روپے کی بے قدری ، ملکی معیشت کو بڑا دھچکا
28 مارچ 2018

گزشتہ دنوں چیف جسٹس آف سپریم کورٹ میاں ثاقب نثا ر نے پنجاب کی 56کمپنیوں میں بھاری معاوضوں اور مراعات پر بھرتیوں پر از خود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ ’’سب کچھ نجی سیکٹر کے حوالے کر دیا گیا ہے حکمران کام نہیں کر سکتے تو حکومت چھوڑ دیں ۔ملک کو ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح ٹھیکے داروں کے حوالے نہ کریں ۔ ٹھیکے داری نظام چلنے دیں گے نہ کسی کو بندر بانٹ کی اجازت دی جائے گی ‘‘عوام چیف صاحب کے اس اقدام کو قدر کی نگا ہ سے دیکھتے ہیں ۔موجودہ حکمرانوں نے کرپشن ، لوٹ مار اور میگا پراجیکٹس سے میگا کمیشن کمایا ہے ۔ ملک قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے۔ معیشت زبوں حالی کاشکار ہے جبکہ حکمران دن بدن امیر سے امیر تر اور ان کے ذاتی کاروبار ایک ملک سے دوسرے ملک تک پھیلتے جارہے ہیں۔ چند دن پہلے
صرف ایک ہی رات میں جس طرح روپیہ کی بے قدری دیکھنے میں آئی اس کی مثال ملکی تاریخ میں نہیں ملتی ۔اندازے کے مطابق چند گھنٹوں میں88ارب روپے کا مخصوص لوگوں کا اس کا فائدہ ہو ا۔جبکہ ملکی قرضوں میں 400 ارب کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑا۔ملک میں درآمد ہونے والی 7000اشیاء جن میں پڑولیم مصنوعات ، خوردنی تیل ، چائے ،سونا ، چاندی ،لوہا ،پیتل ،مصالحہ جات شامل ہیں ان کی ڈیوٹی میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔چار ماہ کے دوران روپے کی قدر میں 10فیصد تک کمی ہوچکی ہے جو کہ حکمرانوں کی گڈ گورننس کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔حکومت نے اس اضافہ پر بے بسی کا اظہار کر کے عوام کو اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے ۔ اس حوالے سے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔پانامہ لیکس کے انکشافات کے مطابق بڑے پیمانے پر ملکی دولت بیرون ملک منتقل کی گئی ۔ اگرچہ اس کیس میں وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اپنی نااہلی کے بعد سابقہ وزیر اعظم بن چکے ہیں ۔مگر ابھی پاناما لیکس میں بے نقاب ہونے والے دیگر 436پاکستانیوں کے خلاف کو ئی ٹھوس اقدامات نظر نہیں آرہے ۔یہی وجہ ہے کہ ملک میں ایک طبقہ یک طرفہ احتساب کی بات کو ہوا دینے لگا ہے ۔ایسی صورت حال یقینی طور پر ملک کو انتشار اور افراتفری کی جانب دھکیل دے گی۔اگر دیکھا جائے تو ملک کابنیادی مسئلہ کرپشن ہے جس سے نجات حاصل کیے بغیر پاکستان ترقی نہیں کرسکتا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ کرپشن جس بھی لیول پر کسی نے بھی کی ہواس کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جانی چاہئے۔ معاشرے میں کرپشن کے ناسور کی جڑیں مضبوط ہوتی چلی جارہی ہیں۔ ایک طرف حکمرانوں کے گمنام اکاؤنٹس اور عزیزواقارب کے ناموں پر بیرون ملک قائم کی جانے والی کمپنیاں لمحۂ فکر ہیں تو دوسری جانب عوام غربت بھوک وافلاس کاشکار ہیں۔ جب تک حکمران اپناسرمایہ پاکستان منتقل نہیں کریں گے تو بیرونی سرمایہ کار کیسے پاکستان میں سرمایہ کاری کریں گے۔ اگر حکمران اپنے اللوں تللوں پر خرچ کی جانے والی رقم اور کرپشن کو کنٹرول کرلیں تو ہمیں نہ صرف آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک چھٹکارا حاصل ہوسکتا ہے بلکہ مہنگائی کوبھی بڑی حد تک کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ملک میں در حقیقت بجٹ اور معاشی پالیسیاں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک بناتے ہیں ۔ سودی طرز معیشت نے سارا معاشی نظام تباہ و برباد کردیا ہے۔اسلامی طرز معاش کو اپناتے ہوئے ہمیں ڈوبتی معیشت کو سہارا دینا ہوگا ۔ ملک میں یکساں نظام تعلیم ، مزدوروں کی فلاح کے منصوبے، بچوں کی مفت تعلیم ،سستا اور فوری عدل و انصاف فراہم کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ پاکستان نازک دور سے گزررہا ہے۔ملک پر کرپٹ اور نااہل لوگ قابض ہیں جنہوں نے اقتدار کو موروثی بنارکھا ہے۔ بجلی ، گیس کی غیرعلانیہ لوڈشیڈنگ سے عوام کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔ پورا ملک اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے۔ کاروبار زندگی عملاً مفلوج ہوچکا ہے۔حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کی وجہ سے لوگ بلبلا اٹھے ہیں۔بجلی ، گیس کی لوڈشیڈنگ اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں ہوشرباء اضافہ نے عوام کابھرکس نکال دیا ہے۔ مہنگائی
اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ عام آدمی کے لئے دو وقت کی روٹی کما نا مشکل ہوگیا ہے۔غیر ملکی قرضوں کے ساتھ ساتھ عوامی مسائل میں بھی دن بدن اضافہ ہورہاہے۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو پانچ برس ہونے کوہیں مگر 18کروڑ عوام کوریلیف فراہم کرنے کے دعوے صرف اشتہارات تک دکھائی دیئے ہیں۔ جوحکومت عوام کو بجلی ، گیس اور بنیادی سہولیات کی فراہمی اور مہنگائی وبیروزگاری کا خاتمہ نہیں کرسکتی ایسی حکومت کے برسراقتدار رہنے کاکوئی جوازباقی نہیں رہتا۔میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے مستقبل کومحفوظ بنانے کے لئے سابقہ اور موجودہ حکمران اپنے تمام اثاثے واپس ملک میں لائیں۔غیر قانونی طور پر بنائی جانے والی جائیدادوں کوضبط کیاجائے اور ان سے حاصل ہونے والی رقم 22کروڑ عوام کی فلاح وبہبود پر خرچ کی جانی چاہئے۔


ای پیپر