بدترین لوگ اور عظیم لوگ!
28 مارچ 2019 2019-03-28

نیوزی لینڈ میں ہونے والی دہشت گردی کے حوالے سے لکھے جانے والے اپنے گزشتہ کالم میں، میں نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جینڈاآرڈرن کے ان جذبات کا ذکر کررہا تھا جو اس موقع پر مسلمانوں کے ساتھ اظہار یک جہتی یا اظہار ہمدردی کے لیے کچھ اس انداز میں سامنے آئے مسلمانوں کے انہوں نے نہ صرف دل جیت لیے بلکہ اس تاثر کو نئی زندگی بخش دی یا اس میں نئی روح پھونک دی کہ انسانیت کی قدر کے حوالے سے گورے ہم نام نہاد مسلمانوں سے کہیں آگے ہیں....نیوزی لینڈ کی گریٹ وزیراعظم کو ایک دُکھ یقینا یہ ہوگا دہشت گردی کے اس سانحہ میں بے شمار بے گناہ انسان شہید ہوگئے۔ دوسرے وہ اِس پر بھی یقیناً غم زدہ ہوگی کہ یہ سانحہ اُس کے ملک میں ہوا۔ گورے حکمران ان واقعات کو کتنی اہمیت دیتے ہیں اس حوالے سے ایک واقعہ مجھے مرحوم جاوید نور نے سنایا تھا، وہ آئی جی عہدے کے ایک انتہائی ایماندار اور شاندار افسرتھے، ایسے افسراب چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے۔ اپنی زندگی کے آخری حصے میں وہ کینسر کے موذی مرض میں مبتلا ہو گئے تھے، حمید لطیف ہسپتال میں انہیں کیمو لگتی تھی، کبھی کبھی ایسے ہوتا میرا گھر چونکہ اس ہسپتال کے قریب ہے تو وہ کیمو لگوانے کے بعد یا چیک اپ کے بعد میرے گھر آجاتے۔ اپنی زندگی کے مزے مزے کے واقعات سناتے۔ اور میں سوچتا رہ جاتا کتنا بہادر انسان ہے اپنی اذیت اور تکلیف کو ذرا خاطر میں نہیں لاتا۔ ایک روز ایسی ہی ایک نشست میں انہوں نے بتایا کوئی بیس پچیس برس قبل جب وہ اپنے فرائض بطور ایس پی انجام دے رہے تھے ایک سال کی ٹریننگ یا کسی کورس وغیرہ کے لیے انہیں کینیڈا جانا پڑا۔ وہاں ان دنوں اخبارات میں ایک واقعہ کا بڑا چرچا ہورہا تھا، ہوا یوں یمن سے ایک خاتون وزٹ ویزے پر کینیڈا آئی کینیڈا کے ایک شہر کی کسی مارکیٹ سے گزرتے ہوئے ایک Stray Bulletاس کے کاندھے سے چھوکر گزر گئی جس سے اس کے کاندھے سے خون بہنے لگا۔ اس نے وہاں عدالت میں کینیڈین حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کردیا، اس مقدمے میں اس نے لکھا ” کینیڈا سیاحوں کے لیے ایک محفوظ ملک نہیں ہے، یہاں سیاحوں کو تحفظ فراہم نہیں کیا جاتا، کینیڈین وزیراعظم عدالت میں پیش ہوکر اس کی وضاحت دیں اور اپنے عہدے سے مستعفی ہوں“....عدالت نے کینیڈین وزیراعظم کو طلب کیا وہ عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے یمنی خاتون سیاح سے معذرت کی، اسے یقین دلایا آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے بہترین اقدامات کیے جائیں گے۔“ یمن سے آنے والی خاتون سیاح نے وزیراعظم کی معذرت کو قبول کرتے ہوئے عدالت سے استدعا کی اس مقدمے کو خارج کردیا جائے۔ اس پر کینیڈین وزیراعظم نے اس خاتون کا شکریہ ادا کیا۔ ساتھ ہی ایک استدعا بھی کی کہ ”اپنے مقدمے میں آپ نے لکھا ہے “ کینیڈا سیاحوں کے لیے محفوظ ملک نہیں ہے، اس سے میرے ملک (کینیڈا) کی شہرت کو مالی و اخلاقی لحاظ سے نقصان پہنچے گا لہٰذا میری گزارش ہے جہاں آپ نے اس مقدمے میں معاف کرکے بڑے ظرف کا مظاہرہ کیا وہاں اگر اپنے یہ الفاظ واپس لے لیں اور مقدمے کی تحریر سے اسے خارج کردیں کہ ”کینیڈا سیاحوں کے لیے محفوظ ملک نہیں ہے“ تو مجھے اس کی اس سے زیادہ خوشی ہوگی کہ آپ نے مجھے معاف کردیا ہے، اور اگرآپ نے اپنے یہ الفاظ واپس نہ لیے تو مجھے آپ کی طرف سے معافی ملنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا، نہ کوئی خوشی ہوگی“۔.... اِس پر خاتون نے جج سے درخواست کی کہ وہ اپنی درخواست مقدمے سے یہ الفاظ خارج کرنا چاہتی ہے، .... جناب جاوید نور کی زبانی یہ واقعہ سن کر مجھے بڑی حیرت ہوئی، میں نے سوچا یہ کس قدر آبرو مند لوگ ہیں، ورنہ جب یمنی خاتون نے کینیڈین وزیراعظم کو معاف کردیا تھا، یعنی اس مقدمے سے اس کی جان چھوٹ گئی تھی اُسے اُس خاتون سے مزید تقاضا یا گزارش کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی کہ وہ اس کے ملک (کینیڈا) کے خلاف اپنے مقدمے میں لکھے گئے الفاظ واپس لے۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے یہ گورے بڑے حساس ہوتے ہیں، یہ درست ہے بعض اوقات خالصتاً اپنے ملک کے مفاد میں انہیں مجبورا ً کچھ ایسے اقدامات کرنے پڑ جاتے ہیں جن سے ان کے بارے میں قائم اس تاثر کو زد پہنچتی ہے کہ وہ انسانیت کی خدمت یا قدر کرنے والے لوگ ہیں، مگر اجتماعی طورپر اپنے اعمال سے اپنے بارے میں انہوں نے ہمیشہ یہی تاثر دیا یا ایسی

مثالیں ہی قائم کیں جن سے یہ ثابت ہوا وہ واقعی انسانیت کی قدر کرنے والے ہیں، اور مجموعی طورپر کسی ایسے اقدام کی حمایت نہیں کرتے جس سے انسانیت کی تذلیل ہو، میں دنیا کے تقریباً 33ممالک کی سیاحت کرچکا ہوں، میری محرومی یا بدقسمتی ہے میں نے اتناپاکستان نہیں دیکھا جتنی گوری دنیا اب تک دیکھ لی، خصوصاً یورپ، امریکہ، کینیڈا ، برطانیہ اور آسٹریلیا کا شاید ہی کوئی شہر ایسا ہوگا جہاں میں نہیں گیا۔ اتنی سیاحت کے بعد میں یہ کہنے میں بلکہ بار بار کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا انسانیت کی قدر اور خدمت کے حوالے سے گورے ممالک کی اکثریت ہم نام نہاد مسلمانوں سے کہیں بہتر ہے۔ مجھے بے شمار عرب ممالک میں جانے کا اتفاق بھی ہوا، خصوصاً میں کویت ہرسال جاتا ہوں، ان ممالک میں انسانیت کی خدمت یا قدر کے حوالے سے وہ جذبہ ہرگز نہیں پایا جاتا، یا کم ازکم میں نے وہ جذبہ ہرگز محسوس نہیں کیا جو میں نے اکثر گورے ممالک میں کیا، کچھ مولوی صاحبان مجھ سے ناراض نہ ہوں ان سے معذرت کے بغیر میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں گورے اگر اپنی زندگی سے شراب، زنا اور اس نوعیت کی دیگر عیاشیاں نکال دیں کم ازکم انسانیت کی قدر اور خدمت کے حوالے سے ہم انہیں ”ولی اللہ“ قرار دیں۔ یہ عیاشیاں ہم بے شمار نام نہاد مسلمانوں میں بھی بہت ہیں، اس کے باوجود ہماری منافقت کی یہ انتہا ہے ہم خود کو ان سے ہر لحاظ سے بہتر قرار دیتے ہیں، میں نے ایک بڑے کالم نگار سے پوچھا ”آپ کی نظر میں شراب حرام ہے یا حلال ؟“....اس نے شاید اپنی شراب نوشی کو جائز قرار دینا تھا، اس نے ”منطق “ نکالی۔ وہ کہنے لگا ” حرامیوں کے لیے حرام ہے حلالیوں کے لیے حلال ہے“۔ .... ہمارے لیے سب کچھ ”حلال“ ہے سوائے انسانیت کی قدر کے۔ کویت ہمارا ”برادر اسلامی ملک “ ہے۔ پچھلے نودس برسوں سے اس ”برادر اسلامی ملک “ نے پاکستانیوں کے لیے ویزہ بند کررکھا ہے۔ اس وجہ سے وہاں مقیم پاکستانی ایسی اذیت کا شکار ہیں جس کا اظہار الفاظ میں ممکن نہیں، کسی گورے ملک نے پاکستانیوں یا مسلمانوں کے لیے ویزہ بند کرکے انہیں ایسی اذیت نہیں دے رکھی جیسی ہمارے برادر اسلامی ملک نے دے رکھی ہے۔ کچھ ہم بھی اس کے ذمہ دار ہوں گے، ہمیں بھی اس حوالے سے اپنی غلطیوں کا ازالہ کرنا چاہیے، مگر میں یہ بات پورے وثوق سے کہتا ہوں بے شمار گورے ممالک نے ہماری تمام تر خرابیوں کے باوجود ہمیں قبول کیا ہوا ہے، وہ ہمیں ویسی اذیت نہیں دیتے جیسی ہمارے اکثر ”برادر اسلامی ممالک“ دیتے ہیں !


ای پیپر