دیکھو بہار آ گئی!
28 مارچ 2018

مروجہ جمہوریت کو اصلی سمجھ لینے والے دانشوروں نے بھی کہنا شروع کر دیا ہے کہ دیکھیں جی صحت، تعلیم، تعمیر و ترقی، نا انصافی اور دیگر بنیادی انسانی حقوق بارے فکر مند ہونا حکومت کا کام ہوتا ہے یہ عدالت عظمیٰ کے سربراہ کیوں پریشان ہونے لگے۔۔۔؟
جناب عالی! اس میں کیا برائی ہے کہ ایک شخص جو انصاف و قانون کے بڑے ادارے کا چیف ہے (جس کی آئینی و قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ ریاست کے شہریوں سے متعلق باخبر ہو کہ انہیں ان کے حقوق مل رہے ہیں یا نہیں ) اپنا کردار ادا کرنے عوام میں بھی آ کھڑا ہوا ہے۔۔۔ اور لوگ اسے اپنا مسیحا تصور کرنے لگے ہیں کیونکہ انہیں کسی حکومتی عہدیدار پر یقین نہیں رہا۔۔۔ اس سے یہ امید نہیں رہی کہ وہ انہیں انصاف فراہم کرے گا، کوئی ریلیف دے گا اور ان کی عزتوں کو پامال نہیں ہونے دے گا۔ ایسا وہ اس لیے سوچ رہے ہیں کہ وہ اب تک حکمرانوں کو اچھی طرح سے دیکھ اور پر کھ چکے ہیں، ان کی لوٹ مار کی کہانیاں سن چکے ہیں جو عدالتوں میں زیر بحث ہیں۔ لہٰذا وہ جو محسوس کرتے ہیں غلط نہیں اور اب اگر وہ عزت مآب چیف جسٹس کی طرف دیکھنے لگے ہیں اور اپنی فریادیں ، دکھ اور مشکلات ان کے گوش گزار کرنے لگے ہیں تو اس میں کسی کو کوئی اعتراض اور تشویش نہیں ہونی چاہیے۔۔۔! آخر کسی نے تو ان مظلوموں اور بے بسوں کے سر پر ہاتھ رکھنا ہی تھا سو جناب چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے رکھ دیا۔۔۔!
اب وہ چلتے چلتے (سڑک کنارے) رکیں گے بھی اور جہاں کسی وزیر مشیر کو جا کر کسی سرکاری ادارے کی کارکردگی کا جائزہ لینا تھا اسے بھی دیکھیں گے۔۔۔ دیکھیں گے کیا۔۔۔ ایسا کر دکھا رہے ہیں فریادیوں کی پکار پر انہوں نے باضابطہ کان دھرنا شروع کر دیئے ہیں۔۔۔ اور یہ بات انتہائی قابل تحسین ہے کہ انہوں نے انسانی حقوق اور اقلیتوں کی شکایات کے حوالے سے باقاعدہ ایک سیل بنانے کا حکم صادر فرمایا ہے۔ ان کا یہ اقدام اس امر کی دلیل ہے کہ حکومت اپنے فرائض ادا کرنے میں ناکام ہو چکی ہے اور لوگوں کو یہ لگ رہا ہے کہ ان کا یہاں کوئی پرسان حال نہیں یہ کہ ریاست کے تمام سویلین ادارے مفلوج ہو چکے ہیں انہیں یہ احسا ہی نہیں کہ وہ عوام کے خادم ہیں۔ ظاہر ہے عوام کو ایسی صورت میں اپنے لیے خود سوچنا ہے۔۔۔ جو خطرناک ہو سکتا ہے۔۔۔ لہٰذا اس سے پہلے کہ انارکی پھیلتی آئین و قانون کے رکھوالوں نے آگے بڑھ کر حالات کو قابو میں کر لیا، باقی سب کہانیاں ہیں۔۔۔ جمہوریت کے لیے رگیں پھلانے والے یہ بھول گئے کہ ان کا اپنا طرز عمل کبھی بھی جمہوری نہیں دیکھا گیا۔۔۔ انہوں نے کبھی یہ نہیں خیال کیا کہ عام آدمی زندہ رہنا چاہتا ہے جس کے لیے اسے بنیادی ضروریات درکار ہیں اور حکمران طبقہ انہیں پوری کرنے سے قاصر ہے۔۔۔ قاصر ہی نہیں صاف جواب دے رہا ہے اور اپنی ذمہ داریوں کو پچھلوں پر ڈال رہا ہے۔۔۔!
بہرحال بہار آ گئی ہے اگرچہ میری ان باتوں کو، اس خیال کو سکہ بند سیانے طفلانہ قرار دیں گے مگر میں اپنی ناقص عقل کو بروئے کار لاتے ہوئے دیکھ رہا ہوں کہ ماضی اور حال میں جو ہوا، ہو رہا ہے آئندہ وہ نہیں ہو گا۔۔۔ وہ تبدیلی جو یورپ و مغرب میں آئی تھی ویسی نہیں آئے گی مگر پرانے زخموں پر ضرور مرہم رکھا جائے گا لہٰذا اگر کوئی عقلمند اور سیاستدان کہتا ہے کہ عوام کی مشکلات و مصائب کے بارے میں غور کرنا اور ان کا حل تلاش کرنا ان کی ذمہ داری ہے تو اس سے پوچھا جا سکتا ہے کہ جناب اب تک کیوں خاموش رہے ہو۔۔۔؟
یہ لوگ کچھ دنوں کے بعد پوری یکسوئی سے واویلا کریں گے کیونکہ انہیں دکھائی دے رہا ہے کہ ایک روز عوام ذہنی طور پر تیار ہو جائیں گے کہ جب عدالت عظمیٰ نے ہی ان کے روشن مستقبل کے فیصلے کرنے ہیں۔۔۔ تو یہ کس لیے ہیں؟ اس امکانی سیاسی منظر نامے کے پیش نظر ہی وہ بیانات جاری کرنے لگے ہیں۔۔۔ مولانا فضل الرحمن نے تو صاف کہہ دیا ہے کہ ملک میں سیاسی بحران ہے اور اسمبلیوں میں نہیں ان سے باہر فیصلے ہو رہے ہیں۔۔۔ ایوانوں میں اب تک کیا فیصلے ہوئے عوام کی غالب اکثریت جانتی ہے۔۔۔ اور اگر ہوئے تو زیادہ تر وہاں کے مکینوں سے متعلق تھے۔ جس کی وہ بھاری تنخواہیں وصولتے رہے۔۔۔ علاوہ ازیں اربوں کھربوں کے مبینہ طور سے کمیشن اور ٹھیکے لیتے رہے۔۔۔ موجیں کی ہیں ان سب نے جمہوریت کی آڑ میں مگر عوام کو بیوقوف بنایا ہے۔۔۔ میں یہ نہیں کہتا کہ جمہوری حکومتیں قائم نہ ہوں۔۔۔ ہونی چاہئیں ایسی جمہوری نہیں جو لوٹ مار کر کے چلتی بنیں۔۔۔ عوام میں سے ایک آدھ نمائندہ منتخب کرا کر ڈھنڈورا پیٹا جائے کہ ہم جمہوریت پسند ہیں۔۔۔ یہ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنا ہے۔۔۔ اس سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا۔۔۔ جمہوریت کے نام پر ہمیشہ دھوکا دیا گیا ہے۔۔۔ اگر یہ درست نہیں تو پھر عوام کو کون سے بنیادی حقوق دیئے گئے یہ ایک سوال ہے۔۔۔؟
جواب نفی میں ہو گا بس چالاکیاں دکھائی گئی ہیں، ہیرا پھیریاں متعارف کرائی گئی ہیں نتیجتاً عوام بھی ذہنی طور سے انہیں جائز تصور کرنے لگے ہیں، اس طرح تو ریاست آگے نہیں بڑھ سکتی۔ لہٰذا عدالت عظمیٰ کو خوف و ہراس کے اس ماحول میں قانون کی حاکمیت کا بیڑا اٹھانا پڑا ہے۔۔۔ جسے سیاسی بہروپیے مداخلت کا نام دے رہے ہیں۔۔۔؟
جاوید خیالوی کے مطابق ’’یہ سیاسی بہروپیے تو چپکے چپکے اپنی من مانی کرتے ہوئے ذاتی تجوریاں بھر رہے تھے اور چاہتے تھے کہ وہ اسی طرح مال بناتے رہیں۔ جمہوریت خطرے میں ہے کا شور مچا کر عام نئے انتخابات میں بھی جھرلو کا استعمال کر کے۔۔۔ اقتدار میں آ جائیں اور دوبارہ مل بیٹھ کر عوام کے حقوق کو سلب کر لیں۔۔۔ مگر انہیں کیا معلوم ایک دیا سلائی اندھیرے کو بھگا سکتی ہے لہٰذا عدل کے ایوان میں تھر تھراہٹ پیدا ہوئی جو انسانی حقوق کی مسلسل پامالی سے ہوئی۔۔۔ اور پھر ’’قانون‘‘ پگڈنڈیوں، راستوں اور شاہراہوں پر آکھڑا ہوا۔۔۔!
بالکل ایسا ہی ہوا لہٰذا نام نہاد جمہوریت پسندوں اور اجڑیاں باگاں دے گالڑ پٹواری ٹائپ دانشوروں کو تشویش نہیں ہونی چاہیے کہ یہ سب حقیقی جمہوریت کے لیے ہے۔ قوم کو اسی بہار کی طرف لے جانا مقصود ہے جو برسوں سے خزاں کی لپیٹ میں ہے اور گلوں کو کھلنے ہی نہیں دے رہی۔۔۔!
حرف آخر یہ کہ جو کچھ عوامی نمائندوں کو کرنا چاہیے تھا انہوں نے اس سے چشم پوشی اختیار کی۔ وہ عوام سے قطع تعلق کرتے ہوئے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کوشاں رہے۔ پھر انہوں نے با اثر افراد پر تکیہ کر لیا کہ وہ انہیں کامیاب کروا کر اقتدار کی وادی میں پہنچا دیں گے۔۔۔ ان کا سوچنا اپنی جگہ مگر انہیں علم ہونا چاہیے کہ سوچنا فقط انہیں ہی نہیں ہوتا کچھ دوسرے بھی ذہن رکھتے ہیں لہٰذا میاں ثاقب نثار چیف جسٹس آف پاکستان نے تھوڑا سا غور کیا اور نکل کھڑے ہوئے میدان عمل میں، لہٰذا بے چارے ذلتوں کے مارے لوگ ان کا راستہ روک کر انہیں اپنی داستانیں سنا رہے ہیں اور وہ۔۔۔ احکامات جاری کر رہے ہیں۔ مجھے لگ رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں ملک کے طول و عرض میں جگہ جگہ ان کی تصویریں آویزاں ہوں گی جن کے نیچے لکھا ہو گا دیکھو بہار آ گئی ۔۔۔‘


ای پیپر