بابا
28 مارچ 2018 2018-03-28

ہم آجکل انصاف کے ایوانوں سے لے کر اقتدار کے ایوانوں تک، صحافی تنظیموں کی بیٹھک سے لے کر کالم نگاروں کی تحریروں تک، سوشل، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں ایک لفظ کی گونج بار بار سن رہے ہیں اور وہ لفظ ہے ’’ بابا ‘‘۔ چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار صاحب نے اپنی تقریروں میں اس لفظ کا بارہا استعمال کیا ہے اور اس کو سمجھانے کے لیے مثالیں بھی دی ہیں۔چیف جسٹس صاحب نے جس بات پر سب سے زیادہ زور دیا ہے وہ یہ ہے کہ عدالتیں ’’ بابا ‘‘ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’’ بابا ‘‘کا یہ کردار میں نے اشفاق احمد صاحب کی کتاب زاویہ سے لیا ہے۔آئیے بابا کے اس کردار کو اشفاق احمدصاحب کی زبانی سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اشفاق احمد صاحب اپنی کتاب زاویہ کے صفحہ نمبر 55 پر بابا کی تعریف یوں کرتے ہیں کہ ’’ بابا وہ شخص ہوتا ہے جو دوسرے انسان کو آسانی عطا کرے‘‘۔ مثال کے طور پر میری چھوٹی پوتی نے اس دفعہ گرمیوں کی چھٹیوں میں ایک عجیب و غریب بات کی۔ اس نے سکول کا تھرماس لے کر اس میں سکنجبیں بنائی۔ بہت اچھی ٹھنڈی کی، برف ڈالی اور اس کو جہاں ہمارا لیٹر بکس لگا ہے، درخت کے ساتھ، اس درخت کی کھوہ میں رکھ دیا۔ اور ایک خط لکھ کر پن کر دیا اس کے ساتھ، اس نے لکھا، انکل پوسٹ مین۔ آپ گرمی میں خط دینے آتے ہیں، سائیکل چلاتے ہیں، بڑی تکلیف ہوتی ہو گی آپ کو۔ میں نے آپ کے لیے یہ سکنجبیں بنائی ہے۔ آپ اسے پی لیں۔ میں آپ کی مشکور ہوں گی۔ دوپہر کو ہم بچوں کو سلا دیتے تھے۔ جب وہ شام کو سو کر اٹھی تو تھرماس اندر لے آئی۔ اس کے ساتھ ایک چٹھی لگی تھی۔ یہ چٹھی پوسٹ مین نے میری پوتی کے نام لکھی تھی۔ اس نے لکھا۔ پیاری بیٹی تیرا بہت شکریہ۔ میں نے سکنجبیں کے دو گلاس پیئے، اور اب میری رفتار اتنی تیز ہو گئی ہے کہ میں ایک پیڈل مارتا ہوں تو دو کوٹھیاں پار کر جاتا ہوں،تو جیتی رہ۔ اللہ تجھے خوش رکھے۔ کل جو بنائے گی اس میں چینی کے دو چمچ زیادہ ڈال دینا۔اشفاق احمد صاحب کہتے ہیں کہ یہ جو بچی ہے نا چھوٹی سی اس نے ڈاکیے کے لیے آسانی پیدا کی تھی۔ لہذا وہ بچی بھی بابا ہے۔
پھر اشفاق صاحب کہتے ہیں کہ ایک دن میں اروند، غلام مصطفی اور کرپال سنگھ بھاٹی گیٹ کے باہر سینما میں فلم دیکھ کر واپس آ رہے تھے۔ یہ کرسمس کے قریب کے دن تھے۔ سردی اپنے جوبن پر تھی۔ کہرا بھی پڑ رہا تھا۔ ہم انار کلی سے گزر رہے تھے۔ ایک بڑھیا کے کراہنے کی آواز آنے لگی۔ ہم نے قریب ہو کر دیکھا تو ایک مائی دکان کے باہر پھٹے پر بیٹھی تھی اور اپنے بیٹے اور بہو کوبددعائیں دے رہی تھی۔ انہوں نے اسے رات کے وقت گھر سے نکال کر بازار میں پھینک دیا تھا۔ اس کے پاس کوئی چادر نہیں تھی اور نہ ہی سردی سے بچنے کا کوئی اور سامان تھا۔میں اروند اور غلام مصطفی اولاد کی نافرمانی پر بھاشن دینے لگے۔ کسی نے کہا کہ انگریز راج کی وجہ سے یہ ظلم ہو رہا ہے۔ کسی نے کہا کہ اناتھ آشرم کچھ نہیں کر رہا ہے۔ کسی نے کہا کہ قیامت کی نشانیاں ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اتنی دیر میں ہم نے دیکھا کہ کرپال سنگھ ہمارے درمیان نہیں ہے۔ ہم نے سوچا شاید پیچھے رہ گیا ہے۔ خیر ہم بھاشن جھاڑتے رہے کہ اتنے میں کرپال سنگھ بائیسکل پر ہانپتا ہوا آیا۔ اسے سانس چڑھی ہوئی تھی۔ سخت سردی میں پسینہ آ رہا تھا۔ اس نے آتے ہی سائیکل کھڑا کیا اور ایک موٹی چادر سائیکل سے اتار کر بڑھیا کے اوپر دے دی۔ بڑھیا نے اس کا شکریہ ادا کیا، اسے ڈھیروں دعائیں دیں اور ہم آگے چل پڑے۔ اشفاق صاحب کہتے ہیں کرپال نے بڑھیا کے لیے آسانی پیدا کی تھی۔ لہٰذا کرپال بھی ایک بابا ہے۔
آپ ان مثالوں کا بغور جائزہ لیں تو آپ اس نتیجے پر پہنچ جائیں گے کہ اشفاق احمد صاحب کے مطابق بابا وہ ہوتا ہے جو دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرے۔ آپ اشفاق احمد صاحب کے بابا کے کردار کو سامنے رکھیں اور اس کا موازنہ چیف جسٹس ثاقب نثار کے عدلیہ کو بابا قرار دینے سے کریں تو سب سے پہلا سوال ذہن میں یہ آتا ہے کہ کیا عدلیہ عوام کو آسانیاں دے رہی ہے یا نہیں؟ کیا عوام اپنے مسائل کے حل کے لیے خوشی خوشی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں یا عدالتوں میں جانا عذاب سمجھتے ہیں؟ کیا عوام عدالتوں کو مسیحا سمجھتے ہیں یا رشوت اور چور بازاری کا گڑھ سمجھتے ہیں؟ کیا عوام یہ نہیں سمجھتے کہ اگر کسی نے اپنے مخالف کو ناک چنے چبوانے ہوں تو وہ اس کے خلاف ایک جھوٹی درخواست عدالت میں دے دے اور پھر گھر کے برتن تک بک جائیں گے لیکن اس کی جان نہیں چھوٹے گی۔چیف جسٹس صاحب گلاب دیوی ہسپتال کے باہر جس عورت نے آپ کی گاڑی روکی اس نے سب سے پہلے آپ سے یہ گلہ کیا کہ میں نے کئی مرتبہ آپ سے ملنے کی کوشش کی لیکن مجھے ملنے نہیں دیا جاتا۔ چیف صاحب کیا آپ نے سوچا کہ وہ عورت عدالت میں آپ سے کیوں نہیں مل پا رہی تھی؟ ممکن ہے کہ آپ سے ملاقات کروانے کے لیے اس سے رشوت مانگی جاتی ہو جو وہ ادا نہ کر سکتی ہو اور اگر وہ عورت آپ کو سڑک پر نہ روکتی تو شاید سالوں تک وہ آپ سے مل نہ پاتی۔چیف صاحب اگر انصاف حاصل کرنے کے لیے سائلین کو آپ کی گاڑی راستے میں روکنی پڑے تو آپ کیا سمجھتے ہیں کہ عدالتیں انہیں آسانیاں فراہم کر رہی ہیں یا ان کی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہیں۔ انصاف کے حصول کے لیے در بدر کی ٹھوکریں کھانے والے عوام عدالتوں کو آسانی فراہم کرنے کا ذریعہ نہیں سمجھ سکتے۔ ملک پاکستان کی عدالتوں میں انیس لاکھ کیسز التواء کا شکار ہیں۔ کیا وہ انیس لاکھ لوگ عدالتوں کو بابا سمجھیں گے جنہیں عدالت نے کبھی آسانی فراہم نہیں کی۔ مائی لارڈ صرف آپ کے ارشاد فرمانے سے لوگ عدالتوں کو بابا نہیں سمجھیں گے آپ کو عملی طور پر بابا بن کر دکھانا ہو گا۔لہٰذا اگر آپ چاہتے ہیں کہ عوام عدالتوں کو بابا سمجھیں تو میری آپ سے گزارش ہے کہ عوام کے لیے انصاف کی فراہمی کو آسان بنائیں۔ اللہ آپ کو آسانیاں تقسیم کرنے کی توفیق دے۔آمین۔


ای پیپر