راستے دو ہیں
28 مارچ 2018 2018-03-28

دس سالہ مسلسل جمہوری ادوار کے بعد پاکستان اب دوراہے پر آکھڑا ہواہے۔ایک طرف معاشی اقتصادی ٹیک آف کی شاہراہ ہے جب کہ دوسری جانب وہ صورت حال ہے جس کی وجہ سے آگے بڑھنے کے عمل کو ریورس گیئر لگ سکتا ہے۔ راستے دو ہیں ۔فیصلہ قوم اور اس کے لیڈروں،فیصلہ سازوں کو کرنا ہے۔
ایسا بھی نہیں کہ اقتصادی صورت حال مثالی ہے۔ ایسا کہنا مبالغہ آرائی ہو گی۔جس طرح حالات خراب ہونے میں وقت لگتا ہے اسی طرح منفی حالات کو مثبت رنگ دینے میں وقت لگتا ہے۔ویسے بھی تخریب آسان اور تعمیرمشکل و پیچیدہ کام ہے۔جس طرح دیوار کو تعمیر کرنے میں مہینوں لیکن اس کو گرانے میں چند منٹ لگتے ہیں ۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارا آج، کل سے بہت بہتر ہے۔اگر اس بہتر آج سے پیدا شدہ امکانات سے فائدہ اٹھا لیا گیا تو آنے والا کل مزید بہتر ہو سکتا ہے۔آج کی صورت حال کیسی ہے،اس بات کا ثبوت بین الاقوامی حالات، ادارے اور ان کی مرتب کر دہ رپورٹس بتاتی ہیں ۔ اس سے پہلے کہ آگے بڑھیں ان چند رپورٹوں کا جائزہ لیتے جن کی بنیاد پر بندہ مزدور قلم ا ٹھانے پر مجبور ہوا۔حال ہی میں عالمی بینک نے جنوبی ایشیاء کے حوالے سے ایک رپورٹ مرتب کی۔عنوان تھا جنوبی ایشیاء میں ذرائع نقل و حمل کے لیے مواصلاتی راہداریوں کا قیام‘‘۔رپورٹ عالمی بینک کے ماہرمارٹن ملائیکی اور دیگر ڈونر اداروں کے تعاون سے تیار کی گئی۔ رپورٹ تیار کرنے کے بعد برطانیہ، جاپان، ایشیائی ترقیاتی بینک کو ارسال کی گئی۔ اتفاق رائے کے بعد یہ رپورٹ ان تمام بین الاقوامی اداروں نے متفقہ طور پر شائع کی۔ تفصیل سے بعد میں بات کرینگے۔لیکن اجمالی سا جائزہ بتاتا ہے اس رپورٹ میں پاک،چین اقتصادی رہداری سمیت مختلف میگا منصوبوں کا جائزہ لیا گیااس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سی پیک منفرد پراجیکٹ ہے۔جو خطہ میں قائم ہونے والے منصوبوں سے بہت بہتر اور ثمر آور ہے۔یہ منصوبہ نہ صرف قابل عمل ہے بلکہ اس کے ذریعے پاکستان اور چین ہی نہیں کئی خطے فائدہ اٹھائیں گے۔ اس منصوبے کے ذریعے چین نہ صر ف مشرق وسطیٰ سے منسلک ہو جائے گا بلکہ وسطی ایشیائی ممالک بھی افریقی مارکیٹوں کے ساتھ جڑ جائیں گے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اقتصادی راہداری کے تحت سڑکوں،ریلوے اور بندرگاہوں کے شعبے میں جو سرمایہ کاری کی جا رہی ہے،جس طرح کا انفراسٹرکچر تعبیر کیا جا رہا ہے،نئے تجارتی راستے کھل رہے ہیں ،اس سے نہ صرف مقامی آبادی کو روزگار ملے گا بلکہ پاکستان میں اقتصادی
سرگرمیوں کو فروغ بھی ملے گا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سی پیک پر تیزی سے عمل درآمد نے پاکستان کو غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے قابل عمل خطہ بنا دیا ہے۔بلکہ معاشی ترقی کے امکانات میں اضافہ کیا ہے۔پاکستان میں سرمایہ کاری کے پیدا شدہ امکانات نے بعض دیگر عوامل کو بھی متعارف کرایا ہے۔ایک حالیہ عالمی سروے کے مطابق جب دنیا کے مختلف ساحلی شہروں اور بندرگاہوں کا موازنہ کیا گیا تمام تر ریسرچ کے بعد یہ حقیقت سامنے آئی کہ کراچی تجارتی سرگرمیوں، سہولتوں کے حوالے سے امریکی شہر شکا گو سے بھی آگے ہے۔ اس ریسرچ کے مطابق کراچی میں میسر سہولیات شکاگو سے بہت بہتر اور معیاری ہیں ۔اسی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان اگلے دو سالوں یعنی 2020 ء تک ان 50 بہترین اور بڑے ممالک میں شامل ہو جائے گا۔جہاں کاروباری سہولیات اور آسانیو ں کی فراہمی کا معیار عالمی سطح کا ہوگا۔ماضی میں پاکستان کا شمار دنیا کے 190 ممالک میں 147 واں تھا۔لیکن اگلے دو سال میں پاکستان پچاس بڑے ممالک میں شامل ہو گا۔حیران کن بات یہ ہے کہ بات اسی کراچی شہر کی ہو رہی ہے جس کو کئی عشروں سے سیاسی مافیا نے اپنے شکنجے میں لے رکھا تھا۔لیکن اب جب یہ مافیا شکست کھا چکا۔مافیا باس تو اپنے بل میں پناہ گزین ہے۔لیکن اس کے سیاسی چیلے منتشر ہو چکے۔اور آپس میں ایک دوسرے کو جوتیوں میں وال بانٹ رہے ہیں ۔کل تک اس شہر کی پہچان نو گو ایریاتھی۔ لسانی، فرقہ وارانہ، مسلکی فسادات تھے۔ بلیک میلنگ،بھتہ کی پرچیاں تھیں۔آج یہ امریکی ریاست شکاگو کے ہم پلہ ہے تو اس کو معجزہ ہی کہا جاسکتا ہے۔یہ معجزہ راتوں رات نہیں ہو ا۔اس کیلئے ساری قوم نے متحد ہو کر دن رات جدوجہد کی اور زیرو سے شروع ہو کر اس مقام تک پہنچی۔جی ہاں زیرو سے موجودہ مقام تک۔یہ کیسے ہوااس کیلئے 2013 ء کے ماہ مئی میں جانا ہو گا۔لیکن اس سے قبل کچھ تذکرہ ا س پانچ سالہ دور کا جب پیپلز پارٹی نے حکومت کی۔ یہ درست ہے اس دور میں پیپلزپارٹی کوئی بڑا ترقیاتی پراجیکٹ شروع نہ کر سکی۔لیکن اس دور میں سیاسی سطح پر تاریخ ساز اقدامات کیے گئے۔جس کے نتیجہ میں افہام و تفہیم کا دور شروع ہوا اورایسی زمین ہموارہوئی جس پر بیج بونے سے آج سیاسی استحکام کی فصل تیار ہوئی۔ اس دور میں پہلی مرتبہ پر امن انتقال اقتدار ہوا۔نئے صدر نے حلف اٹھایا اور سیاسی جماعتوں نے ایک دوسرے کے مینڈیٹ کو تسلیم کرنے کی نئی روایت ڈالی کیونکہ قانون سازی کا مرکز ومنبع پارلیمنٹ تھی۔ ماضی میں فیصلے سڑکوں پر ہوا کرتے تھے۔ 2013 ء کے انتخابات ہوئے تو پاکستان اپنی تاریخ کے مشکل ترین حالات سے گزررہا تھا۔بد ترین اقتصادی بحران تھا۔ توانائی کا ایسا بحران تھا کہ معیشت کا پہیہ جام تھا۔ گھر یلو صارفین کیلئے اٹھارہ،اٹھارہ گھنٹے لوڈشیڈنگ تھی۔ سی این جی کے حصول کیلئے میلوں طویل قطاریں تھیں۔امن و امان کی صورت حال خراب ترین تھی۔ دہشت گرد کاجن بوتل سے باہر نکل کر پاکستانیوں کو نگل رہا تھا۔نتیجہ نکلا کہ سرما یہ کاری ملک سے غائب ہو گئی۔ سیاحت ختم ہو کر رہ گئی۔قوم نے متفقہ طور پر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی، اس عظیم فتح کو بین الا قوامی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ان پانچ سالوں میں گیارہ ہزار میگا واٹ کے قریب بجلی پیدا کی گئی۔اب لوڈ شیڈنگ ایک دو گھنٹوں تک محدود رہ گئی ہے۔پالیسیوں کے تسلسل، امن وامان میں بہتری، دہشت گردی کے خلاف فتح پالیسیو ں کے تسلسل عظیم سی پیک کے منصوبے نے دنیا کی نظریں پاکستان پر مرکوز کر دی ہیں ۔یہی نازک وقت ہے۔پاکستان دوراہے پر کھڑا ہے۔اسی نازک موقع پر انتخابات کا مرحلہ بھی در پیش ہے۔ایسے حالات میں من گھڑنظریات کے پیروکار سسٹم کو ڈی ریل کرسکتے ہیں ۔ہم سب کو کوشش کر کے اس ریورس گیئر سے بچنا ہو گا۔


ای پیپر