امریکہ کا چائنا کے خلاف تجارتی اعلان جنگ
28 مارچ 2018 2018-03-28

چائنا کے 2013ء کے ون بیلٹ ون روڈ پراجیکٹ نے امریکہ کی نیندیں اڑا دی ہیں یہ وہی پراجیکٹ ہے جس کا آغاز پاکستان سے ہوچکا ہے جس پر لاگت کا خرچہ 60ارب ڈالر ہے مگر ہم میں سے بہت سے لوگ یہ نہیں جانتے کہ یہ منصوبہ جوکہ چینی صدر Jin Xipingکا وژن ہے اس کی مجموعی مالیت 900ارب ڈالر ہے جس میں صرف 60ارب پاکستان میں خرچ ہونے ہیں۔ یہ دنیا کے 68ممالک کو Connect کرے گا جن میں عالمی آبادی کا 65فیصد حصہ شامل ہے اور مجموعی عالمی GDPکا 40فیصد حصہ اس میں کور ہوتا ہے۔ تاریخی طورپر دنیا میں آج تک اتنا بڑا منصوبہ نہیں بنایا گیا۔ یہ چائنا کا پوری دنیا تک رسائی کا خواب ہے جو 21ویں صدی میں دنیا کی تاریخ کا رخ موڑ دے گا۔ اس منصوبے پر دنیا بھر میں سب سے زیادہ اعتراض امریکہ کو ہے کیونکہ اس سے یورپی یونین پر امریکہ کی تجارتی اجارہ داری ختم ہونے کے ساتھ دنیا بھر میں امریکہ کے تجارتی اور کاروباری مفادات کو خطرات لاحق ہوجائیں گے۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ تاریخ کے اس مرحلے پر یہ حسن اتفاق ہے کہ ون بیلٹ ون روڈ پر چائنا کی دنیا بھر کے سفر کی پہلی منزل پاکستان ہے۔ چائنا سے نکل کر یہ روڈ دنیا کے 68ممالک کو باہم ملانے کے سفر میں سب سے پہلے پاکستان میں داخل ہوتی ہے۔ اس منصوبے کے ردعمل کے طورپر ساؤتھ ایشیا کے خطے میں تیزی سے جو تبدیلیاں آرہی ہیں ان کی وجہ بھی یہی ہے۔ امریکہ کے پاکستان کو چھوڑ کر انڈیا کو حلیف بنانے کے فیصلے کے پیچھے بھی یہی منصوبہ ہے۔ جیسے جیسے وقت گزررہا ہے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے پر امریکہ اور چائنا میں پائی جانے والی نئی سردجنگ کھل کر سامنے آرہی ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ یہ کولڈوار اب ٹریڈ وار یا تجارتی جنگ میں تبدیل ہورہی ہے۔
امریکہ نے حال ہی میں دو ایسے اقدامات کیے ہیں جس نے دنیا بھر کے تجزیہ نگاروں کو چونکا کے رکھ دیا ہے۔ حال ہی میں بدنام زمانہ اور عالمی سطح پر شیطانی صفت John Boltonکو امریکہ کا چیف سکیورٹی ایڈوائزر مقرر کردیا گیا ہے۔ یہ وہی شخص ہے جس کے کہنے پر صدر بش نے عراق پر حملہ کیا تھا۔ اسے دنیا میں لاکھوں انسانوں کا قاتل کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ جان بولٹن نے ہی الزام لگایا تھا کہ عراق کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے کیمیائی ہتھیار موجود ہیں۔ عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی مگر وہاں سے کچھ بھی نہ ملا۔ جان بولٹن نے امریکہ کو مشورہ دیا تھا
کہ شمالی کوریا پر حملہ کردیا جائے اور اس کا مؤقف اب بھی یہی ہے بلکہ دنیا بھر میں امریکہ کا 193ممالک میں سے جس کے ساتھ بھی اختلاف ہو جان بولٹن کے پاس اس کا ایک ہی حل ہے کہ :Bowb them"۔ اس کا یہ دولفظی جملہ امریکہ کے اندر اور باہر اس کی پہچان ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جو بھی آپ کی بات نہ مانے اس پر بمباری کرو۔
دوسرے نمبر پر امریکی صدر ڈونالڈٹرمپ نے چائنا کے ساتھ تجارتی محاذ پر کھلم کھلا اعلان جنگ کرتے ہوئے امریکہ بھیجی جانے والی چینی مصنوعات پر Tariffsیا محصولات کی شکل میں 300ارب ڈالر کے نئے ٹیکس لگانے کا اعلان کردیا ہے جس کے سامنے چائنا نے بھی ڈٹ جانے کا اعلان کرتے ہوئے چائنا میں آنے والی امریکی مصنوعات پر ایسے ہی ٹیکسوں کا اعلان کردیا ہے جس سے دونوں ممالک کے عوام کے لیے ان اشیاء کی قیمتیں بڑھ جائیں گی بلکہ دنیا بھر میں اشیاء وخدمات کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ امریکہ کا مسئلہ یہ ہے کہ چائنا اور امریکہ کے درمیان پائے جانے والے تجارتی حجم میں فائدہ چائنا کو پہنچ رہا ہے مثلاً مجموعی حجم 578.2بلین ڈالر تھا۔ یہ گزشتہ سال کے اعدادوشمار ہیں جس میں چائنا کی ایکسپورٹ 347 بلین اور امریکی ایکسپورٹ محض 15.6بلین ڈالر تھی۔ اس میں سراسر منافع چائنا کو حاصل تھا۔
دوریاستوں کے درمیان باہمی تجارت کا اصول مارکیٹ فورسز تعین کرتی ہیں، اس کو سیاست یا دھونس اور دھاندلی یا دھمکیوں سے نہیں چلایا جاسکتا۔ امریکی کمپنیاں چائنا کا مال اس لیے منگواتی ہیں کہ وہ سستا ہے۔ جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ چائنا میں لیبر یا مزدوری کی شرح امریکہ کے مقابلے میں دس گنا سے بھی کم ہے۔ امریکی کمپنیاں اگر ایک چیز چین سے 100ڈالر میں خریدتی ہیں تو وہی چیز اگر میڈان امریکہ ہوگی تو اس کی قیمت 500ڈالر ہوگی۔ ایسی صورت میں اگر مارکیٹ فورسز کو بلاروک ٹوک کام کرنے دیاجائے تو ظاہر ہے کہ اس سے چائنا کو ہی فائدہ ہونا ہے۔ ٹرمپ کو اعتراض یہ ہے کہ یہ امریکی کمپنیاں چائنا میں اپنا مال تیارکروانے کے لیے خام مال امریکہ سے بھیجتی ہیں اور وہی مال تیار ہوکر امریکہ ایکسپورٹ ہورہا ہے جس سے امریکہ میں بے روزگاری پھیل رہی ہے۔ ٹرمپ کو دوسرا اعتراض یہ ہے کہ چائنا عالمی تجارتی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے Patentاور کاپی رائٹ قوانین کو بالائے طاق رکھے ہوئے ہے۔ امریکہ نے اس پر چائنا کے خلاف ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن یعنی WTOمیں مقدمہ دائر کرنے کی بھی دھمکی دے رکھی ہے۔ اندر ہی اندر ٹرمپ کوچائنا پر ایک رنجش یہ بھی ہے کہ اس نے اپنے ہمسائے شمالی کوریا کو ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ سے روکنے میں امریکہ کی مدد نہیں کی ہے۔
امریکہ چائنا سے الیکٹرونکس ،کپڑے اور مشینری امپورٹ کرتا ہے جبکہ چائنا امریکہ کو سٹیل اور ایلومینیم ایکسپورٹ کرتا ہے جو امریکی انڈسٹری خصوصاً ہوائی جہازوں، اسلحہ سازی میں استعمال ہوتے ہیں امریکہ کا یہ بھی الزام ہے کہ چائنا نے اپنی کرنسی Yuanکی شرح تبادلہ مصنوعی طورپر اصل قیمت سے نیچے رکھی ہوئی ہے جس کی وجہ سے امریکہ کو نقصان پہنچتا ہے۔ چائنا اس الزام کی تردید کرتا ہے۔
دنیا بھر میں 800سے زیادہ امریکی فوجی اڈے قائم کرنے والا امریکہ جس نے دنیا کے کونے کونے میں جنگیں لڑی ہیں اس بات پر پریشان ہے کہ وہ چائنا کی تجارتی یلغار کے آگے بے بس ہے اور اسے خطرہ ہے کہ کہیں ایک دن چائنا اسے اپنے ہی ملک تک محدود نہ کردے۔ آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ جس طرح پاکستان آئی ایم ایف کا 90بلین ڈالر کا مقروض ہے اسی طرح امریکہ نے چائنا سے 1.7 ٹریلین ڈالر یعنی 1700 بلین ڈالر قرض لے رکھا ہے۔ اگر چائنا کا معاشی ترقی کا سفر جاری رہا اور اس کا ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ کامیاب ہوگیا تو ایک وقت آئے گا چائنا امریکہ کو عالمی دوڑ سے باہر نکال دے گا۔ عالمی سیاست اور عالمی معیشت کی پیچیدگیاں ایک عام آدمی کو بھول بھلیوں میں ڈال دیتی ہیں مثلاً امریکہ کی سالانہ فی کس آمدنی 57ہزار ڈالر جبکہ چائنا کی محض 16ہزار ہے۔ چائنا کی کم آمدنی کی وجہ یہ ہے کہ وہ آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے جس کی آبادی 140کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔
چائنا اور امریکہ میں پایا جانے والا تجارتی عدم توازن دنیا کو غیرمستحکم کرنے کی نوید سنارہا ہے کیونکہ امریکہ جب تجارتی محاذ پر شکست کھانے لگے گا (یہ وقت زیادہ دور نہیں ہے) تو یہ حالات کو قابو میں لانے کے لیے جنگ کا سہارا لے گا جوکہ وہ انڈیا کے ذریعے چائنا کے بارڈر غیرمحفوظ کرنے یا سی پیک کو نقصان پہنچانے کی صورت میں کرسکتا ہے۔ اس منظر نامے میں چائنا کا براہ راست ہمسایہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کی اہمیت اور پاکستان کے خطرات دونوں بڑھ جائیں گے، ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کی چائنا کے لیے جوافادیت ہے اگر پاکستان اس کا بروقت اندازہ لگا لیتا تو جو سی پیک ہم 60ارب ڈالر کا قرضہ لے کر بنارہے ہیں اپنی Bargaining Powerسے یہ سہولت مفت حاصل کی جاسکتی تھی اور چائنا پھربھی فائدے میں تھا۔


ای پیپر