سچ تو یہ ہے۔۔۔
28 مارچ 2018 2018-03-28

ایک وقت تھا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف اپنے پہلے دوراقتدار میں ماڈل ٹاؤن میں کھلی کچہری لگایا کرتے،ایک روزخواجہ ریاض محمود جو مےئر لاہور بھی تھے نے نواز شریف کے خطاب کے دوران کھڑے ہو کر نعرے لگانے شروع کردئیے میاں تیرے جاں نثاربے شمار بے شمار،میاں تیرے لئے ہمارا خون بھی حاضر ہے ، دو سینئر صحافی بھی وہاں تشریف فرما تھے ان میں سے ایک نے کہا کہ یار یہاں ایک ڈرم نہ رکھ لیں خون بھرنے کیلئے۔ بات آئی گئی ہوگئی، کون خون دیتا ہے کسی کواس لالچی زمانے میں ؟ یہ سب کتابی باتیں ہیں، مالشیے ہر دور میں ’’چکا چکائی‘‘ کرتے نظر آتے ہیں،کسی کیلئے جان کوئی نہیں دیتا۔
اس کا اندازہ ایک دوست عبدالمنان عامر کی جانب سے بھیجی گئی ایک پوسٹ سے لگایا جاسکتا ہے جو ایک سرکاری محکمے میں اعلٰی عہدے پر کام کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ( ڈس ایبل) کرکٹ ٹیم کی بھی ملکی اور غیر ملکی سطح پر نمائندگی کرتے ہیں،وہ لکھتے ہیں کہ
3500 فیس بک دوست اور 15 واٹس ایپ گروپ کا ایڈمن ہونے کے بعد بھی جب اسے ہاٹ اٹیک ہوا توicu کے باہر صرف اس کی بیوی، ماں اور بھائی بہن کھڑے تھے جن کے لئے کبھی بھی اس کے پاس وقت نہیں تھا، اس بناوٹی دنیا سے باہر نکلئے اور اپنی فیملی کو وقت دیجئے، کیونکہ آپ کی فیملی کے لوگ ہی بُرے وقت میں آپ کے ساتھ ہوں گے۔مزکورہ تحریرپر مٹی ڈالنے کی نہیں غور کرنے کی ضرورت ہے کہ آج فیس بک پر جانے انجانے میں دوست بنائے جا رہے ہیں۔ چند ایک کے علاوہ باقی سب اجنبی ہوتے ہیں اس کے باوجود محبت جتائی جاتی ہے ۔ اسی طرح کہ جیسے ازلوں سے دعا سلام ہو،
سچ تو یہ ہے کہ جب کسی مریض کو خون دینے کی ضرورت پیش آئے توکئی ’’ایویں کیویں‘‘ کے بیمار ہو جاتے ہیں، ایک دوسرے پر مر مٹنے کی قسمیں کھانے والے عجیب وغریب بہانے ڈھونڈ نکالتے ہیں یا پھر بلڈ ڈونر کو ڈوھنڈا جاتا ہے یا بلڈ ڈونرز سوسائٹیزکو ،بجائے اس کے کہ پہلے گھر کے افرادکا بلڈ لیا جائے وہ چاہتے کہ اپنا بلڈ نہ ہی دیں، اس کیلئے چاہے کچھ رقم ہی کیوں نہ ادا کرنی پڑے؟
حالانکہ اس سے بڑی نیکی اور کیا ہو گی کہ کسی مریض کی جان بچانے کیلئے مولا کریم نے ہم کو اس کا وسیلہ بنایا ہے لیکن ہمیں ایسی نیکی کرتے موت پڑتی ہے ؟ ویسے ہم اکثر کہتے ہیں کہ تیرے لئے خون بھی حاضر ہے لیکن جب خون دینے کا وقت آتا ہے توخونی رشتے بھی ساتھ چھوڑ جاتے ہیں،یقین نہیں تو کسی روز ہسپتال کے باہرڈیرے لگالیں پھر دیکھیں کتنے مجبورلوگ آپ کو آنسو بہاتے ملیں گے،حقیقی زندگی کو ہم نے اپنوں سے دور کردیا ہے ، بناوٹی زندگی کو گلے لگا لیا ہے جبھی توآج نفرتوں نے ہر جگہ ڈیرے ڈال لئے ہیں اورمخلص پن ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا،مطلب کی دوستی اور مطلب کا پیار، کسی سے کام نہ ہو تو ہم راستہ ہی بدل لیتے ہیں، کام ہو تو جھک کر سلام کرتے ہیں جیسے آج کل ہمارے سیاستدان کر رہے ہیں، وفاقی اور صوبائی اسمبلیوں میں روز کورم ٹوٹتا ہے ۔ کسی کو کچھ خیال نہیں کہ قومی خزانے کا ضیاع ہو رہا ہے ۔ سب اپنی اپنی مستی میں گم۔ اگلے الیکشن کی تیاری کیلئے اب ووٹروں کی فوتیدگیوں،شادی بیاہ کی تقریبات میں بن بلائے مہمان بن جاتے ہیں،پانچ سال کہیں نظر نہیں آئے ؟اس پر بس اتنا ہی کہوں گا کہ
کبھی خودپہ کبھی حالات پہ رونا آیا
بات نکلی تو ہر اک بات پہ رونا آیا
پھر وعدے وعید کیے جائیں گے، عوام کے ساتھ ہر روز اپریل فول منایا جائے پھر تو کون تے میں کون،جو ’’ہر ‘‘جائیں گے وہ ہستالوں میں پہنچ جائیں گے اورجوجیت جائیں گے وہ اسمبلیوں میں پہنچ جائیں گے،عوام سے پھر پانچ سال کیلئے ’’کٹی‘‘ اپنے اگلے پچھلوں کے یہ اور وہ ان کے واری واری جائیں گے،ووٹر جائیں بھاڑ میں انہیں کیا،بات چلی تھی نواز شریف کی کھلی کچہری سے اور خواجہ ریاض محمود سے ہوتی ہوئی کہاں تک جا پہنچی۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ ہم حقیقت کو فیس نہیں کرتے۔ لیکن فیس بک کی دوستیاں بنائے جاتے ہیں چاہے کسی کے کام آئیں چاہے نہ آئیں،ہم سب ایک دوسرے کیلئے اس طرح ہی ہیں کہ
ساڈی زندگی وانگ کبوتراں دے
لوکی ہتھاں تے چوگ چگاندے نے
پہلے اپنا بنا کے رکھ دے نے
’’فر‘‘تاڑیاں مار اڑاندے نے
آئیے ہر جگہ مخلص پن کو فروغ دیں اس دعا کے ساتھ
بس اتنا ہی بقول شاعرکہ
امید ابھی کچھ باقی ہے اک بستی بسنے والی ہے
جس بستی میں کوئی ظلم نہ ہو،جینا کوئی جرم نہ ہو
وہاں پھول خوشی کے کھلتے ہوں،موسم سارے ملتے ہوں
امیدہے ایسی بستی کی، جہاں جھوٹ کا کاروبار نہ ہو
دہشت کا بازار نہ ہو،جینا دشوار نہ ہو،مرنا بھی آزارنہ ہو
یہ بستی کاش تمہاری ہو، یہ بستی کاش ہماری ہو
وہاں خون کی ہولی عام نہ ہو،اس آنگن غم کی شام نہ ہو
جہاں منصف سے انصاف ملے، دل سب کا سب سے صاف ملے
اک آس ہے ایسی بستی ہو،جہاں روٹی زہرسے سستی ہو
امید ابھی کچھ باقی ہے ،اک بستی بسنے والی ہے


ای پیپر