صداقت ا مانت بمقابلہ دولت طاقت اور مصلحت
28 مارچ 2018 2018-03-28

سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک تین رکنی بنچ کی جانب سے2014 ء میں صادق اور امین کی تعریف متعین کرنے کے لئے درخواست چیف جسٹس صاحب کو بھیج دی گئی ۔ یہ بھی کہا گیا کہ ایسے حالات میں بھی تشریح سامنے لانے کی کوشش کی جائے گی خواہ اس کے نتیجے میں آدھے ایوان خالی ہو جائیں۔ پانامہ ہنگامہ سامنے آنے کے بعد دھیمے سروں میں گایا جانے والا ’’راگ کرپشن‘‘ پوپ سونگ بن گیا ۔ میاں نواز شریف کے خلاف فیصلہ آیا تو بحث کا ایک باقاعدہ سلسلہ چل نکلا۔ عدلیہ کی جانب قسمیں ا ُٹھا کے فیصلے کے درست ہونے کی بات ہونے لگی ۔ بہت سے مبصرین ایسے بھی تھے جنہوں نے اس فیصلے کو نظام صداقت و امانت کے قیام کا نقطہ آغاز قرار دیا۔ نااہل قرار پانے والے وزیر اعظم نے حالات کو ایسا دھوبی پٹڑا کرا یا کہ صداقت امانت کے تصورات سیاسی حمایت کے شور وغل میں د ب گئے۔
حالیہ سینیٹ الیکشن میں ووٹ اور حمایت کی خریداری مسلسل زیر بحث رہے ۔ یہاں تک کہا گیا کہ سب سے زیادہ خریداری زرداری صاحب نے کی اور بکنے والوں میں سب سے زیادہ تحریک انصاف کے لوگ تھے۔ سینیٹ انتخابات کے دونوں مراحل پر نتائج نے سودا بازی کے تصور کو قابل قبولیت بنا د یا ۔ دولت ، طاقت اور مصلحت نے خو ب رنگ دکھایا جبکہ صداقت امانت دیانت جمہوریت کے شانے پر سر رکھ کر سوتے رہے۔ کچھ عرصہ قبل سپریم کورٹ صادق اور امین کی تعریف کے تعین میں اس حد تک جانے کو تیار تھی خواہ آدھے ایوان خالی ہو جائیں ۔ لیکن جب مدت
پوری ہونے کی وجہ سے آدھا خالی ایوان بالامکمل ہو رہا تھا تو خیانت خیانت کا شور تو ہر طرف تھالیکن ضمیر ، سیاسی اقدار ، اسلامی اور عام معاشرتی اخلاق ، قانون ، اس کے نفاذ اور تشریح کے ذمہ دار سب ادارے منظر سے غائب تھے۔
صداقت ا مانت بمقابلہ دولت طاقت اور مصلحت کی حقیقت جسٹس فائز عیسیٰ نے شیخ رشید کے نااہلی سے متعلق شکیل اعوان کے کیس میں بیان کردی۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ شیخ رشید نے اثاثوں کی درست تفصیل فراہم نہیں کی ! پھر اس کے نہ درست ہونے کو تسلیم بھی کیا ہے۔ لہٰذا غلط بیانی کے پانامہ میں طے ہونے والے اصول کی رو سے ا ُنھیں نااہل قرار دیا جائے۔ اس موقع پر جسٹس فائز عیسیٰ نے جو ریمارکس دئیے وہ دور رس اثرات ہی نہیں توجہ کے حامل بھی ہیں۔ یہ فقر ے سیاق وسباق کی تائید کے محتاج نہیں ہیں۔ * پانامہ کیس لندن فلیٹس کا تھا نااہلی اقامہ پہ ہوئی! * کیا پانامہ کیس میں وضع کئے گئے اصولوں کا اطلاق سب پر نہیں ہونا چاہیے۔عمران خان سمیت بہت سے لوگوں نے پانامہ کیس کے فیصلے کو کمزور کہا ہے ۔ ان ریمارکس کی جو بھی تشریح ہو بات آگے جا چکی ہے۔
صادق اور امین کی نسبت نبیؐ سے ہے ۔آپؐ کو یہ لقب ا وصافِ حمیدہ سے محروم معاشرہ میں دیا گیا ۔ جب آپؐ نے صفا کی چوٹی پر سوال کیا ! اگر میں یہ کہوں کہ پہاڑی کے پیچھے دشمن گھات لگائے ہوئے ہے ۔اس وقت پہاڑی پر ایسے لوگ بھی ہوں گے جو دونوں طرف دیکھ سکتے تھے ۔لیکن سب بولے جو آپؐ نے کہا وہی سچ ہے۔ اختلاف ایسا کہ آپؐ کو مکہ سے ہجرت کرنا پڑی۔اعتراف ایسا کہ ہجرت کی رات بھی اہلِ مکہ کی امانتیں آپؐ کے امین ہونے کی گواہی دے رہی تھیں۔اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ معاشرہ جیسا بھی ہوسیرت وکردار اس سے چھپے نہیں رہتے۔ ایک جج صاحب اپنے اوپر لگے ہوئے الزامات سے بری ہونے کے بعد کیک ،گلدستے، اور مبارکبادیں وصول کر رہے تھے۔۔۔ بیٹی نے اصل بات کہہ دی! آپ اپنے جیسے جج سے بری ہونے پر خوش اور مطمئن ہیں۔کیا آپ اللہ کی عدالت میں بھی خود کو صادق اور امین ثابت کر پائیں گے۔۔۔
د ستور کی دفعات62,63 میں ارکان پارلیمنٹ کی اہلیت کے حوالے سے بیان کی گئی شرائط دراصل اسلام کے اخلاقی نظام کا تسلسل ہیں۔ لیکن ان شرائط
کے ارد گرد جو کھچڑی پک رہی ہے اس نے افراد ، قانون ا ور ادارو ں سب کو کٹہرے میں لاکھڑا کیاہے۔شق62(1) میں مجلسِ شوریٰ یعنی صدر سینیٹ اور اراکینِ قومی اسمبلی کیلئے شرائط اہلیت کا ذکر ہے ۔ یہ شق کہہ رہی ہے کہ بیان کی گئی شرائط پر پورا نہ اترنے والے انتخاب کے اہل نہ ہوں گے۔ اس شق کی رو سے ارکان صوبائی اسمبلی ،جج،جرنیل اوردیگر اعلیٰ مناصب رکھنے والے افرادکیلئے صادق اور امین ہونا ضروری نہیں ! شرائط میں جھوٹا (liar) کا کوئی ذکر نہیں۔گویاامین ہونے کے لئے سچ ضروری نہیں ! ان شرائط کے اطلاق کا معاملہ بھی دلچسپ ہے۔جب جنرل مشرف کے وردی سمیت دوسری بار صدر بننے کا سوال کا موقع آیاتومنفعت بخش عہدہ سے متعلق شق(63) (1 d )آڑے آئی۔ اس وقت یہ تشریح سامنے آئی کہ{ 62 (1)} ۔۔ ’’انتخاب کے اہل نہ ہوں گے ‘‘ کا اطلاق نہیں ہوتا کیونکہ وہ تو پہلے ہی صدر ہیں۔نواز شریف بھی پہلے سے و زیر اعظم تھا لیکن۔۔۔
دن بدل جاتے ہیں حالات بدل جاتے ہیں
وقت کے ساتھ خیالات بدل جاتے ہیں
آئین کی شق63(1)(g) کے مطابق عدلیہ اور فوج کی شہرت خراب کرنا ، ا ُن کا تمسخر ا ُڑانا بھی نااہلیت کا سبب ہو سکتے ہیں۔ لیکن یہ عجیب ہے کہ جلسے میں پارلیمنٹ پر لعنت کی جائے یا عدالت میں بیٹھ کرریاست پاکستان کا تنخواہ خوار اپنے بیرونی دوستوں کے لئے سہولت کار بن جائے (ریمنڈ ڈیوس کیس) توسب ٹھیک۔۔۔ ریاست کے
تمام سیاسی، انتظامی ، عدالتی ، سفارتی (حقانی) اور فوجی عہدے قوم کی امانت ہیں۔ اس امانت کا حق قانون کے دائرے میں رہ کر فرائض کی ادائیگی سے ممکن ہے ۔جب بھی ایسا نہیں ہو گا یہ بات طاقت ، دولت یا مصلحت کی جیت پر ختم ہو گی۔ کوئی معاشرہ محض مقننہ کو صادق اور امین بنانے سے صادق امین نہیں بن سکتا۔ ریا ست کے معاہدہ عمرانی کو عدالت کی مہر سے ایک شخص کے حوالے کیا گیا سب خاموش رہے۔ پانامہ ہنگامہ ہوا تو سب درد پرانے یاد آئے، مقدمے پہ مقدمہ پیشی پہ پیشی! جس خیانت کا آج کھوج لگایا جا رہا ہے ا س کا ارتکاب اس وجہ سے ہو سکا کہ ا ختیارات کے عادلانہ استعمال کی امانت جن کے سپرد تھی وہ اس کو امانت سمجھ کر صداقت اور عدالت سے اسے کام میں لانے میں غفلت کے مر تکب ہوتے رہے۔ کسی نے اپنے جرم کو سلامتی کے کمبل میں چھپایا، کوئی عدالتی وقار کی اوٹ میں چھپا توکسی نے جمہوریت کے مورچے میں پناہ لے کر خدمت کو ڈھال بنایا ! یہ سب خائن کہاں ہیں؟
آئین میں درج شرائط اور ان پرعمل درآمد کے انتظام کا جائزہ لینے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ صادق اور امین کا تعین اور تلاش ناممکنات میں سے ہے۔ سب تدابیرکے باوجود سیاست سب سے نفع بخش سرگرمی رہی ۔پٹواری، پا ن سگریٹ والا ،کلرک، چھوٹی موٹی فیکٹری والا،جس نے بھی سیاست کو اختیار کیا وہ اور ان کے دوست رشتہ دار سب کروڑوں اوراربوں میں کھیلتے ہیں۔ مزید یہ کہ نظام کی گرفت میں کبھی کوئی نہیں آسکا۔ اس ماحول نے ملازمین کو موقع اور حوصلہ دیا کہ وہ بھی بہتی گنگا میں اشنان کریں۔ سیاسی جماعتوں کے کارکن اور ترجمان اپنی قیادت کے افعال ،اقوال اور اعمال کی بھرپور وکالت کرتے ہیں۔ایسا کرتے ہوئے ۔ قرآن کے احکامات کہ سچ بات کہو اور جھوٹے کے حق میں بحث نہ کرو فراموش کر دئے جاتے ہیں۔
روایتی جمہوریت لامحدود حقِ رائے دہی اور حقِ نیابت(universal sufferage)کے اصول پر قائم ہے (عوام کی عدالت کا فیصلہ)۔ جبکہ نیابت اور سیادت کے لئے شرائط کا تعلق دین سے ہے ۔ ان شرائط کا اطلاق نیابت کے لامحدود حق کو محدود کرتا ہے۔ لہٰذار وایتی جمہوریت کے شجر پر صادق اور امین جیسی اخلاقی اصطلاحات کی پیوند کاری پھل پھول نہیں لا سکتی۔ایسا کرنے کیلئے آج ہم سوئے کوفہ و بغداد نہیں دیکھ سکتے لہٰذا ہمیں دیانت میں آگے ممالک نیوزی لینڈ، ڈنمارک اور سویڈن کو دیکھنا ہو گا۔


ای پیپر