نئی حلقہ بندیوں کا تنازع
28 مارچ 2018 2018-03-28

الیکشن کمیشن نے نئی حلقہ بندیوں کے عبوری نتائج کا اعلان کر دیا جس کے بعد نئی حلقہ بندیوں کی عبوری تفصیلات سامنے آ چکی ہیں۔ نئی حلقہ بندیوں کو لے کر تمام بڑی سیاسی جماعتیں اپنے خدشات اور اعتراضات کا اظہار کر رہی ہیں۔ مختلف امیدواروں کی طرف سے الیکشن کمیشن میں نئی حلقہ بندیوں کو لے کر اعتراضات داخل کئے جا رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے 3 مئی تک ان اعتراضات پر فیصلے کر کے حتمی حلقہ بندیوں کا اعلان کرنا ہے جس کے بعد ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کرنے کا سلسلہ شروع ہو گا۔ اسی معاملے کو لے کر چند تجزیہ نگار اور انتخابی ماہرین عام انتخابات میں تاخیر ہونے کے امکانات ظاہر کر رہے ہیں۔ ان کو خدشہ ہے کہ اگر ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ نے نئی حلقہ بندیوں کو کالعدم قرار دے کر نئے سرے سے حلقہ بندیوں کے احکامات صادر فرما دیئے تو انتخابات کا چند ماہ کے لئے ملتوی ہو جانا ناگزیر ہو جائے گا۔ تا ہم یہ خدشات اور امکانات مفروضے پر مبنی ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس کی نوبت نہ آئے اور عام انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہی ہو جائیں۔
اگر بغور جائزہ لیا جائے اور حلقو بندیوں کی تاریخ کو دیکھا جائے تو پھر یہ خدشات بلاوجہ نظر نہیں آتے۔ پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے لئے ہونے والی حلقہ بندیوں کی صورت حال کو مدنظر رکھا جائے تو پھر ان خدشات میں وزن محسوس ہوتا ہے۔ کیونکہ دونوں صوبوں میں حلقہ بندیوں کو لے کر طویل قانونی جنگ ہوئی تھی اور حتمی فیصلے میں ہائیکورٹ نے ان حلقہ بندیوں کو کالعدم قرار دے کر نئے سرے سے حلقہ بندیوں کا حکم دیا تھا۔
قومی اسمبلی پہلے ہی حلقہ بندیوں کے حوالے سے ارکان پارلیمنٹ پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کر چکی ہے جو کہ حلقہ بندیوں کے حوالے سے اپنے تحفظات اور شکایات کا کھل کر اظہار کر رہی ہے۔
نئی حلقہ بندیوں کے حوالے سے سیاسی جماعتوں اور مختلف امیدواروں کی شکایات اور تحفظات کی قانونی جنگ کے حتمی نتیجے اور فیصلوں پر قیاس آرائی اس وقت مناسب عمل نہیں ہے مگر ایک بات تو بہت واضح ہے کہ پاکستان میں حلقہ بندیوں کے قوانین، اصول و ضوابط اور طریق کار کو نہ صرف بہتر بنانے کی ضرورت ہے بلکہ اس پورے عمل کو افسر شاہانہ کنٹرول سے نکال کر زیادہ جمہوری اور شفاف بنانے کی ضرورت ہے۔ اس سارے عمل کو الیکشن کمیشن کی افسر شاہی کے تسلط اور کنٹرول سے نکالنے کی ضرورت ہے۔ حلقہ بندیوں کے معاملے میں ایک وسیع تر کمیشن بنانے کی ضرورت ہے جو کہ الیکشن کمیشن اور سیاسی جماعتوں کے نمائندوں ، ماہرین قانون ، انتخابات کے حوالے سے کام کرنے والی تنظیموں کے نمائندوں اور انتخابی ماہرین پر مشتمل ہو۔ یہ کمیشن کھلی اور عوامی سماعت کے ذریعے ہر حلقے کے متعلقہ لوگوں کو اجلاس میں بلا کر ان کی تجاویز اور آراء کو سنے اور پھر حلقہ بندی کے حوالے سے فیصلہ کرے۔ یہ سارا کام جلد بازی اور ہنگامی بنیادوں پر نہیں ہونا چاہئے بلکہ اس کے لئے درکار مناسب وقت اور مشاورت دی جانی چاہئے۔ حلقہ بندیوں کا عمل جمہوری اور شفاف ہونا چاہئے تا کہ بعد میں اس پر کم سے کم اعتراضات اٹھیں۔
جس طرح جمہوریت کے لئے صاف شفاف ، آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات ناگزیر ہوتے ہیں اسی طرح آزادانہ اور شفاف انتخابات کے لئے غلطیوں سے پاک ووٹر لسٹیں اور حلقہ بندیاں بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔ پاکستان کے آئین کے مطابق ہر مردم شماری کے بعد نئی حلقہ بندیاں ضروری ہیں۔ آئین کے مطابق ہر دس سال کے بعد مردم شماری ہونی چاہئے مگر یہ کبھی بھی مقررہ وقت پر نہیں ہوئی۔ اسی وجہ سے نئی حلقہ بندیوں کا جو عمل ہر دس سال کے بعد ہونا چاہئے وہ التواء کا شکار ہو جاتا ہے۔ موجودہ حلقہ بندیاں دس سال کی بجائے 16 سال کے بعد ہوئی ہیں۔ اس سے پہلے 1998ء میں ہونے والی مردم شماری کے نتیجے میں 2002ء میں حلقہ بندیاں ہوئی تھیں۔ یہ حلقہ بندیاں 1974ء کے ایکٹ کے تحت ہوتی ہیں۔ اگرچہ 2017ء کی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے مگر سیاسی جماعتوں نے باہمی اتفاق سے قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں کی تعداد کو برقرار رکھا ہے مگر صوبوں کے حصے میں آنے والی قومی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد میں ردو بدل کیا گیا ہے۔ اس فارمولے کے مطابق پنجاب کی سات نشستیں کم ہو کر 148 سے 141 ہو گئی ہیں۔ جبکہ کے پی کے کی چار نشستیں بڑھ گئی ہیں اور بلوچستان کی نشستوں میں دو کا اضافہ ہوا ہے جبکہ سندھ کی نشستوں کو جوں کا توں رکھا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کا دعویٰ ہے کہ وہ حلقہ بندیاں کرتے وقت چند ضروری چیزوں کا خیال رکھتا ہے۔ جن میں انتظامی یونٹ کی حدود، آبادی کی جغرافیائی بنیاد پر تقسیم ، کمیونیکیشن کے ذرائع کی بہتر سہولیات، عوام کی آسانی اور سہولت اور برابری کی بنیاد پر آبادی کی تقسیم تا کہ آبادی کے لحاظ سے حلقوں میں زیادہ فرق نہ ہو۔
مگر یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے۔ حلقہ بندیوں کے معاملے پر ہمیشہ مختلف اطراف سے تحفظات کا اظہار ہوتا ہے ۔ حلقہ بندیوں کے عمل میں عوام کی سہولت سے زیادہ طاقتور اور بااثر خاندانوں ، بالادست قوتوں اور طاقتور امیدواروں کے مفادات کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ مثلاً 2002ء کی حلقہ بندیوں میں مسلم لیگ (ق) اور دیگر سیاسی قوتوں کو فائدہ پہنچایا گیا جو کہ جنرل (ر) مشرف کی اتحادی اور حامی تھیں۔
اگرچہ عام ووٹروں کو حلقہ بندیوں کے پورے عمل کے بارے میں نہ تو زیادہ معلومات ہوتی ہیں اور نہ ہی دلچسپی۔ مگر سیاسی جماعتوں ، انتخابی امیدواروں اور حلقوں کی سیاست کرنے والے بااثر اور طاقتور خاندانوں اور افراد کو اس سارے عمل میں بہت دلچسپی ہوتی ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ قومی اسمبلی یا صوبائی اسمبلی کے حلقے میں ردوبدل انتخابی نتائج کو تبدیل کر سکتا ہے۔ حلقہ بندیوں کے اثرات خاص طور پر ان دیہی حلقوں پر اثر انداز ہوتے ہیں جہاں پر طاقتور اور بااثر سیاسی خاندانوں اور گروپوں کے درمیان فیصلہ بہت کم ووٹوں سے ہوتا ہے۔ ووٹروں کے سیاسی رجحانات کو مدنظر رکھ کر کیا گیا۔ردو بدل نتائج کو متاثر کرتا ہے۔ اسی وجہ سے روایتی سیاستدان اس سارے عمل میں بہت دلچسپی لیتے ہیں۔ ان کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ اپنے اثرورسوخ اور تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے اپنے انتخابی حلقے کو اپنی مرضی سے بنوائیں تاکہ ان کو مخالفین پر برتری حاصل ہو سکے۔
دیہی حلقوں میں سیاسی جماعتیں اور ان کی مقامی تنظیمیں نہ تو زیادہ منظم ہوتی ہیں اور نہ ہی زیادہ مضبوط ہوتی ہیں بلکہ مقامی دھڑے بندیاں ، گروہ بندیاں ، برادریاں، قبیلے ، ذات اور بااثر خاندان زیادہ موثر ہوتے ہیں۔
نئی حلقہ بندیوں میں ایک بار پھر اس اصول کو نظر انداز کیا گیا ہے جس کے تحت حلقوں کی آبادی میں دس فیصد سے زیادہ فرق نہیں ہونا چاہئے۔ مگر اس وقت درجنوں حلقے ایسے ہیں جس میں آبادی کا فرق 30 سے 40 فیصد تک ہے۔ اسی طرح ایسے حلقے بھی قائم کئے گئے ہیں جو کئی سو کلو میٹر پر مشتمل ہیں۔ مثلاً پنجاب کے ضلع حافظ آباد میں 2002ء کی مردم شماری کے مطابق قومی اسمبلی کے دو حلقے تھے مگر اب پورے ضلع کو ایک حلقہ بنا دیا گیا ہے جو کہ 11 لاکھ سے زائد آبادی پر مشتمل ہے جبکہ دوسری طرف ایسے حلقے بھی ہیں جہاں پر آبادی 5 لاکھ سے بھی کم ہے۔
الیکشن کمیشن کو چاہئے تھا کہ وہ حلقہ بندیاں کرتے
وقت ان بنیادی اصولوں پر عمل کرتے جو کہ انہوں نے خود اپنے لئے طے کئے ہوئے ہیں مگر ایک بار پھر2002ء کی حلقہ بندیوں والی خامیوں ، کمزوریوں اور غلطیوں کو دوبارہ دہرایا گیا ہے۔ حلقہ بندیوں کے عمل کو جمہوری اور شفاف بنا کر طویل قانونی جنگوں اور تنازعات سے بچا جا سکتا ہے مگر موجودہ حلقہ بندیوں میں جمہوری اور شفاف عمل کو تشکیل نہیں دیا گیا جس کے باعث غیر یقینی کے سائے عام انتخابات پر منڈلا رہے ہیں۔ نئے تنازعات سر اٹھا رہے ہیں۔ خدشات جنم لے رہے ہیں حالانکہ ان سب سے بچا جا سکتا تھا۔


ای پیپر