سول ایوارڈ کی ادائیگی کا شورو غوغا اور لالہ عیسیٰ خیلوی
28 مارچ 2019 2019-03-28

جنگل میں شیرنی کو کسی نے قتل کر دیا۔ اور یہ خبر پورے جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ شیر نے جنگل کے سارے جانوروں پر شک و شبہ کرتے ہوئے پرچہ کٹوا دیا۔ شام کو سارے جانور تھانے جا رہے تھے۔ سب سے پیچھے ایک چوہا بھی جا رہاتھا۔ گیدڑ نے چوہے سے پوچھا تم کدھر جا رہے ہو۔ چوہے نے اپنی مونچھوں پہ ہاتھ پھیر کر کہا۔ ’’ تیرے لالے تے وی 302 دا کیس اے‘‘ ( آپ کے بھائی پر بھی 302 کا پرچہ ہے)

مہوش حیات کو ایوارڈ دینے کا فیصلہ کس نے کیا؟ یہ جاننے کیلئے سب سے پہلے آپ کو تمغہ امتیاز یعنی سول ایوارڈز کے پراسیس کے بارے میں جاننا ضرور ہو گا۔

پراسیس کے مطابق پہلا مرحلہ ہر سال دسمبر میں تمام وزارتیں اپنے متعلقہ شعبوں سے متعلق بہترین کارکردگی دکھانے والوں کے نام کیبنٹ ڈویژن کو ارسال کرتی ہیں۔دوسرا مرحلہ کیبنٹ ڈویژن یہ نام موصول ہونے کے بعد اپنی تین ایوارڈ کمیٹیوں کو یہ نام ارسال کرتا ہے جو ان میں سے نام منتخب کرنے کے بعد صدر مملکت کو اپنی سفارشات بھیج دیتی ہیں۔تیسرا مرحلہ ایوان صدر ان ناموں کا جائزہ لے کر ان کی منظوری دے دیتا ہے۔چوتھا مرحلہ 14 اگست کو سول ایوارڈز پانے والے خوش نصیبوں کی لسٹ جاری کردی جاتی ہے۔پانچواں مرحلہ 14 اگست کو جن کے ناموں کی منظوری دی جاتی ہے، انہیں 23 مارچ کو یوم پاکستان کی تقریب میں باضابطہ طور پر میڈل دے دیا جاتا ہے۔

اس حساب سے دیکھا جائے تو مہوش حیات کو جو ایوارڈ 23 مارچ 2019ء کو ملا، اس کی منظوری اور اعلان 14 اگست 2018ء کو ہوا تھا، اور اس سے قبل کیبنٹ ڈویژن کی تین کمیٹیوں نے یہ نام سفارشات کے ذریعے صدر مملکت کو بھیجا تھا، جبکہ ان کمیٹیوں کو مہوش حیات کا نام دسمبر 2017ء سے لے کر فروری 2018ء کے عرصے میں موصول ہو گیا ہوگا۔

اب آپ خود ہی بتائیں کہ دسمبر 2017ء میں حکومت کس کی تھی؟

اس وقت وزارت اطلاعات کس کے پاس تھی کہ

جس نے مہوش حیات کا نام پروپوز کیا؟

جنوری 2018ء میں کیبنٹ ڈویژن کے تحت کام کرنے والی تینوں کمیٹیاں کس وزیراعظم کے ماتحت تھیں؟

14 اگست 2018ء میں کون اس ملک کا صدر تھا جس نے مہوش کا نام منظور کیا؟

اور ہاں، دسمبر 2017ء سے لے کر مئی 2018ء تک مہوش حیات کا نام کمیٹیوں نے منظور کرکے سفارشات صدر کو بھجوا دی تھیں۔ اس وقت کس پارٹی کی حکومت تھی اور کون کون ملا اس پارٹی کا اتحادی تھا؟

25 جولائی 2018ء کے الیکشن میں کس ملا الائنس نے اس جماعت کے ساتھ ملک کے بیشتر علاقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی ؟

تمام کھرے ن لیگ اور فضل الرحمن کی طرف جا رہے ہیں۔۔۔

سول ایوارڈز کے پراسیس کے متعلق کسی کو شک نہ رہے، اس لئے اس پراسیس کے سکرین شاٹس پوسٹ کے ساتھ لگا دیئے ہیں۔۔۔ اگر اوپر بیان کردہ پراسیس میں کسی قسم کی غلط بیانی پائی جائے تو ثبوت کے ساتھ مجھے غلط ثابت کریں۔

تو میرے دوستو اور بزرگو! قطع نظر اس بات سے کہ مہوش حیات حقدار تھی یا نہیں، اسے ایوارڈ دینے کا فیصلہ ن لیگ کے دور میں ہوچکا تھا اور اس کا اتحادی ملا فضل الرحمن بھی تھا۔۔۔

اب رہا لالہ عیسیٰ خیلوی کا مسئلہ کہ اس شریف آدمی پر بھی بہت سے دل جلوں نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں بھی یہ ایوارڈ پی ٹی آئی کے بہت بڑے حمایتی ہونے پر دیا گیا ہے۔ دو رغ بہ گردن راوی ہونے والوں پر تاسف اور افسوس کے سوا کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ سول ایوارڈ کی عطائیگی کا پراسس میں پہلے تفصیل کے ساتھ زیر بحث لا چکا ہوں۔ عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی کے لیے کسی بھی بڑے ایوارڈ کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ کیونکہ وہ بذات خود پاکستان کے لیے بہت بڑاایوارڈ ہیں۔ عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی کی گائیگی کی عمر 5 دہائیوں یعنی پچاس سال پر مشتمل ہے۔ عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی نے 50 پچاس ملک کے کونے کونے سے لیکر بیرون ملک حتیٰ کہ فجی کے جزائر تک اپنے فن کا جادو جگایا اور ملک قوم کا نام روشن کیا ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ان کا گایا ہوا ترانہ لا زوال شہرت کا سبب بنا اور پی ٹی آئی کی مقبولیت کو چار چاند لگا گیا مگر یہ بات بھی سرا سر غلط ہے کہ ان کو سول ایوارڈ صرف اس بابت میں دیا گیا ۔ آج پی ٹی آئی حکومت کو آٹھ ماہ ہونے لگے ہیں۔ اس شریف آدمی نے ایک دن بھی بنی گالہ کا رخ نہیں کیا۔ ایک دن بھی پی ایم اور سی ایم ہاؤس نہیں گیا۔ عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی نے تو ابھی تک اپنی روزی روٹی باجے ور طبلے کے ساتھ منسلک کی ہوئی ہے۔ اگر پی ٹی آئی کی حکومت عیسیٰ خیلوی کو نوازنا چاہتی تو اسے لوک ورثہ اور پی این سی کا چیئر مین لگایا ہوتا۔ کچھ بھی نہ ہوتا تو کسی بڑے آرٹس کونسل کا چیئر مین لگایا ہوتا۔ کیونکہ عطاء الحق قاسمی اور عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی میں ’’ عطاء‘‘ کی قدر تو مشترک تھی۔ آپ اس بات سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ عیسیٰ خیلوی پی ٹی آئی کا چہیتا کارکن ہونے کے با وجود ان تمام عہدوں اور اقربا پروری سے بے نیاز آدمی ہے۔ عیسیٰ خیلوی کی ابھی بھی پوری کی پوری لگن ملک و قوم کا نام روشن کرنے میں ہے۔ اس کا اپنے فن اور ملک سے عشق جو آج سے پچاس سال پہلے تھا آج بھی اسی توانائی اور رعنائی کے ساتھ جاری و ساری ہے۔اس فنکار نے پانچ زبانوں کو عزت بخشی اور 50 ہزار گیت گائے۔ جو دنیا میں بہت بڑا ریکارڈ ہے۔ ملکہ برطانیہ الزبتھ ٹیلر نے لائیو ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا اور گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کی زینت بنے۔ یہ وہ واحد فنکار ہے جس نے گائیکی سے ایسا عشق کیا کہ پیچھے مڑ کر دیکھنا محال کر دیا۔ خاندان ، رسم و رواج اور اپنی تہذیب و معاشرے سے بغاوت کر ڈالی۔لہٰذا وہ تمام احباب جو اپنی مونچھوں کو تاؤ دیکر لالہ عیسیٰ خیلوی کو سول ایوارڈ کی ادائیگی کی کٹیگری 302 میں رکھ رہے ہیں۔ ان کے لیے گزارش ہے کہ انہیں یہ ستارہ امتیاز اپنے فن کی خدمت اور ملک و قوم کا نام روشن کرنے کے عوض میں ملا ہے نہ کہ کسی سیاسی جماعت کی وابستگی کے صلے میں عطاء ہوا ہے۔ اللہ اللہ خیر سلا۔


ای پیپر