نیوزی لینڈ حملہ ، یہودی لابی اور عالمی جنگ
28 مارچ 2019 2019-03-28

نیوزی لینڈ کی مساجد میں دوران نماز ہونے والے دہشت گردانہ واقعہ کے پیچھے وہی انتہا پسند مافیا ہے جنہوں نے پیرس اٹیک پلان کیا تھا ، چارلی ایبڈو کا ڈرامہ رچایا تھااورخاص کر جو نائن الیون منصوبے کے ماسٹر مائنڈ تھے ۔ جو آج تک نائن الیون حادثے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ نیوزی لینڈ میں ہونے والی دہشت گردانہ کاروائی کے ذریعے ایک دفعہ پھر مسلمانوں اور مسیحوں کے درمیان ایک عالمی جنگ کا الاؤ بھڑکا کر دجالی سلطنت کی راہ ہموار کرنے کی گھناؤنی سازش کر رہے ہیں ۔ مغرب کے امن پسند حلقوں کو اس حقیقت کا ادراک کر لینا چاہیے کہ اب ایسے حملے روکے نہیں جائیں گئے بلکہ ایک تسلسل کے ساتھ اس وقت تک جاری رہیں گئے جب تک عالمی جنگ چھڑ نہیں جاتی۔ہالینڈ میں ٹرام میں ہونے والا حملہ ،برطانیہ میں ایک ہی رات میں بیک وقت 5مساجد پر ہونے والے حملے اور کیلیفورنیا میں مسجد کو نذر آتش کرنے جیسے قبیح فعل اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

نیوزی لینڈ میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کو ایک فطین و چالاک تفتیش کار اگر مندرجہ ذیل تین پہلوؤں کو پیش نظر رکھ کر تفتیش کرے تو اس حملے کے ماسٹر مائنڈ تک پہنچنا کوئی مشکل کام نہیں ۔( 1 ) دو سال قبل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جب اسرائیل نے قرارداد پیش کی تھی، تب نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈ آرڈرن نے دنیا کے امن کی خاطر اس قرارداد کے خلاف ووٹ دیا تھا۔تب اسرائیل نے جیسنڈرن کے اس فعل کو اسرائیل کے خلاف اعلان جنگ قرار دیتے ہوئے سنگین نتائج کی دھمکی دی تھی۔(2)سفاک قاتل برٹن ٹیرنٹ کی بندوق پر پوری منصوبہ بندی کے تحت صلیبی جنگوں کی تاریخ کو دہرا کر درحقیقت مغرب کی مسیح برادری کو مسلمانوں کے خلاف دانستہ طور پر اشتعال دلانے کی کوشش کی گئی ہے ، کیوں؟( 3)سوال پیدا ہوتا ہے کہ پچھلے ایک سال سے صہیونیوں کے زیر اثر مغربی میڈیا میں یہ خبریں کس بنیاد پر گردش کر رہی ہیں کہ’’ یورپ میں کسی وقت بھی دہشت گرد انہ حملہ ہو سکتا ہے‘‘ ؟ حتیٰ کہ ا یسی خبروں کو ایک زیرک و غیرجانبدار تجزیہ کار بھی نظر انداز نہیں کر سکتا ، جس میں تواتر کے ساتھ یورپ میں دہشت گردانہ حملوں کی پیشن گوئی کی جارہی ہو۔ اب تو بین الاقوامی میڈیا میں یہ باتیں کھل کر کی جانی لگی ہیں کہ دہشت گرد گروہ داعش کے تخلیق کار کوئی اور نہیں بلکہ اسرائیل ہے ۔ جن کا بڑا مقصد ایک جانب مسلم دنیا کو فکری طور پر کمزور کر کے معاشرتی انتشار کا شکا رکرنا ہے تو دوسری جانب مغربی معاشروں کے لیئے اسلام کو ایک بڑے خطرے کے طور پر پیش کر کے اسلامو فوبیا میں مبتلا کرنا ہے ۔ جو دراصلs Clash of Civilization کا ہی ایک تسلسل ہے ۔ کیونکہ دنیا بھر میں اسلام کے قبول کرنے کی شرح مغرب میں سب سے زیادہ ہے ۔ جس نے دجال کے پیروکاروں کی جھنجلاہٹ میں اضافہ کر دیا ہے ۔

اس اندو ہناک واقعہ میں شہید اور زخمی ہونے والے اہل خانہ کے ساتھ وزیر اعظم نیوزی لینڈ جیسنڈ آرڈرن کا بھرپور ہمدردی کے ساتھ ان کے دکھ و درد میں شریک ہونا، نیوزی لینڈ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سرکاری ٹی وی پر جمعہ کی اذان اور خطبے کا نشر ہونا ، پارلیمنٹ میں قرآن مجید کی تلاوت اور تدفین کے موقع پر شہریوں کا مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کے مظاہرے نے دجالی دہشت گردوں کو ہذیانی کیفیت سے دوچار کر دیاہے۔ اپنے منصوبے کو روبہ زوال ہوتا دیکھ کر انہوں نے امن کی فاختہ ’’ جیسنڈ آرڈرن ‘‘ کو قتل کی دھمکیاں دینی شروع کر دی ہے ۔

وقت آگیا ہے کہ امریکہ سمیت پورے یورپ کی

مسیحی برادری کو یہ باور کروانا ہو گا کہ مسلمان ان کے دشمن نہیں بلکہ یہودی لابی ان کی دشمن ہے ۔جو مسیحی ماؤں کے بیٹوں کو اپنی شیطانی دجالی سلطنت کے قیام کے لیئے بھینٹ چڑھانے کا فیصلہ کر چکے ہیں ۔ اور وہ یہ گھناؤنا فعل سفید فام نسل پرستی جیسے فاشسٹ نظریہ کی آڑ میں مغربی معاشروں میں پھیلارہے ہیں ۔جس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ آج امریکہ سمیت یورپ کے اکثر ممالک کی آدھی سے زیادہ آبادی اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں شدید نفرت کے جذبات کا کھل کر اظہار کر رہی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ گذشتہ تین دہائیوں سے ان کی حکومتوں کی سیاست کا محور بھی اسلام فوبیاکے گرد گھوم رہا ہے

دنیا بھر کے امن پسند حلقوں کو بالعموم اوراہل یورپ کو بالخصوص یہ باور کر لینا چاہیے کہ یہودی ایک نسل پرست گروہ ہے جنہوں نے اپنی مطلب برآری کے لیئے اپنے انبیاء و رسل جیسی قدسی شخصیات کو بھی بے دردی سے قتل کرنے میں کبھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی ۔اگر مغربی معاشرے نے ہنگامی بنیادوں پر اسلامو فوبیا پر قابونہ پایا تو مسیحی مائیں ، بہنیں اور بیٹیاں اپنے بیٹوں ، بھائیوں اور خاوندوں کی لاشوں پر دہائیوں تک روتی رہیں گئی ۔ جس کے ذمہ دار مسلمان نہیں بلکہ سیدنا مسیح علیہ السلام کو صلیب پر چڑھانے کے دعویدار ملعون یہودی ہوں گئے ۔اسلامو فوبیا کے شکار تمام طبقات کو بنو قریظہ کے یہودیوں کا عبرتناک انجام بھی پیش نظر رکھنا چاہیے ۔

نہ کھلتے راز سربستہ نہ یوں رسوائیاں ہوتی


ای پیپر