نواز شریف کی ضمانت لیکن زرداری کی ضمانت مسترد؟
28 مارچ 2019 2019-03-28

وزیراعظم عمران خان نے تخفیف غربت پروگرام ’’احساس‘‘ کا اعلان کیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ آئین میں ترمیم کر کے روٹی، کپڑا، مکان، صحت، تعلیم کو بطور بنیادی حق تسلیم کیا جائے گا۔ ان اعلانات کا اظہار سابق قیدی وزیراعظم نواز شریف اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی ضمانت پر رہائی کے موقع پر کیا گیاہے۔ ان دو واقعات کے ساتھ تیسرا واقعہ بلاول بھٹو کا ٹرین مارچ بھی ہے۔ بلاول کے ٹرین مارچ کو پی پی قیادت کی گرفتاریوں سے قبل اسٹریٹ پاور کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔

اسٹبلشمنٹ کے ساتھ حکومت کے معاملات ٹھیک ہی ہیں ۔ لیکن سیاسی میدان میں حکومت کو دقت کا سامنا ہے۔ اپوزیشن نواز شریف کی رہائی کو دباؤ کا نتیجہ قرار دے رہی ہے ۔یہ دباؤ اپوزیشن پارٹیوں کی طرف سے بھی تھا، کیونکہ غیر اعلانیہ طور پر نواز لیگ پیپلزپارٹی اور ان کے اتحادی متحد ہو رہے ہیں۔ اس اتحاد کا اظہار گزشتہ دو ہفتے کے واقعات سے ملتا ہے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ دباؤ خود پنجاب کے اندر موجود تھا۔ حکومت یہ دو دباؤ برداشت نہیں کر پارہی تھی۔ نواز لیگ کے رہنما ؤں کو ریلیف مل چکا، لیکن پیپلزپارٹی کی قیادت ابھی تک ریلیف نہیں حاصل کر سکی ہے۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی ضمانت کا مطلب آصف علی زرادری کی ضمانت مسترد کرنا ہے جو ابھی جعلی بینک ااکاؤنٹس اور منی لانڈرنگ کے مقدمات میں ضمانت پر ہیں۔لہٰذا اپوزیشن اپنادباؤ برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اپوزیشن نے وزارت خارجہ کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان پر بریفنگ میں شرکت سے معذرت کر لی ہے۔ جس کے بعدیہ بریفنگ منسوخ کر دی گئی ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے جامع مشاورت کیلئے تمام پارلیمانی پارٹیوں کے رہنماؤں کو 28 مارچ کے اجلاس میں شرکت کیلئے خطوط ارسال کئے گئے تھے۔ مسلم لیگ نواز کے رہنما شہباز شریف نے بذریعہ خط اور جے یو آئی(ایف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین آصف علی زرداری نے بذریعہ فون، اپنی سیاسی مجبوریوں اور مصلحتوں کے پیش نظر اس اجلاس میں شرکت سے معذرت کی ۔ موجودہ حالات اپوزیشن پارٹیوں کی سیاسی مجبوریوں کے پیش نظر یہ مشاورتی اجلاس کا انعقاد نہیں ہو گا۔ نیشنل ایکشن پلان نہایت ہی حساس معاملہ ہے ۔ اس پلان میں کالعدم تنظیموں کے ساتھ ساتھ بعض ایسے نکات بھی ہیں جن کی وجہ سے عالمی طور پر پاکستان پر دباؤ پڑرہا ہے۔ یہی وجہ ہے گزشتہ دو ہفتے کے دوران بلاول بھٹو نیشنل ایکشن پلان

کے نکات پر مکمل عمل درآمد کی بات کر رہے تھے۔

مسلم لیگ نواز کو ملنے والے ریلیف کوشیخ رشید ڈیل سمجھتے ہیں ۔وہ کہتے ہیں کہ عمران خان تو پورا زور لگا رہے ہیں لیکن پورا نظام ایسا بنا ہوا ہے۔ چونکہ معاملہ عدالت کا ہے لہٰذاشیخ رشید عدالت کے فیصلے کو براہ راست ڈیل نہیں کہہ سکتے ۔بات توہین عدالت کے دائرے آجائے گی۔ دو منٹ کے لئے یہ فرض کرلیتے ہیں کہ یہ ڈیل ہے، ڈیل یا بارگیننگ دو فریقوں کے درمیان ہوتی ہے، جس میں ’’کچھ لو کچھ دو ‘‘ کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ اگر ڈیل ہے تو نواز لیگ کو ریلیف ملا اس کے عوض حکومت نے کیا لیا؟ اس پر شیخ رشید اور حکمران جماعت کے رہنما خاموش ہیں۔ عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت نہیں دی ہے تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ اگر نواز شریف کی سیاست اس کو تنگ نہیں کرتی تو وہ ان کا نام ای سی ایل سے ہٹانے پر غور کر سکتی ہے۔ حکومت کا نواز شریف کی سیاست سے بڑا تعلق ہے۔ چلئے یہ دلیل بھی مان لیتے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہوا کہ نواز شریف کی سیاست اتنی مضبوط ہے اور وہ اس سے بہت زیادہ خوف زدہ بھی ہے۔ اگر شیخ رشید کی بات کی بھی منطق کو لیں تو اس کی تشریح کچھ یوں ہوتی ہے کہ اب حکومت احتساب سے پیچھے ہٹ رہی ہے۔

احتساب کا ڈھول بہت بجایا گیا۔ گزشتہ نو ماہ کے دوران ماضی میں لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کے لئے بھی عملی اقدامات نہ ہو سکے۔ سابق وزیراعظم جس کو حکومت میں آنے سے پہلے عمران خان سخت ترین سزا دینا چاہ رہے تھے اب انہیں دو مقدمات یں سزا کے بعد ضمانت پر رہا بھی کرنا پڑا۔معاملہ عدالت کا ضرور ہے ۔ لیکن مقدمات کی صورت مین حکومت اہم فریق ہے۔ اور سرکاری وکلاء ایسے نکات اٹھا سکتے تھے کہ یہ ضمانت نہ ہو ۔ اب صرف پیپلزپارٹی کی قیادت کے خلاف مقدمات چلانا دانشمندی نہیں ہوگی۔کیونکہ پیپلزپارٹی کا وزن عالمی طور پر اور ایک حساس صوبے میں مقبولیت کی وجہ سے زیادہ ہے۔ لہٰذا منی لانڈرنگ اور جعلی بینک اکاؤنٹس مقدمات میں کوئی زیادہ پیش رفت کا امکان نظر نہیں آتا۔ ممکن ہے کہ حکومت منی لانڈرنگ کیس کو آگے بڑھائے ۔ اس کا مطلب یہ نکلے گا کہ پرانے فارمولے پر عمل کیا جائے ۔اس صورت میں سندھ حکومت نشانے پر ہوگی۔ یعنی سندھ میں زبردستی صوبائی حکومت ختم کی جائے۔یہ بہت بھاری اور مہنگا نسخہ ہے۔ اس کے لئے حکومت کو مقتدرہ حلقوں کی حمایت چاہئے ہوگی۔ حکومت بلاول کے سندھ میں ٹرین مارچ کا براہ راست کوئی اثر قبول کرنا نہیں چاہے گی۔ امکانی صورتحال سے نمٹنے کے لئے پیپلزپارٹی روہڑی سے پنڈی تک ٹرین مارچ کرنے کا اشارہ دے چکی ہے۔ اس ٹرین مارچ کی صورت میں پنجاب میں اس کو نواز لیگ کی براہ راست یا بالواسطہ حمایت حاصل ہو سکتی ہے۔ نواز لیگ اور پیپلزپارٹی آج کی صورتحال میں متحد ہیں۔ انہیں پتہ ہے کہ ایک کو ریلیف دے کر دوسرے کے خلاف اقدامات کرنا عبوری فارمولا ہے۔ اس لئے کہ اگلی باری اکیلے ریلیف لینے والے فریق کی بھی آئے گی۔ شریف خاندان کی ترجیح نواز شریف کا علاج ہے لیکن وہ یہ بھی جانتی ہے کہ عبوری ضمانت کو مستقل ضمانت یا رہائی میں تبدیل کرنے کے لئے مصلحت نہیں مزاحمت کی کام دکھاتی ہے۔

جب یہ احتساب کا ڈھول نہیں بجایا جا سکتا اور ماضی کے اعلانات اور وعدوں پر کچھ نہیں ہو پا رہا تھا تو تحریک انصاف کی حکومت برقرار رکھنے کا عوام کو کوئی تو جواز دینا ہوگا۔یہ جواز اب وزیراعظم کے حالیہ دو اعلانات ہیں۔اگرچہ معیشت کی بحالی کا بڑا سوال اپنی جگہ پر موجود ہے تاہم یہ اعلانات نظری حساب سے بہت اچھے ہیں۔ لیکن حالیہ مالی مشکلات میں ان اعلانات پر عمل درآمد کیسے ہوگا؟ کیا یہ ایک نیا لالی پوپ تو نہیں؟


ای پیپر