محبت کرنے پر پابندی ۔۔۔؟
28 مارچ 2018 2018-03-28

دنیا میں ایک عورت ایسی بھی ہے جو محبت کرنے پر پابندی لگانا چاہتی ہے ؟ ۔۔۔ وہ عورت چاہتی ہے کہ انسان محبت کرنا بھول جائے جس کا سیدھا سیدھا مطلب ہے کہ جو محبت نہیں کرنا چاہتا، اُسے نفرت اور نفرت کرنے والے لوگ پسند ہیں اور وہ چاہتی ہے لوگ نفرت کریں اور بڑے پیمانے پر کریں۔ آپ جانتے ہیں وہ عورت چاہتی ہے کہ اُس کے سامنے محبت کرنے کی بات بھی نہ کی جائے ورنہ وہ سزا دلوا دے گی اور آپ جانتے ہیں وہ اس سے پہلے بہت سے محبت کرنے والوں کو سزا دلوا بھی چکی ہے۔ کچھ محبت کرنے والو ں کو اُس کے کہنے پر سزائے موت تک دے دی گئی۔ اور قربان جاؤں اُن محبت کرنے والوں پر جن کے سر تن سے جدا کر دئیے گئے یا جن کی گردنیں موٹے ریشمی رسّے کے ساتھ جھول گئیں اور اُنھوں نے اُف تک نہ کی اور موت کو خوشی خوشی محبت کرنے کے جرم میں گلے لگا لیا ۔۔۔ محبت کرنا جرم کیوں ہے؟ ۔۔۔ جبکہ دنیا کے سب مذاہب، سب پرانی تہذیبیں صرف اور صرف محبت کا ہی درس دیتی ہیں۔ کروڑوں شاعر صرف اور صرف محبت کی ہی بات کرتے ہیں اور اُن کی شاعری اس پیارے لفظ ’’ محبت ‘‘ کے ہی گرد گھومتی ہے۔ میں نے بہت کم لوگ دیکھے ہیں جو محبت نہ کرنے کی نصیحت کرتے ہیں یا لوگوں کو اُکساتے ہیں کہ محبت نہ کی جائے ۔۔۔
میری یہ تحریر آج نہایت سنجیدہ رُخ اختیار کر گئی ہے حالانکہ صبح سویرے اُٹھتے ہی میں نے سوچا تھا کہ فیس بک کے ’’دانشوروں‘‘ میں سے اُن شریر دوستوں کے حوالے سے بات کروں گا جنہوں نے اپنے اپنے webpage محض مزاحیات کی ترویج و ترقی کے لیے یا یوں کہہ لیں کہ لوگوں کو ہنسانے اور گدگدانے کے لیے بنا رکھے ہیں۔ کبھی کبھی تو وہ ایسی بات کر جاتے ہیں کہ بندہ نیند میں بھی قہقہے لگانے لگتا ہے اور بیڈ پر سویا آپ کا ساتھی ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھتا ہے اور پاگل خانے کی ایمرجنسی وین کو فون کرنے لگتا ہے ۔۔۔ جب تک کہ آپ بتا نہیں دیتے کہ آپ نے یہ قہقہہ کیونکر لگایا تھا ۔۔۔
آجکل فیس بک پر ایک چھوٹا سا کلپ چل رہا ہے جس میں ایک ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والی بیوی خیالات میں گم اپنے شوہر سے پوچھتی ہے ۔۔۔’’سنا ہے سورگ میں مردوں کو پریاں ملیں گی‘‘ ۔۔۔؟مرد خوش ہوتے ہوئے ۔۔۔ ’’ہاں ہاں تم نے سچ کہا‘‘ ۔۔۔’’اور ہم عورتوں کو سورگ میں کیا ملے گا؟‘‘ ۔۔۔’’بندر‘‘ ۔۔۔ مرد نے غصے میں کہا ۔۔۔’’ہمیں یہاں بھی بندر اور وہاں بھی بندر‘‘ ۔۔۔؟ ہندو بیوی نے معنی خیز نظروں سے شوہر کو دیکھتے ہوئے پوچھا ۔۔۔؟
اصل میں ہندوؤں اور سکھوں کے لطیفے عام طور پر مسلمانوں کے دل دکھانے کے لیے بنائے جاتے ہیں انسانوں کو ہنسانے کے لیے نہیں ۔۔۔
خاص طور پر جو حکومت اس وقت بھارت میں ہے اُس کی پشت پناہی کی وجہ سے اس وقت بھارت میں مسلمان عورتوں پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات عام ہیں۔ فیس بک پر بہت سے کلپ ہر روز دیکھنے کو ملتے ہیں جہاں مسلمان لڑکوں کو برہنہ کر کے اُن پر بے پناہ تشدد کیا جاتا ہے اور یہ بات دنیا بھر میں پھیلے انسانی حقوق کے علمبرداروں کو دکھائی نہیں دیتی ۔۔۔ برما کے مسلمانوں کے بعد سری لنکا میں بھی مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ہے جبکہ پاکستان پر محض حافظ محمد سعید کی وجہ سے طرح طرح کے sanctions لگانے کی آئے دن وجہ تلاش کی جاتی ہے اور ایک خوف کی تلوار پاکستان کی حکومت پر ہر وقت منڈلاتی رہتی ہے ۔۔۔اسی فیس بک پر مسلمانانِ عالم پر تشدد اور یورپ میں مسلم عورتوں پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کی ویڈیو ز دکھائی دیتی ہیں جو اگلے ہی لمحے غائب کر دی جاتی ہیں یعنی یہاں بھی دوہرا معیار دکھائی دیتا ہے ۔۔۔
بات شروع ہوئی تھی محبت کے حوالے سے اور چل نکلی نفرت کی طرف ۔۔۔ میں ایک سادھا دل لکھاری بھلا کب نفرت کی بات کر سکتا ہوں کیونکہ میرا مذہب مجھے صرف محبت کا درس دیتا ہے وہ تو چڑیا کے بچے کو بھی اذیت دینے سے روکتا ہے بلکہ گرمی سے پریشان کتے کو بھی پانی پلانے کا درس دیتا ہے ۔۔۔آپ سوچ رہے ہوں گے کہ دنیا میں وہ کون سی سخت دل عورت ہے جو نفرت کا سبق سکھا رہی ہے، نفرت کرنے کی بات کرتی ہے اور جو اسی نفرت کی وجہ سے محبت کرنے والے بہت سے انسانوں کو پھانسی کی سزا دلوا چکی ہے اور ابھی بھی محبت کرنے والوں کے لیے اُس کے عزائم خاصے خطرناک ہیں ۔۔۔
آج میں نے بنگلہ دیش کی لیڈر حسینہ واجد کا بیان اخبارات میں پڑھا تو مجھے یاد آیا کہ جب آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا تو سب سے پہلے بنگلہ قیادت نے ہی مسلمانانِ برصغیر کے لیے علیحدہ مملکت کے قیام کی بات کی اور جدو جہد کا آغاز کیا پھر پاکستان بن جانے کے بعد کون سے ایسے حالات پیدا ہوئے کہ وہی بنگالی مسلمان پاکستان سے نفرت کی بات کرنے لگے۔ کیا ہم صرف مکتی باہنی کو ہی اس نفرت کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں یا صرف بھارت کی خفیہ ایجنسیوں نے ہی یہ نفرت کا بیج بویا تھا ۔۔۔؟کیا آج ہماری سیاسی قیادت کو یاد ہے کہ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کیسے بنا اور پاکستان سے محبت کرنے والے لاکھوں عورتوں مردوں کو اذیتیں دے دے کر موت کی نیند سلا دیا گیا ۔۔۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے نصاب میں اس حوالے سے کچھ مواد ضرور رکھیں کیونکہ ’’مغلیہ سلطنت کے زوال کے اسباب‘‘ تو ہمارے بچے ہر کلاس میں پڑھتے ہیں اور بار بار ’’مغلیہ سلطنت کے زوال کے اسباب‘‘ یاد کرتے ہیں اور اس پر بحث کرتے ہیں اور بچے مجبور ہیں کہ ’’مغلیہ سلطنت کے زوال کے اسباب‘‘ کو صحیح معنوں میں رٹّا لگائیں حالانکہ ’’مغلیہ سلطنت کے زوال کے اسباب‘‘ جاننے کی اب ہمیں ہر گز ہر گز ضرورت نہیں کیونکہ ’’مغلیہ سلطنت کے زوال کے اسباب‘‘ اب تاریخ کا حصہ بھی نہیں رہے کیونکہ اب بہت سی اور باتوں، اور اداروں کے زوال کے اسباب اور وجوہات سے ہمیں اپنی نئی نسل کو روشناس کرانا ہے ورنہ PIA اور پاکستان سٹیل ملز جیسے بہت سے ادارے ’’اپاہج‘‘ سرکاری اداروں کے روپ میں نظر آئیں گے اور آئے دن بحث و مباحثہ ہو گا اور بالآخر یہ ادارے Privatize کر دئیے جائیں گے ۔۔۔؟
میری اربابِ اختیار سے خاص طور پر تاریخ کے طالب علموں سے درخواست ہے کہ وہ ’’مغلیہ سلطنت کے زوال کے اسباب‘‘ پر بحث اور سوچ وچار بند کر دیں اور اس بات پر غور کریں کہ ہمیں اس وقت پاکستان کے بہت سے اداروں کے ’’زوال کے اسباب‘‘ پر غور و فکر کرنا ہے کیونکہ ہمیں ایک متحدہ پاکستان کی اب پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے ورنہ بنگلہ دیش کی حسینہ واجد اپنے عوام کو پاکستان سے نفرت کا درس دیتی رہے گی اور ہمیں اذیت اور پریشانی محسوس ہو گی جب ہم اُس کا یہ بیان کہ ’’پاکستان سے محبت کرنے والے بنگلہ دیشیوں کو سزا ملنی چاہئے‘‘ پڑھیں گے کیونکہ ہم کبھی نہیں کہہ سکتے ہم بنگلہ دیش میں بسنے والے کروڑوں اپنے بہنوں بھائیوں سے نفرت کرتے ہیں۔ ہم ہزاروں سال پہلے بھی اپنے بنگالی بھائیوں سے محبت کرتے تھے ہم آج بھی اپنے بنگالی بھائیوں سے محبت کرتے ہیں اور ہم ہزار سال بعد بھی اپنے بنگالی بھائیوں سے جو ہمارے ساتھ اسلام کی مضبوط رسّی میں بندھے ہوئے ہیں محبت کرتے رہیں گے ۔۔۔؟!


ای پیپر