لندن فلیٹس نواز شریف کے ہیں یا نہیں ،سنسنی خیز انکشافات
28 مارچ 2018 (22:57)

اسلام آباد: ایون فیلڈپراپرٹیز ریفرنس میںجے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاءنے اعتراف کیا ہے کہ انہیں ایسی کوئی دستاویز نہیں ملی جس پر سابق وزیر اعظم نواز شریف کے لندن فلیٹس کے مالک یا بینی فیشل اونرکے طور پر نوازشریف کا نام ہو، گلف اسٹیل مل کی ملکیت بھی نوازشریف کے ہونے کی کوئی دستاویز نہیں ،گلف سٹیل ملز کی فروخت کی رقم کے لین دین میں نواز شریف شامل نہیں تھے،ایسی کوئی دستاویز نہیں کہ نواز شریف العزیزیہ مل چلاتے رہے یا ان کا اس کاروبار سے کوئی تعلق ہو،ایسی کوئی دستاویز نہیں کہ نواز شریف العزیزیہ مل چلاتے رہے یا ان کا اس کاروبار سے کوئی تعلق ہو ، پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاءکو نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث کی جانب سے جرح میں سخت سوالوں کا سامنا رہا ۔ گزشتہ روز احتساب عدالت میں سابق وزیر اعظم نواز شریف ، مریم نواز ، کیپٹن ریٹائرڈ صفدر پیش ہوئے جبکہ پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاءکو نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث کی جانب سے جرح میں سخت سوالوں کا سامنا کرنا پڑا اور جرح کے دوران واجد ضیاءنے بتایا کہ ایون فیلڈ پراپرٹیز، نیلسن اور نیسکول کمپنیوں کی ملکیت تھیںاورایسی کوئی دستاویزات نہیں ہیں جن سے ثابت ہو سکے کہ نواز شریف ان کے بینیفیشل مالک ہیں ۔

نیلسن اور نیسکول کے ساتھ غیر سرکاری اور رجسٹرڈ فرم موزیک فونسیکا ڈیل کر رہی تھی ۔جے آئی ٹی نے میوزک فونسیکا سے براہ راست کوئی خط و کتابت نہیں کی۔ہم نے براہ راست بی وی آئی اٹارنی جنرل آفس سے خط و کتابت کی، واجد ضیاءنے بتایا ابتدائی طور پر ہم نے بی وی آئی کی ایف آئی اے کو خط لکھا۔بی وی آئی کی ایف آئی اے نے خط کا کوئی جواب نہیں دیا، خواجہ حارث نے کہا والیم چار کا صفحہ 53 اور 54 دیکھیں کیا یہ خط بی وی آئی کی ایف آئی اے نے نہیں لکھا، واجد ضیاءنے کہاجوابی خط مجھے براہ راست نہیں ملا خط ڈائریکٹر فنانشل انوسٹی گیشن ایجنسی کے دستخط کے ساتھ تھا۔کوئی ایسی دستاویزات سامنے نہیں آئیں کہ دوہزار بارہ میں بی وی آئی ایف آئی اے اور موزیک فونسیکا کے درمیان خط و کتابت ہوئی۔ بینیفیشل آونر کا نتیجہ دوہزار بارہ اور دوہزار سترہ کے دو خطوط اور وہاں کے قوانین کے مطابق نکالا، رجسٹرڈ آف شیئر ہولڈرز کی اصل دستاویزات کبھی نہیں دیکھیں۔واجد ضیاءنے بتایا کہ کبھی کوئی گواہ ایسا پیش نہیں ہوا جس نے یہ کہا ہو کہ دو کمپنیوں نیلسن اینڈ نیسکول کے بیرئر شیئرز کبھی بھی نواز شریف کے پاس رہے۔ لندن فلیٹس سے متعلق نواز شریف کے حوالے سے کسی بھی آفس میں کوئی خط و کتابت نہیں ملی ایسی بھی کوئی دستاویزات سامنے نہیں آئی کہ نواز شریف نے لندن فلیٹس کے یوٹیلیٹی بل ادا کئے ہوں، لندن فلیٹس انیس سو ترانوے اور پچانوے میں نیلسن اور نیسکول کے نام پر خریدے گئے۔ ایسی کوئی دستاویزات نہیں ملیں جس سے ظاہر ہو کہ نواز شریف نیلسن اور نیسکول کے رجسٹرڈ ڈائریکٹر یا نامزد ڈائریکٹر یا شیئر ہولڈر یا نامزد شیئر ہولڈر ہوں۔کوئی دستاویزات بھی نہیں کہ نواز شریف لندن فلیٹس کے ٹرسٹی یا بینیفشری ثابت ہوںاور ایساکوئی ثبوت نہیں کہ نواز شریف گلف سٹیل کے مالک یا شیئرہولڈر ہوں۔

جے آئی ٹی کے سامنے صرف طارق شفیع نے کہا کہ گلف سٹیل کا شیئر ہولڈر شریف خاندان ہے کسی گواہ نے نہیں کہا کہ نواز شریف گلف سٹیل کے مالک یا شیئر ہولڈر ہیں واجد ضیاءنے کہا العزیزیہ سٹیل ملز میاں شریف نے حسین نواز ، رابعہ شہباز اور عباس شریف کے نام کی کوئی ایسی دستاویز نہیں کہ رابعہ شہباز اور عباس شریف العزیزیہ گئے ہوں۔ تین پارٹنر تھے تو پیسے تینوں میں تقسیم کیوں نہیں ہوئے ۔جے آئی ٹی نے اس معاملہ پر رابعہ شہباز کو کبھی طلب نہیں کیا۔جے آئی ٹی نے العزیزیہ کا نفع ملنے یا نہ ملنے سے متعلق پوچھنے کے لیے بھی طلب نہیں کیا۔عباس شریف اور ان کے خاندان کے کسی فرد کو بھی جے آئی ٹی نے طلب نہیں کیا ۔ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت آ ج دن بارہ بجے تک ملتوی۔


ای پیپر