فائیو جی ڈبلیو(5GW): نیوکلیئر بم سے زیادہ مہلک ہتھیار!!
28 مارچ 2019 2019-03-28

گھوڑوں،گھڑسواروں ،تیروں اور تلواروں ،نیزوں اور بھالوں ، توپوں اور گولوں۔ بندوقوں اور آتشیں اسلحے ، خودکش جیکٹس اور فدائین جبکہ بموں اور کیمیائی ہتھیاروں کے ساتھ آن کی آن میں فضا سے فضااور فضا سے زمین پر ہدف کو ٹارگٹ کرکے دشمن کو ٖڈھیرکرکے رکھ دینے والے میزائلوں اورجنگی جہازوں سے جنگیں لڑنے کا دور اب پرانا ہوچکا ۔یہ اکیسیویں صدی ہے ،یہ نیا دور ہے ۔اس دور کی مناسبت سے جہاں انسان نے اپنی حفاظت کا سامان کرنے کے لئے سامان حرب کی جدت کو اپنی بنیادی ضرورت بنالیا ہے ۔وہیں سوچنے والوں کو جنگوں کے طریقہ کار بدلنے کے لئے نئی جہتوں کو متعارف کرانے پر بھی مجبور کیا ہے۔ کہتے ہیں کہ جنگ کے لئے تیاری پکڑنے یا جنگوں پہ اتر آنے کی بنیادی وجہ جنگی جنون ہوتاہے ۔اس جنون ،پاگل پن یا بیماری کی وجہ کچھ بھی ہوسکتی ہے ، بہت ساری وجوہات میں سے ایک وجہ جذبہ حب الوطنی بھی ہے لیکن وجہ چاہے کچھ بھی ہو اس جنون کے باعث لڑی جانیوالی جنگوں کا نتیجہ ہمیشہ بھوک ، ننگ ، افلاس ، معذوری اور بیماری کی صورت میں نکلتا ہے ۔بات بیماری کی چل پڑی ہے تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جنگ کا جنون بھی کسی ’جان لیوا ‘بیماری سے کم نہیں ہوتا۔ یہ وہ ذہنی بیماری ہے جس نے ہزاروں گھروں کو اجاڑ کے رکھ دیا ہے۔ جیسے جیسے وقت گزررہا ہے ، اس ذہنی بیماری یعنی جنگی جنون کی شدت میں بھی اضافہ ہورہا ہے ۔ اوراب تو نوبت یہ آچکی ہے کہ’ دنیائے امن‘ کے افق کو ایک نئی افتاد ، ایک نئی بیماری اور ایک نئے قسم کے جنگی جنون کا سامناہے ۔ جنگی جنون کی یہ بیماری ایک طاقتور وائرس کی طرح انسانی دماغ میں داخل ہوکرسوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کو ہائی جیک کر لیتی ہے۔وائرس کی طرح اانسانی جسم کے مرکز یعنی دماغ کو کنٹرول کرلینے والی اس بیماری کو معاملاتِ جنگ وجدل کے ماہرین ’ فائیو جی ڈبلیو‘ کا نام دیتے ہیں۔دنیا پر’ فائیو جی ڈبلیو ‘کے بادل خطرہ بن کے منڈلا رہے ہیں۔ایٹمی ممالک بالخصوص تیسری دنیا کے دشمن ممالک اس کی لپیٹ میں ہیں ۔ یہ جنگ ایٹمی جنگ سے بھی زیادہ خطرناک ہے ۔یہ جنگی حکمت عملی کی وہ قسم ہے جو کسی بھی خطرناک وائرس کی طرح آپ کے پورے سسٹم کو اندر سے دیمک کی طرح چاٹ سکتی ہے۔ ’ فائیو جی ڈبلیو‘ کو ففتھ جنریشن وارفئیر کہتے ہیں ۔ اس عجیب و غریب جنگی اصطلاح کے مہلک ہونے کا اندازہ آپ اس طرح سے لگاسکتے ہیں کہ ہم میں سے کئی لوگ اس کا شکار ہوکے نہ صرف استعمال ہورہے ہیں بلکہ مکمل طور پرضائع ہوچکے ہیں لیکن انہیں ادراک ہی نہیں کہ ان کے ساتھ ایسا کیوں ہورہا ہے اور یہ کون کررہا ہے۔ فائیو جی ڈبلیو کو سائلنٹ کلر (Silent Killer)یا خاموش قاتل کہیں تو غلط نہ ہوگا ۔اور قاتل بھی ایسا میٹھا اورزہریلاکہ اس کے قابو میں آنے والے کو اپنے قاتل کی برائی کرنا تک زہر لگتا ہے۔دنیائے جنگ و جدل کے اسٹریٹیجک محاذوں پر روزانہ نت نئی اصطلاحات سامنے آتی ہیں ۔ ہم میں سے اکثر ان سے نابلد ہوتے ہیں، پھر رفتہ رفتہ ہمیں پتہ چلتا جاتا ہے کہ اچھا اس کا مطلب تو یہ تھااور ہم کیا سمجھتے رہے۔جیسے اسٹریٹی جک محاذوں پر جب جھوٹ کو جھوٹ نہ کہنا ہو تو’ آلٹرنیٹو ٹرتھ ‘کہا جاتا ہے۔اس اصطلاح کو باریکی سے نہ سمجھنے والے اکثر یہ گمان کرتے رہے کہ ایک سچائی کا متبادل آلٹرنیٹو ٹرتھ کہلاتا ہے۔ لیکن درحقیقت معاملہ اس کے برعکس تھا۔ بالکل ویسے ہی جیسے آپ ایچ آئی وی کا ٹیسٹ کرانے جائیں اور رپورٹ آنے پر خوشی سے نہال ہوجائیں کہ بیماری نہیں ہے کیوں کہ رپورٹ پازیٹو (Positive)یعنی مثبت آئی ہے۔جبکہ میڈیکل سائنس میں رپورٹ مثبت آنا بیماری ہونے کا پیش خیمہ سمجھاجاتا ہے۔اسی طرح ایک اور جنگی اصطلاح بہت زبان زدعام ہوئی جسے کولیٹرل ڈیمییج(Collateral Damage)کہاجاتاہے۔اس اصطلاح کو بھی لوگ جنگوں میں ہونے والا نقصان ہی سمجھتے رہے لیکن جب اس کی باریکی میں جانا ہوا تو پتہ چلا کہ دہشت گردی کے ردعمل کے طور پر خودکش حملوں یا بم دھماکوں میں شہید ہونے والے عام شہری بھی ’کولیٹرل ڈیمیج‘ جیسی اصطلاح کے زمرے میں آتے ہیں ۔ فائیو جی ڈبلیو بھی بالکل ایسی ہی ایک ٹرمینالوجی ہے لیکن اسے سمجھنے سے پہلے ہمیں جنگوں میں ’جنریشنز‘ جیسی اصطلاح کے استعمال کا خلاصہ سمجھنا ہوگا۔لفظ’جنریشن‘ کے استعمال کا نظریہ ٹیکنالوجی کی جدت اورنت نئی جہتیں متعارف کرانے کے گٹھ جوڑ کا نام ہے۔جس طرح خاندانی نظام کے تحت ہماری ایک نسل آتی ہے اور پچھلی گزر جاتی ہے ۔ اسی طرح تکنیکی دنیا میں بھی ایک تکنیک کے جانے اور نئی تکنیک کے مورچہ زن ہونے کو’ جنریشن‘کا استعمال کہتے ہیں۔ جیسے گاڑیوں میں پہلے بغیر اے سی والی گاڑی متعارف

کرائی گئی ، پھر اے سی کے ساتھ گاڑیاں فراٹے بھرتی نظر آئیں ، پہلے صرف پیٹرول یا ڈیزل انجن کا چرچا تھا پھر گیس اور پٹرول دونوں کے ساتھ گاڑیوں کو مارکیٹ کیا گیا، بعدازاں مینوئل گئیر باکس کو آٹومیٹک نے متبادل دے دیا۔ سی این جی یا پیٹرول کی جگہ الیکٹر ک ہائبرڈ سسٹم نے سنبھال لی ۔ اور ہرگزرتے دن کیساتھ گاڑیوں کی نئی جنریشن متعارف کرادی جاتی ہے۔ہربڑھتے نمبر کے ساتھ جنریشن کا استعمال نئی جدت کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ فائیو جی ڈبلیو پربات کرنے سے پہلے ہمیں وافئیرز میں جنریشن کے استعمال کا پتہ ہونا ضروری ہے۔دراصل وارفئیرماڈل اور اس کا استعمال سن 1648 ء میں معاہدہ ء امن ویسفالیہ کے بعد شروع ہوا۔یہ امن معاہدہ جرمن سلطنت اور دیگر ممالک کے درمیان مذہبی نظریات کی بنیادوں پر جاری رہنے والی تیس سالہ جنگ کے بعد ہوا تھا ۔اس تیس سالہ جنگ میں کم وبیش 80لاکھ لوگ جاں بحق ہوئے تھے ۔اس جنگ میں کیتھولک عیسائی اور پروٹیسٹنٹ عیسائی مذہبی منافرت کی بنیادوں پر مدمقابل تھے ۔جنگی ماڈل یعنی وارفئیر ماڈل جیسی اصطلاح کا آغازاور استعمال اس جنگ کے خاتمے پر ہونے والے معاہدے کے بعد سے شروع ہوا۔عرف عام میں اس تیس سالہ خونی جنگی دور کو فرسٹ جنریشن وار فئیر کا نام دیا جاتا ہے ۔عام الفاظ میں فرسٹ جنریشن وارفئیر (1GW)پرانے دور میں لڑی جانیوالی جنگوں کی وہ قسم میں ہے جس میں لڑنے والوں کو اس بات کا پتہ ہوتا تھا کہ جس فوج کی جتنی بڑی تعداد ہوگی۔ وہ اتنا ہی طاقتور ہوگا اور فتح اسی کی ہوگی۔ ہنگری کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کی ایک ریسرچ کے مطابق فرسٹ جنریشن وار فئیر جنگوں کی وہ شکل ہے جس میں بڑی سلطنتیں ایک دوسرے کے مدمقابل ہوتی ہیں ۔ ان جنگوں کو’ فری انڈسٹریل وارز ‘بھی کہا جاتا ہے۔ فرسٹ جنریشن وارسترہویں صدی کے وسط سے انیسویں صدی کے آخر تک چلتی رہی۔جب لوگ ایک ہی طرز کی لڑائیوں سے اکتا گئے تو لڑائیوں میں جدت لانے کا سوچا گیا ۔ اب طاقت کے استعمال کے ساتھ ساتھ تکنیکی جدت کو بھی شامل کرنے کی تجاویز آنے لگیں ۔امریکی پروفیسر رابرٹ جے بنکر کی تحقیق کے مطابق فرسٹ جنریشن وار کے بعد فوجی دستوں کی جگہ جدید اسلحے ، طاقتور ہتھیا روں اور آٹومیٹک بندوقوں نے لے لی ۔انیسویں صدی کے وسط سے آج تک لڑی جانیوالی کچھ جنگیں سیکنڈ جنریشن وار فئیر کے زمرے میں آتی ہیں۔بات کی جائے تھری جی ڈبلیو(3GW)یعنی تھرڈ جنریشن وار کی توسامان حرب کے ساتھ ساتھ جنگوں میں بدلتی حکمت عملی کے استعمال کو تھرڈ جنریشن وارفئیر کا نام دیا جاتا ہے۔یعنی ایک وقت ایسا آیا کہ لڑنے والے یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ جنگیں صرف تکنیکی جدت ، سامان حرب اور فوجی طاقت سے لڑنا حماقت ہے اس میں بدلتی حکمت عملی کا استعمال بھی ضروری ہے۔اس جنریشن کی جنگوں میں ائیرکرافٹس اور جنگی طیاروں یا ہیلی کاپٹرز کا استعمال بھی ثابت ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ جب جنگوں کے ماڈلز میں اتنی ساری اصطلاحات استعمال ہوچکی تھیں تو فورتھ اور ففتھ جنریشن وار فئیر کی ضرورت کی کیوں پڑی۔بات یہ ہے کہ ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک کے سروں پر وقت کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے بادل منڈلانے لگے۔ایک طرف ٹیکنالوجی کی جدت اپنے ارتقائی مراحل میں تھی دوسری جانب خاموش دشمن کا دھڑکا لگاہواتھا۔اس سے نمٹنے کے لئے فوج کو سامان حرب ، جدید اسلحے اور فضائی مدد کے ساتھ آبادی والے علاقے میں اتارا جانے لگا۔بے پناہ طاقت اور حکمت عملی کے ساتھ دشمن کو سول آبادی کے بیچوں بیچ نیست ونابود کرتے ہوئے غالب آجانے کے اس عمل کو فورتھ جنریشن وارفئیر کہتے ہیں۔مختلف تحقیقی مقالوں میں لکھا گیا ہے کہ فور جی ڈبلیو کی اصطلاح سن1989ء کے بعد سے شروع ہوئی۔افواج پاکستان کی شمالی اور جنوبی وزیرستان میں دشمن کے خلاف کامیابی فور جی ڈبلیو ہی کے ثمرات ہیں ۔یہ اکیسیویں صدی ہے ۔ نیوکلیئر ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ انسان کے پاس تباہی کے لئے نیوکلیئر بم اور ہائیڈروجن بم سے زیادہ بڑی طاقت اور کیا ہوسکتی ہے۔ لیکن جیسے تکنیکی جدت پروان چڑھی ہے ۔ وار مائنڈز اور تھنکرز کا سوچنے کامیعار بھی بدلا ہے۔ لوگوں نے بڑے پیمانے پر تباہی کا سامان تو کرلیا لیکن اس حقیقت سے بھی واقف ہیں کہ ایسی طاقت کا استعمال پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ ’ فائیو جی ڈبلیو‘ کی اصطلاح لانے والوں نے اب طبعی جنگوں کا متبادل ڈھونڈنکالا ہے۔ اب جنگیں سرحدوں سے زیادہ نظریاتی مورچوں یعنی آئیڈیالوجی کے فرنٹ پر لڑی جاتی ہیں ۔ فائیو جی ڈبلیو نفسیاتی جنگ کی ایک قسم ہے جس میں دشمن کو ملک کے اندر ، باہر ، ہمسایوں اور دشمنوں کی مدد سے نہتا کردیا جاتا ہے۔ناطقہ بند کرنا ،ایجنڈا سیٹ کرنا ، مخالفین کو محاذ پرلانا اور میڈیا کے ذریعے پروپیگنڈا کرنا ففتھ جنریشن وارفئیر کا حصہ تصور کیا جاتا ہے ۔۔ سالہا سال تک جاری رکھی جانیوالی غیر اعلانیہ پراکسی جنگیں بھی فائیو جی ڈبلیو (5GW)یعنی ففتھ جنریشن وار کا حصہ سمجھی جاتی ہیں ۔ اس میں خرچہ کم اور دماغ زیادہ لگتا ہے لیکن دشمن کو اچھے خاصے لمبے عرصے تک الجھائے رکھا جا سکتا ہے۔احساس عدم تحفظ، ذہنی خلفشار اور احساس کمتری پیدا کرنا بھی فائیو جی ڈبلیو کے زمرے میں آتا ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کو بھی ففتھ جنریشن وارفئیر کا سامنا ہے۔ اس عجیب وغریب جنگی حکمت عملی کو عمل انگیز یعنی catalyst کے طور پر استعمال کر کے ہمارے ہی لوگوں کو ہمارے خلاف استعمال کیا جارہا ہے۔ ملک کے اندر رہنے والے ٖغیر ریاستی عناصر کو ریاست کے خلاف کھڑا کرکے جنگی اہداف پورے کیے جارہے ہیں۔ ریٹنگ کی دوڑ میں لگے میڈیا کو اچھی بری خبر میں تفریق سے بلا امتیاز ریاست کے خلاف کھڑا کیا جارہا ہے۔ ہرملک میں ہونیوالی دہشت گردی کا الزام پاکستان اور مسلمانوں پرلگا کر ایجنڈا سیٹ کیا جارہا ہے۔یہ سارے فائیو جی ڈبلیو کے ٹولز ہیں اور ہم میں سے اکثر اس وائرس کی لپیٹ میں ہیں ۔سوشل میڈیا پر موجود ہمارے ملک کا ساٹھ فیصد طبقہ یعنی نوجوان اس وائر س کا آسان ہدف ہیں۔ جنہیں پتہ بھی نہیں چلتا اور وہ استعمال ہوتے چلے جاتے ہیں ۔یہ کالم ہمارے اس ساٹھ فیصد طبقے کی آگہی کے لئے لکھا جا رہا ہے۔پہلے تولو پھر بولو کے مصداق ضرور بولئے ، تنقید بھی ضرور کریں لیکن یہ ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کہ تنقید کا فائدہ کسے ہوگا اور نقصان کسے ۔ اگر آپ کا دشمن آپ کی تنقید کواستعمال کرکے آپ کو نہتا کر رہا ہو تو سوچ سمجھ کر تنقید کیجئے ۔اپنی ریاست کے خلاف کھڑا ہونے سے بچئے ۔ اپنی افواج کے خلا ف نفرت کے پرچار سے گریز کیجئے ۔ دشمن کو فل ٹاس گیند مت کرائیے ۔دشمن کا آلہ کار بننے سے بچئے ۔ دشمن بہت شاطر ہے۔ اور ہمارے ہاتھ میں موجود سوشل میڈیا ایپس یا مین اسٹریم میڈیا کسی بم سے کم نہیں ۔ اس سے پہلے کے وہ ہمارے ہاتھوں میں موجود بموں کو ہمارے خلاف استعمال کر ڈالے ، ہمیں اس جنگی حکمت عملی ، اس بیماری اور ذہنی سرحدوں پر استعمال ہونے والے مہلک وائرس 5GWسے خبردار رہنا ہوگا۔


ای پیپر