عدلیہ میں تقرری کا عالمی طریق کار اور پاکستان
28 مارچ 2019 2019-03-28

عدلیہ کو بلاشبہ ریاست کا تیسرا ستون کہا جاتا ہے۔ کسی بھی جمہوری نظام میں آزاد عدلیہ عوام کے بنیادی آئینی حقوق کاتحفظ کرتی ہے۔ اسی لئے عدلیہ کی آزادی برقرار رکھنے کے لئے قابل اور دیانت دار ججوں کا تقرر ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔ اگر ہم دنیا کے صرف پانچ ترقی یافتہ ممالک امریکا، جرمنی، فرانس، برطانیہ اور آسٹریلیا میں ججوں کی تقرریوں کے طریق کار کا جائزہ لیں تو بآسانی یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان ممالک میں انصاف کا بول بالا ہونے کی بنیادی وجہ شفاف تعیناتیاں ہیں۔ دنیا کی سپر پاور امریکا میں صدر ججوں کی نامزدگی کرتا ہے اور سینٹ کی عدالتی کمیٹی سماعت کر کے رپورٹ سینٹ کو بھجوا دیتی ہے، جو سادہ اکثریت سے صدر کی نامزدگی کو منظور یا مسترد کرنے کا فیصلہ کرتی ہے۔ جرمنی میں وفاقی آئینی عدالت کے ججز کا انتخاب پارلیمنٹ کا ایوان زیریں اور وفاقی کونسل کرتی ہے۔ فرانس میں ملک کا صدر وزیرِ انصاف، نمایاں عوامی شخصیات اور ججز پر مشتمل 18 رکنی کونسل کی صدارت کرتاہے۔ یہ کمیٹی ججز کی تقرری کیلئے تجاویز تیار کرتی ہے۔ برطانیہ میں ملکہ وزیراعظم کی سفارشات پر سپریم کورٹ کے ججوں کی تقرری کرتی ہے۔ لارڈ چانسلر جو خودکابینہ کا رکن ہوتاہے، ایک سلیکشن کمیشن کاانتظارکرتاہے، جس کیلئے سینئرججز، لارڈ چانسلر، سکاٹ لینڈ میں فرسٹ منسٹر، ویلز میں اسمبلی کے فرسٹ منسٹر اور شمالی آئرلینڈ کے سیکریٹری آف سٹیٹ سے مشاورت کرناضروری ہوتاہے۔ کینیڈا میں گورنر جنرل کابینہ کی مشاورت سے سپریم کورٹ میں تقرریاں کرتاہے۔ امیدوار کی چھان بین جوڈیشل ایڈوائزری کمیٹی کرتی ہے اور صرف ایسے وکلاءدرخواست دے سکتے ہیں جو قانونی وآئینی تقاضے پورے کرتے ہوں۔ کمیٹی کی جانب سے نظرثانی شدہ فہرست جس میں امیدواروں کے انتخاب یا مسترد ہونے کی وجوہات بھی درج ہوتی ہیں، ا±سے وفاقی وزیر برائے انصاف کو بھیج دیاجاتاہے، جو بعد میں کابینہ کو سفارشات بھیجتاہے۔ آسٹریلیا میں ججوں کی تقرری گورنر جنرل کرتاہے۔ عملی طور پر اس کا مطلب ہے کہ تقرری اٹارنی جنرل کی سفارش پر کابینہ کرتی ہے۔ آسٹریلیا میں ججز مقابلے کے امتحانات دے کر کوالیفائی کرتے ہیں۔ پاکستان کے آئین کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا تقرر صدر کرتا ہے جب کہ دیگر ججوں کا تقرر صدر مملکت چیف جسٹس کے مشورہ سے کرتا ہے۔ آئین کے تحت صدر اس بات کا پابند نہیں کہ وہ اس سلسلہ میں پارلیمنٹ سے منظوری حاصل کرے۔ پاکستان میں اعلی عدلیہ میں ججوں کی تعیناتی کا طریق کار ہمیشہ سے ہی متنازعہ رہا ہے۔ وکلاءرہنما سمجھتے ہیں کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے ججوں کی تقرری کو شفاف بنانے کے لیے بار کونسلز کے نمائندوں اور پارلیمانی کمیٹی کو مشاورت میں شامل کیا گیا تھا لیکن سپریم کورٹ کے سترہ رکنی لارجر بنچ نے کمیٹی کی بامعنی مشاورت کا کردار ختم کر کے تمام اختیار جوڈیشل کمیشن کو دے دیا۔ اس فیصلے کے بعد کمیشن کی حیثیت جج صاحبان کی اکثریت کے باعث '' ججز کلب'' کی بن چکی ہے۔ جوڈیشل کمیشن اس وقت نو اراکین پر مشتمل ہے، جس کے چیئرمین و سربراہ چیف جسٹس پاکستان ہیں جن میں چار سینئر ترین ججز اور دیگر ممبران میں سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج ، وفاقی وزیر قانون ، اٹارنی جنرل اور پاکستان بار کونسل کے نمائندے شامل ہیں۔ ہائیکورٹ کے جج کی تعیناتی کی صورت میں کمیشن میں متعلقہ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس،ایک سینئر ترین جج، صوبائی وزیر قانون اور صوبائی بار کونسل کا نمائندہ شامل ہو گا۔ کمیشن کی اس تشکیل سے یہ بات واضح ہے کہ کمیشن میں اکثریت ججز کی ہے جس کے باعث دیگر اراکین اس پر مشاورت بھی نہیں کر پاتے اور ووٹنگ کے ذریعے اکثریت سے فیصلہ کر لیا جاتا ہے۔ پارلیمانی کمیٹی آٹھ اراکین پر مشتمل ہے جس میں چار سینٹ اور چار قومی اسمبلی کے اراکین شامل ہوتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کے فیصلے سے قبل اس پارلیمانی کمیٹی کا کردار بہت اہم تھا جس نے نامزدگیوں پر اپنی رائے دینا تھی۔ اور یہ وہ طریق کار تھا جو دنیا کے دیگر ترقی یافتہ اور انصاف پرور ممالک میں اپنایا گیا ہے۔ لیکن اب یہ کمیٹی صرف جوڈیشل کمیشن کے فیصلے کو بغیر اعتراض صدر کو بھجوانے کی پابند ہو چکی ہے۔ پاکستان میں وکلاءکی سب سے بڑی تنظیم پاکستان بار کونسل کے اراکین سمجھتے ہیں کہ ججوں کی تقرری کا یہ طریق کار شفاف نہیں ہے اور جوڈیشل کمیشن میں ججز کی مناپلی قائم ہے۔ اسی طرح بار ایسوسی ایشنز کی قراردادوں کے باوجود آج تک جوڈیشل کمیشن کے رولز نہیں بنائے گئے۔ وکلاءکے خیال میں دنیا بھر میں ججوں کی تعیناتی میں پارلیمنٹ کا کردار لازم طور پر شامل رکھا گیا ہے۔ لیکن جب یہی طریقہ کار یہاں اپنانے کی کوشش کی گئی تو عدلیہ نے ہی اسے تسلیم نہیں کیا۔ لہٰذا اب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ آئینی ترمیم کے ذریعے پارلیمانی کمیٹی کے کردار کو فعال کر کے بامقصد مشاورت میں شامل کیا جائے۔ تاکہ سیاسی مصلحتوں یا وفاداریوں سے مبرا ہو کر صرف لائق اور دیانتدار افراد کو ان عہدوں پر فائز کیا جا سکے۔ ججوں کی تقرری کے لیے انتخاب کے موجودہ طریقہ کار میں ایک اور بڑی خامی یہ ہے کہ اس کے تحت افراد کی اہلیت کے بجائے پسند نا پسند اور موروثیت کو مدنظر رکھا جانے لگا ہے۔ پاکستان کی اعلی عدلیہ میں آج بھی بہت سے جج صاحبان ایسے ہیں جو کسی جج کے بیٹے، بھتیجے یا قریبی عزیز ہیں، یعنی یہ شعبہ بھی موروثیت سے پاک نہیں رہ سکا۔ حال ہی میں لاہورہائیکورٹ میں تقرر پانے والے ججوں میں سے اکثریت وہ ہے جن کے باپ دادا بھی جج رہے ہیں۔ ان دنوں لاہورہائیکورٹ میں ججز کی بارہ آسامیاں خالی ہیں جنھیں پر کرنے کے لئے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے وکلاءاور سیشن ججز پر مشتمل ناموں کی فہرست تیار کی ہے۔ موجودہ طریقہ کار میں چیف جسٹس ہائی کورٹ چھان بین (جس میں ایجنسیوں کی برائے نام کلیرنس شامل ہے) کے بعد مجوزہ ناموں کی فہرست جوڈیشل کمیشن کو اور وہ اسے پارلیمانی کمیٹی کو اور کمیٹی کسی عملی کردار کے بغیر اسے صدر کو بھجوا دیتی ہے۔ اور صدر پاکستان کی منظوری کے بعد تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جاتا ہے۔ یعنی اس طریقہ کار میں حتمی رائے جوڈیشل کمیشن کی ہوتی ہے۔ آخری اطلاعات کے مطابق ججوں کے مجوزہ ناموں کی اس فہرست میں بھی دو ریٹائرڈ ججوں کے بیٹوں کے نام شامل ہیں۔ سینئر وکلاءکی رائے میں اعلی عدلیہ میں تقرری کے لیے امیدوار کی اہلیت کا اندازہ اس کے رپورٹڈ کیسوں کی بنیاد پر لگایا جانا چاہیے۔ ان دنوں شنید ہے کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے ججزکی تعیناتی کا طریقہ کار تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہی وقت ہے کہ ریاست، عدلیہ اور وکلاءمل کر پاکستان کو عدل پرور ملک کا درجہ دلانے کے لئے شفاف تعیناتی کا بہترین طریقہ کار وضع کریں تاکہ ہماری بے انصافیوں کی شکار عوام بھی انصاف ہوتا دیکھ سکے۔


ای پیپر