ملاقات
28 مارچ 2018

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور چیف جسٹس ثاقب نثار کے مابین اچانک لیکن باقاعدہ ملاقات ہو گئی۔۔۔ دو گھنٹے تک جاری رہی۔۔۔ اس کی کوکھ سے قومی سطح پر مفاہمت اور اداروں کے مابین ہم آہنگی کی راہ جس کی ضرورت بہت محسوس کی جا رہی ہے ہموار ہو گی یا نہیں۔۔۔ اگر ایسا ہو گیا تو مفاہمت کے خدّوخال کیا ہوں گے۔۔۔ کیا معاملات کسی نئے این آر او پر منتج ہوں گے یا تمام فریقین کے درمیان طے پا جائے گا عافیت اور قوم و ملک کی فلاح اسی میں ہے آئین پاکستان کی سختی کے ساتھ پابندی کی جائے ۔۔۔ ہر کوئی دستور پاکستان کے وضع کردہ نقشے پر عمل پیرا ہوتا ہوا قومی اور جمہوری مقاصد کی تکمیل کے لیے قدم آگے بڑھائے گا۔۔۔ دوسرے الفاظ میں کیا اس ڈاکٹرائین کے رہنما خطوط کو اپنایا جائے گا۔۔۔ جس کے خدّوخال ابھی تک واضح نہیں۔۔۔ کسی قطعی شکل میں سامنے نہیں لایا گیا۔۔۔ اس کا چرچا البتہ بہت ہو رہا ہے۔۔۔ کیونکہ اس کے ساتھ ملک کی طاقتور سمجھے جانے والی ہستی کا نام جڑا ہوا ہے ۔۔۔ اس کے تصور کو صحافیوں کے ساتھ ہونے والی ایک گفتگو سے اخذ کیا گیا۔۔۔ تان اس ڈاکٹرائین کی ابھی تک سامنے آنے والی دھندلی سی تفصیلات کے مطابق اس پر ٹوٹتی ہے کہ انتخابات کا انعقاد بوجوہ التواء کا شکار ہو سکتا ہے۔۔۔ اگرچہ فوج کے ترجمان نے تردید کی ہے اور کہا ہے باجوہ ڈاکٹرائین کا تعلق صرف پاکستان کی سلامتی کے امور سے ہے چیف جسٹس کی جانب سے بھی ایک اخباری انٹرویومیں اس قسم کی تاخیر کا اشارہ دیا گیا۔۔۔ یہاں تک کہہ دیا گیا ایسی صورت میں نظریہ ضرورت زندہ ہو سکتا ہے۔۔۔ گویا اس مردار کی خواہ جتنی مذمت کریں اس کا تصور ہماری حکمران قوتوں اور ان کا ہمیشہ سے ساتھ دینے والوں کو بہت عزیز ہے۔۔۔ اس کی آڑ لے کر آئین اور جمہوریت کے خلاف ہر کام کیا جا سکتا ہے۔۔۔ انتخابات کو ملتوی کرنا تو چھوٹی سی بات ہے۔۔۔ بڑا ایجنڈا پیش نظر ہے۔۔۔ دوسری جانب ملک کی سب سے بڑی سیاسی اور عوامی قوت کے نمائندہ سابق وزیراعظم کو معلوم نہیں اس ملاقات کے بارے میں پیشگی علم تھا یا نہیں۔۔۔ ان کی مرضی اور تائید اس میں شامل تھی یا نہیں۔۔۔ حکومتی سطح پر اس کا ایجنڈا کس نے طے کیا تھاکل ملاقات کے اگلے روز نواز شریف نے ملاقات پر براہ راست تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔۔۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے پیش نظر فی الواقع کیا اہداف تھے۔۔۔ اس بارے میں بھی دستیاب معلومات کی حد تک قطعی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔۔۔ البتہ یہ بات انہوں نے ایک ٹی وی انٹرویو میں ضرور کہی تھی کہ اداروں کے مابین مفاہمت لازماً ہونی چاہیے۔۔۔ نوازشریف بھی کہہ چکے تھے تمام سٹیک ہولڈرز کو آئین کی پابندی کرتے ہوئے ایک لائحہ عمل پر اکٹھے ہو جانا چاہیے۔۔۔ ملاقات سے کچھ گھنٹے قبل انہوں نے پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں اپنی جماعت کے سینئر رہنماؤں اور اتحادیوں کے ساتھ گفتگو کے دوران یہ بھی کہا انتخابات کے انعقاد میں ایک دن کیا ایک گھنٹے کی بھی تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔۔۔ اگر کوئی رکاوٹ ہے تو جن کے ہاتھ میں طاقت ہے ان سب کا فرض ہے اسے دور کریں نہ کہ آئینی عمل کے التوا کا باعث بنیں۔۔۔ ’’یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ کچھ ادارے آئین کے الفاظ اور روح کی پابندی نہیں کر رہے‘‘۔۔۔ سٹیک ہولڈرز کے ان تمام بیانات، ارادوں اور عزائم کو سامنے رکھ کر جائزہ لیا جائے تو اس خدشے کا امکان نظر آتا ہے کہ خاص ڈکٹرین آئین پاکستان کے ساتھ ٹکرا سکتا ہے۔۔۔ کیا وزیراعظم عباسی اسی ٹکراؤ کو روکنے کے لیے اپنی درخواست پر چیف جسٹس ثاقب نثار کے ساتھ طویل ملاقات کے لیے گئے تھے۔
خدا کرے ان کی ملاقات اس لحاظ سے نتیجہ خیز ثابت ہوئی ہو۔۔۔ مفاہمت کی کسی صورت پر اتفاق رائے کا امکان پیدا ہو گیا ہو اور یہ کہ ایسی کوئی بھی مفاہمت آئین پاکستان کے الفاظ اور روح سے جا ٹکرانے والی نہ ہو۔۔۔ یہاں اس بات کو دہرانے کی
ضرورت نہیں آئین مملکت سے جب بھی جس بہانے اور جس نام نہاد نظریے کی آڑ لے کر انحراف کیا گیا آخری نتیجے کے طور پر ملک اور قوم کے لیے تباہ کن ثابت ہوا۔۔۔ پاکستان کی ستر سالہ تاریخ اس کی بدقسمت مثالوں سے بھری پڑی ہے۔۔۔ ہماری ناکامیوں کا سب سے بڑا عنوان ہی یہ ہے آئین کو پس پشت ڈال کر اور غیرمنتخب، غیرنمائندہ اداروں کی مرضی پر عمل پیرا ہو کر اس قوم نے اپنی حرماں نصیبی کی داستانیں رقم کرنا شروع کر دیں۔۔۔ ملک دولخت ہوا۔۔۔ بھارت جیسے کمینے دشمن کے آگے ہتھیار پھینکنے پڑے۔۔۔ ایسے ہی ادوار میں امریکہ کی جنگوں کے شاہسوار بنے۔۔۔ جن کے لگائے ہوئے زخم اب تک چاٹ رہے ہیں۔۔۔ مارشل لاؤں کی سرزمین کہلوایا۔۔۔ جمہوریت کو کبھی پنپنے نہ دیا گیا۔۔۔ نتیجے کے طور پر ملکی ترقی کا عمل اگر شروع بھی ہوتا تھا اس کے آگے بند باندھ دیا جاتا۔۔۔ ہم اقتصادی طور پر غیروں کے دست نگر بن گئے۔۔۔ شاید اندرون اور بیرون ملک کچھ قوتیں ایسی ہیں جو پاکستان کو آئینی اور جمہوری ملک کے طور پر کامیاب دیکھنا چاہتی ہیں نہ اس سر زمین پر اقتصادی ترقی اور معاشی خود کفالت کے پہیے کو اس طرح رواں دواں ہونے دینا چاہتی ہیں کہ ملک کی معیشت اپنے پاؤں پر کھڑی ہو جائے۔۔۔ ڈالر ڈالر کے لیے غیروں کی محتاج نہ رہے۔۔۔ اگر کسی نام نہاد ڈاکٹرین پر عمل کرتے ہوئے انتخابی عمل کو ایک مرتبہ پھر روک دیا گیا تو جمہوریت کے قدم بھی اکھڑ جائیں گے۔۔۔ معاشی ترقی کا جو عمل 2013ء میں شروع ہو اتھا انجماد کا شکار ہو جائے گا۔۔۔ چند سالوں بعد جب اس کے مفسد نتائج بد عملی کا روپ دھار لیں گے تو رونا پیٹنا شروع ہو جائے گا۔۔۔ کتنی بڑی غلطی تھی جو سرزد ہو گئی۔۔۔ ہم نے آئینی اور جمہوری گاڑی کو ایک مرتبہ پھر پٹری سے کیوں اترنے دیا۔۔۔ کیا اس سے قبل ناکامی کی داستانیں ہمیں سبق سکھانے کے لیے کافی نہ تھیں۔۔۔
لہٰذا جناب وزیراعظم اور محترم چیف جسٹس کے مابین ہونے والی تازہ ترین ملاقات ہماری قومی تاریخ میں سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔۔۔ ہمیں آر یا پار لگا سکتی ہے۔۔۔ اگر کسی قسم کی مفاہمت میں یہ طے پایا ہے آئین سے انحراف کی ماضی کی حماقتوں کو دوبارہ در نہیں آنے دیا جائے گا۔۔۔ بروقت انتخابات کے انعقاد کی راہ میں اگر کوئی فی الواقع رکاوٹ ہے مثلاً حلقہ بندیاں تو الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ہر ممکن تعاون اور سہولت فراہم کر کے انہیں آڑے نہیں آنے دیا جائے گا۔۔۔ آخر 2002ء کے چناؤ سے پہلے بھی حلقہ بندیوں کے حوالے سے مجموعی طور پر 985 اعتراضات یا شکایات سامنے آئی تھیں۔۔۔ جبکہ 2018ء سے قبل ابھی تک صرف 89 اعتراضات موصول ہوئے ہیں اگر985 اعتراضات بحسن و خوبی اور بروقت رفع کر کے انتخابی شیڈول میں سر مو فرق نہیں آنے دیا گیا تھا تو 89 شکایات خواہ کتنی بڑی ہوں انہیں طے شدہ نظام الاوقات کے اندر دور کرنے میں کیا امر مانع ہو سکتا ہے۔۔۔ صرف نیت صاف اور ارادہ پختہ ہونا چاہیے۔۔۔ موجودہ اور منتخب حکومت کی آئینی مدت آئندہ یکم جون کو ختم ہونے والی ہے۔۔۔ اس کی جگہ نگران انتظامیہ لے لے گی جو آئین کے تحت 60 روز کے اندر عام اور الیکشن کمیشن کے ساتھ مل کر شفاف اور آزادانہ انتخابات منعقد کرانے کی پابند ہو گی۔۔۔ اس میں کسی تیسرے ادارے کا بظاہر کوئی کردار نظر نہیں آ رہا، پھر کس ارادے اور مصلحت کے تحت دوسروں اور غیر متعلقہ اداروں کی جانب سے منہ ماری کی جا رہی ہے۔۔۔ جو ان کا کام نہیں ۔۔۔ جس کا فریضہ آئین اور ملک کے عوام ان کے سپرد نہیں کرتے وہ کیوں مداخلت بے جا کے مرتکب ہو رہے ہیں۔۔۔ کیا کسی دوسرے آئینی اور جمہوری لحاظ سے کامیاب ملک میں ایسی کوئی مثال دی جا سکتی ہے۔۔۔ پھر ہم کیوں اتنے بدقسمت ثابت ہوئے ہیں کہ قومی اور ملکی تاریخ کے ہر اہم موڑ پر مقتدر قوتوں کو کسی نہ کسی بہانے انتخابات کے انعقاد میں التوا پیدا کرنے کی فکر دامن گیر ہو جاتی ہے۔۔۔ اس کے ساتھ ’’مثبت نتائج‘‘ کے حصول کے لیے نت نئی تدابیر سوچی اور اختیار کی جاتی ہیں۔۔۔ مرضی کے نتائج اس کے باوجود سامنے نہ آئیں تو سب کچھ توڑ پھوڑ کے پھینک دیا جاتا ہے۔۔۔ یہ مذاق ایک مرتبہ تو نہیں کیا گیا۔۔۔ ہماری تاریخ کے بیشتر اوراق اس سے سیاہ ہیں ۔ عجیب لوگ واقع ہوئے ہیں ہم اور عجیب تر ہیں ہمارے ’’اصل حکمران‘‘ جو قوم کو ایک ہی سوراخ کے اندر بار بار ہاتھ ڈالنے اور اسی ایک سانپ سے ڈسے جانے کی ترغیب دیتے ہیں۔۔۔ وزیراعظم عباسی اور قاضی القضاۃ ثاقب نثار دونوں کی حب الوطنی اور آئین و جمہوریت دوستی پر شبہ نہیں کیا جا سکتا۔۔۔ آئندہ ماہ جولائی کی جس تاریخ کو بھی آئینی شیڈول کے مطابق انتخابی عمل انعقاد پذیر ہوں گے اس وقت جناب عباسی اپنے عہدے سے ریٹائر ہو چکے ہوں گے۔۔۔ ان کی جماعت البتہ چناؤ میں حصہ لے رہی ہو گی۔۔۔ جناب ثاقب نثار یقیناًاپنی کرسی عدالت پر فائز ہوں گے۔۔۔ لیکن آئین اور دستور مملکت کی رو سے انتخابی عمل کے انعقاد میں ان کا یا ان کے معزز ترین ادارے کا کوئی براہ راست کردار نہ ہو گا۔۔۔ سابق چیف جسٹس افتخار چودھری نے یہ کام کر کے دیکھ لیا سخت بدنامی کمائی ۔۔۔ بہتر ہے موجودہ دونوں رہنما تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف میں لکھوائیں اور بروقت چناؤ کے انعقاد میں جس قدر مددگار ثابت ہو سکتے ہوں اس میں کمی نہ آنے دیں۔ اس تناظر میں یہ بات حوصلہ افزا ہے کل اپنی پریس کانفرنس کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے غیرمبہم الفاظ میں کہا انتخابات اپنے وقت پر ہوں گے۔۔۔ ان کے انعقاد کی ذمہ داری حکومت، الیکشن کمیشن اور نگران انتظامیہ کی ہو گی۔۔۔ فوج کا اس ضمن میں کوئی کردار نہیں ہو گا۔۔۔امید ہے فوج کے ترجمان کی جانب سے اس یقین دہانی پر بھی الفاظ اور روح کے مطابق عمل ہو گا۔۔۔ نہ صرف بروقت انتخابات ہوں گے بلکہ شفاف طریقے سے انتقال اقتدار بھی ہو گا۔۔۔ اس کی خاطر بلوچستان اسمبلی اور سینیٹ چیئرمین کے چناؤ کے ڈرامے کو نہیں دہرایا جائے گا۔


ای پیپر