کرونا وائرس کا حملہ اور سنگین حکومتی غلطیاں
28 مارچ 2020 2020-03-28

یہ تحریر عالمگیر وباء بننے والے کرونا وائرس کے پاکستان میں پھیلاو¿، اس کے اسباب اور سنگین حکومتی غلطیوں سے متعلق ہے۔ جس میں عالمی ادارہ صحت، یورپی یونین کے وباو¿ں کی روک تھام کے ادارے( European center for disease prevention and control ), ورلڈ ان ڈیٹا، جان ہاپکنز یونیورسٹی، ڈبلیو ایچ او اور چائنا سمیت 25 ممالک کے جوائنٹ مشن کی تازہ ترین ریسرچ اور اعداد و شمار سے استفادہ حاصل کیا گیا ہے۔ پاکستان کی بقاء سے متعلق اس موضوع کی اہمیت کے پیش نظر یہ تحریر ایک سے زائد اقساط پر مشتمل ہے۔

کرہ ارض پر نمونیا کی ایک نئی اور خاص قسم کو متعارف کروانے والے سارس کرونا وائرس Severe Accute Respiratory Syndrome Covid-19 (SARS)کی تباہ کاریاں جاری ہیں اور دنیا کے طاقتور ترین کہلائے جانے والے ترقی یافتہ ممالک جنگی بنیادوں پر اس عالمگیر وباءکو روکنے کے لئے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق اب تک یہ وائرس دنیا کے نقشے پر موجود تقریبآ تمام ممالک میں پھیل چکا ہے اور اس سے متاثر ہونے والے کنفرم کیسز کی تعداد ساڑھے پانچ لاکھ سے زائد جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 25 ہزار سے زائد ہو چکی ہے۔ ہر ملک میں وباء کے اس قدر تیزی سے پھیلاو¿ کا اندازہ اس طرح بھی لگایا جا سکتا ہے کہ سب سے پہلے رپورٹ ہونے والے کیس سے لے کر ایک لاکھ تعداد 67 روز میں ہوئی جبکہ اس کے بعد ایک لاکھ 11 روز میں، مزید ایک لاکھ چار روز میں اور اب اگلا لاکھ دو روز مکمل ہو رہا ہے۔ دیگر ممالک کی طرح اس وباء نے پاکستان میں بھی اپنے پنجے گاڑ لئے ہیں اور اب تک سامنے آنے والے مصدقہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں وائرس زدہ افراد کی تعداد 1300 سے زائد اور نو اموات ہو چکی ہیں اور ابھی یہ سلسلہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ عالمی ماہرین کی ریسرچ کی روشنی میں عالمی ادارہ صحت کی طرف سے خطرے کی گھنٹی مسلسل بجانے کے باوجود نہ تو ہماری حکومت نے اس کی پروا کی اور نہ ہی بحیثیت قوم ہم نے معاملے کی سنجیدگی کا اندازہ کرتے ہوئے معاشرتی ذمے داری کا ثبوت دیا۔ مزید ستم ظریفی یہ ہوئی کہ اس نادیدہ مخلوق کے بارے میں حکومت نہ تو خود بروقت مکمل آگاہی حاصل کر سکی اور نہ ہی ہماری اکثریتی آبادی نے احتیاطی تدابیر کو ماننے کی زحمت گوارہ کی۔ حد تو یہ ہے کہ ہم تاحال اس وباء سے بچاو¿ کی تمام حفاظتی تدابیر سے لا علم ہیں۔ راقم الحروف کو بطور صحافی عالمی اداروں سے رابطہ کر کے جو معلومات حاصل ہوئیں وہ ہمارے ملکی حالات دیکھنے کے بعد رونگٹے کھڑے کر دینے کے لئے کافی ہیں۔ خواب غفلت سے جاگنے میں تئیس روزہ تاخیر کی سنگین ترین حکومتی غلطی اور کے باعث مستقبل میں عوام کے اپنے ہاتھوں مملکت خدادا کا چپہ چپہ وائرس زدہ ہوتا نظر آ رہا ہے۔ عالمی اداروں کی جانب سے ہر ملک کو اس نادیدہ دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے بار بار ایمرجنسی الرٹ اور حفاظتی تدابیر بتائی جاتی رہیں۔ لیکن حکومت اور عوام دونوں نے پروا نہیں کی۔ چائنا میں دسمبر 2019 میں منظر عام پر آنے والے اس وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں اور اس کی حیرت انگیز طور پر انسان سے انسان میں تیز ترین منتقلی (ہیومن ٹرانسمیشن) کی صلاحیت اور نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کو دیکھتے ہوئے چائنا، جرمنی، جاپان، کوریا، نائجیریا، روس، سنگاپور، امریکہ اور اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ڈبلیو ایچ او کے 25 ماہرین پر مشتمل جوائنٹ مشن نے مشترکہ ریسرچ کے بعد اس وباء کے پھیلاو¿ کو روکنے کے لئے دنیا کے تمام ممالک کو سب سے پہلے فروری 2020 میں ایڈوائزری جاری کی۔ جوائنٹ مشن کی ایڈوائزری میں بتایا گیا تھا کہ کرونا وائرس متاثرہ شخص کی چھینک یا کھانسی کے نتیجے میں نکلنے والی رطوبت کے ذریعے پھیلتا ہے۔ ان بخارات کے علاوہ بھی اس کے پھیلاو¿ کے بہت سے اسباب ہیں۔ یہ وائرس متاثرہ شخص کی سانس کی رطوبت اور لمس سے بھی ہر چیز میں سرایت کرنے کی تیز ترین صلاحیت رکھتا ہے۔ ایڈوائزری میں تمام حکومتوں کو کہا گیا تھا کہ وائرس سے بچاو¿ کے لئے عوام کو ذاتی احتیاط اور صفائی کے طریقہ کار سے آگاہ کیا جائے کہ جس میں ہاتھوں کی بار بار صفائی، جس میں صابن کے علاوہ 60 سے 70 فیصد الکوحل ملا ہینڈ واش اور سینیٹائزر استعمال کیا جائے، سماجی احتیاط اور میل جول سے پرہیز، اجتماع سے گریز، سفر کی بندش ، دوسروں سے ایک میٹر کی دوری جیسے اقدامات شامل تھے۔ یورپین ادارے سی ڈی سی نے وائرس کے ماحولیاتی اثرات سے بچنے کے لئے تدابیر جن میں کپڑوں اور استعمال کی اشیاءاور ان کی سطح جن میں موبائل فون، ٹیبلٹ، دروازے کی ناب، کی بورڈ، ٹائلٹس، میز، بٹن یا سوئچ وغیرہ کی روزانہ ڈیٹرجنٹ اور یا ایسے بلیچ سلوشن سے صفائی کرنے کی ہدایت کی تھی جس میں سوڈیم ہائپو کلورائیڈ (Sodium hypochlorite) شامل ہو۔ اس کے علاوہ روزانہ کی بنیاد پر ڈبلیو ایچ او کی طرف سے تمام ممالک پر زور دیا جاتا رہا کہ وہ جامع حکمت عملی اپنائیں کیونکہ وائرس کا پھیلاو¿ روکنے اور زندگی بچانے کا سب سے موثر طریقہ پھیلاو¿ کا سبب بننے والی کڑیوں کو توڑنا ہے۔ جس کے لئے ٹیسٹ اور پھر قرنطینہ کرنا ہو گا۔ کیونکہ کوئی ملک اس وباءکو اس وقت تک نہیں روک سکتا جب تک ہمیں یہ علم نہ ہو کہ کون کون وائرس زدہ ہو چکا ہے۔ اس لئے ہر مشتبہ شخص کا ٹیسٹ کیا جائے، اگر ٹیسٹ مثبت ہو تو اسے سب سے الگ کیا جائے، اور پھر تلاش کیا جائے کہ گزشتہ چند دنوں میں وہ کن افراد سے رابطے میں رہا۔ اس سے پہلے کہ ان میں علامات ظاہر ہوں ان کے بھی ٹیسٹ کئے جائیں۔ ڈبلیو ایچ او نے مشتبہ یا علامات والے افراد کو گھروں میں الگ تھلگ رکھنے پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے رسک قرار دیا تھا کیونکہ گھروں میں نگہداشت کرنے والوں کے لئے عالمی ادارے کی دی ہدایات کے مطابق خود کو محفوظ رکھتے ہوئے نگہداشت کرنا بہت مشکل ہو گا۔

عالمی اداروں کی تحقیق کے مطابق کرونا وائرس سے متاثرہ شخص اس وقت بھی دوسروں میں وائرس کے پھیلاو¿ کا سبب بن سکتا ہے جب وہ بیماری محسوس نہیں کرتا۔ اسی وجہ سے یہ حفاظتی انتظامات علامات ختم ہونے کے بعد دو ہفتے تک جاری رکھنے چاہئیں۔ ملاقاتیوں کو اس عرصہ کے دوران ملنے سے روکا جائے۔ اسی طرح متاثرہ مریضوں کے علاج پر مامور ہیلتھ ورکرز کے لئے جاری کردہ گائیڈ لائنز میں بھرپور حفاظتی انتظامات کی تاکید کی گئی تھی کہ اور علاج کرنے والوں کے لیے مخصوص حفاظتی لباس بھی تجویز کیا گیا تھا۔ جس میں پروسیجرل ماسک، دستانے، گوگلز، فیس شیلڈ، پوری آستین کا واٹر پروف گاون شامل تھے۔ دیگر اقدامات میں ائیرپورٹس اور بارڈرز کی بندش اور ہر آنے والے کی سکریننگ شامل تھی۔ عالمی ادارے نے اپیل کی تھی کہ ہر ملک اور ہر شخص انفرادی طور پر اس وائرس کے پھیلاو¿ کو روکنے کے لئے جو کر سکتا ہے، کرے۔ لیکن ہوا کیا، عالمی اداروں کی تمام کوششوں کے باوجود اب تک ہمارے ملک میں صرف دو احتیاطی تدابیر ہی زبان زد عام ہونے میں کامیاب ہو سکی ہیں۔ جو کہ بار بار ہاتھ دھونے اور سماجی دوری سے متعلق ہیں۔ اس میں سے بھی ہماری پیشتر عوام صرف ہاتھ دھونے سے آگاہ ہے۔ سماجی دوری والی احتیاط تو مذاق کا درجہ حاصل کر چکی ہے۔ (جاری ہے)


ای پیپر