہیں۔وہ کئی طرح کے مسائل کا شکار ہیں۔ ان کے بارے میں معلومات حاصل کی جائیں۔ احتیاطی تدابیر اختیار کرکے ان سے ملا جائے۔ پاکستان کے بارے میںپوری دنیا میں مشہور ہے۔اس ملک پر جب بھی کوئی مشکل وقت آیا۔اس کے لوگوں نے اپنے لوگوں کی دل کھول کر مدد کی۔میں جانتا ہوں گزشتہ ڈیڑھ دو برسوں سے ملکی حالات کے پیش نظربے شمار دولت مندوں کو خود کئی طرح کی مالی مشکلات کا سامنا ہے۔اس کے باوجود ان کے پاس اللہ کا دیا بہت کچھ ہے۔سو انہوں نے پلے سے کچھ نہیں دینا۔اللہ کے دیئے ہوئے میں سے ہی دینا ہے ۔وہ وقت آگیا ہے جب ہمیں چاہئے اللہ پر اپنا ایمان مضبوط کریں ،اپنے مستقبل کو اللہ پر چھوڑ کر مستحق لوگوں کے حال کی فکر کریں ۔....ایسی صورت میں دیکھئے گا کورونا کیسے یہاں سے بھاگتا ہے!!


ای پیپر