فوج کا ملکی سیاست کے کسی بھی این آر اوسے کوئی تعلق نہیں،ترجمان پاک فوج
28 مارچ 2018 (16:32)

راولپنڈی: پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ تمام ادارے اپنی حدود میں رہیں گے تو ملک ترقی کرے گا ،الیکشن کا اعلان فوج کو نہیں الیکشن کمیشن کو کرنا ہے ، فوج کا ملکی سیاست کے کسی بھی این آر اور سے کوئی تعلق نہیں ، وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف اور آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کی ملاقاتیں معمول کے مطابق تھیں ، اگر کوئی ڈاکٹرائن ہے تو وہ پاکستان میں امن بحال کے حوالے سے ہے،اس کا غلط مطلب نہ لیا جائے، فوج نے اپنی زیادہ تر توجہ صوبے میں جاری معاشی ترقی اور ضربِ عضب کے تحت جاری آپریشن پر ہے، پاک فوج بھارت کے خلاف کسی بھی جارحیت کے لیے بھرپور تیار ہے، قوم کو پاکستان کی طاقت پر بھروسہ کرنا چاہیے،بھارت سے جب بھی دھمکی آتی ہے تو پورا پاکستان متحد ہو جاتا ہے ، ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے، ہم ایک ذمہ دار قوم ہیں، جنوبی ایشیا میں پاکستان کے کردار کو مثبت انداز میں دیکھا جائے، پاکستان خطے میں امن کی راہ ہموارکرنے کی ہمیشہ کوشش کی،اگر پاکستان نے اپنا کردار ادا نہ کیا ہوتا تو امریکا سپر پاور نہ ہوتا، پاک فوج ٹریننگ کیلئے سعودی عرب جاتی ہے ،پاکستان اپنی فوج سعودی عرب نہیں بھیج سکتا۔

جنرل ہیڈ کوارٹرز(جی ایچ کیو)میں پریس بریفنگ کرتے ہوئے پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ گزشتہ ہفتے پاکستان کے لیے بہت اہم تھا جس میں پاکستان سپر لیگ ( ایس ایل)کا فائنل اور اسلام آباد میں 23 مارچ کے لیے پریڈ ہونی تھی۔انہوں نے کہا کہ یہ دونوں ایونٹ بہترین انداز میں گزر گئے ہیں، جس کے لیے اسلام آباد پولیس اور عوام کے شکرگزار ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل کے فائنل میں لوگوں کا جوش و خروش اور پاکستان زندہ باد کے نعروں کو دیکھ بے حد خوشی ہوئی۔انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پاکستان کے کردار کو مثبت انداز میں دیکھا جائے، پاکستان کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ خطے میں امن کی راہ ہموار ہو۔ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان نے اپنا کردار ادا نہ کیا ہوتا تو امریکا سپر پاور نہ ہوتا۔میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ پاکستان کا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نہ صرف جانی نقصان ہوا بلکہ مالی نقصان بھی ہوا، تاہم اس کی بحالی کے لیے معاشی سرگرمیوں کی ضرورت ہے۔

لائن آف کنٹرول کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2018 کے آغاز کی صورتحال 2017 کے آغاز کی صورتحال بہت مختلف ہے، جہاں بھارت کی جانب سے متعدد مرتبہ سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی جس میں کئی شہریوں کی جانیں چلی گئیں۔انہوں نے کہا کہ جب سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاک فوج کے سربراہ کے دورہ ایران کے بعد سے صوبہ بلوچستان میں سرحد پر سیکیورٹی اور اندرونی سیکیورٹی کے معاملا بہتر ہوئے ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ سیکیورٹی تعاون کا معاہدہ ہے اور اس کے لیے پاک فوج کے دستے ریاض روانہ ہوں گے۔بلوچستان کی سیکیورٹی کی صورتحال پر بات چیت کرتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ فوج نے اپنی زیادہ تر توجہ صوبے میں جاری معاشی ترقی اور ضربِ عضب کے تحت جاری آپریشن پر ہے۔انہوں نے بتایا کہ تربت میں ایک ایونٹ منعقد کیا گیا تھا جس میں آرمی چیف نے اور ملک کے نامور گلوکاروں نے شرکت کی تھی، جہاں مقامی افراد نے رات گئے تک وہاں پر شرکت کی۔

کراچی کی صورتحال کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 2018 کا شہرِ قائد 2013 سے بہت مختلف ہے۔انہوں نے کہا کہ 2013 میں کراچی دنیا کا چھٹا سب سے خطرناک شہر تھا، تاہم اب پاکستان کا اس فہرست میں 67واں نمبر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں ہڑتالوں کا نام و نشان ختم ہوگیا ہے، اور یہاں پر معاشی سرگرمیان بہتر ہورہی ہیں۔آپریشن ردالفساد کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال میں سیکیورٹی اداروں نے بڑی کامیابیاں حاصل کیں جس کے اثرات سامنے آرہے ہیں۔

پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اگر ان اداروں کی محنت نہ ہوتی تو پاکستان میں یہ امن قائم نہ ہوتا۔انہوں نے بتایا کہ سیکیورٹی اداروں نے 7 بڑے دہشت گرد نیٹ ورک ختم کیے ہیں اور اس عرصے میں 16 خودکش بمباروں کو گرفتار کیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ جو عناصر پاکستان کو پر امن دیکھنا نہیں چاہتے، وہ ایسے اہداف کو نشانہ بناتے ہیں جو ان کے مقاصد میں پورا نہیں ہونے دیتے۔انہوں نے کہا کہ ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے، ہم ایک ذمہ دار قوم ہیں، تاہم یومِ پاکستان کی پریڈ کے دوران بھارتی ہائی کمشنر کو اپنی تہذیبی اخلاقی صف کو سامنے رکھتے ہوئے مدعو کیا۔

پی ایس ایل فائنل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیشنل اسٹیڈیم کراچی فائنل کے لیے تیار نہیں تھا، لیکن اسے میچ سے قبل تیار کرلیا گیا، جبکہ پاکستان میں دیگر کرکٹ کے ایونٹ کے لیے راولپنڈی، پشاور، ملتان اور فیصل آباد کو بھی تیار کیا جائے گا۔

وزیراعلی پنجاب شہباز شریف اور آرمی چیف کی ملاقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ملاقاتیں معمول کے مطابق ہوئیں جبکہ وزیراعلی پنجاب نے افغانستان سے متصل سرحد پر باڑ لگانے کے معاملے میں ٹیلی فون کرکے آرمی چیف سے مالی معاونت کی بھی پیش کش کی تھی۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ آرمی چیف نے صحافیوں سے آف دی ریکارڈ بات کی تھی، جن میں سے کچھ ایسے افراد تھے جو اس ملاقات میں موجود نہیں تھے لیکن انہوں نے اس ملاقات پر بات کی اور کالم بھی لکھے۔ان ملاقاتوں کے حوالے سے چھپ کر ملنے کا تاثر نہ دیا جائے یہ وضاحت ضروری تھی ۔جبکہ ملک چلانے کیلئے آپس میں رابطے ہوتے ہیں کیونکہ حکومت اور فوج کے درمیان یہ سب ضروری ہے ۔

باجوہ ڈاکٹرائن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ڈاکٹرائن ہے تو وہ نجی ٹی وی چینل پر دیے گئے ایک پروگرام کے مطابق پاکستان میں امن بحال کے حوالے سے ہے۔

میجر جنرل آصف غفور نے بھارت کی جانب سے دھمکی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ جب بھارت کی جانب سے کوئی دھمکی آتی ہے تو پورا پاکستان ایک ہوجاتا ہے چاہیے وہ ایک عام آدمی ہو یا کسی سیکیورٹی فورس کا اہلکار ہو۔بھارت کی جانب سے خطرے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاک فوج بھارت کے خلاف کسی بھی جارحیت کے لیے بھرپور تیار ہے، قوم کو پاکستان کی طاقت پر بھروسہ کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی فوج سعودی عرب نہیں بھیج سکتا، تاہم دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ موجود ہے، اور اسی کے تحت فوج ٹریننگ کے لیے سعودی عرب جاتی ہے۔آئی ایم سی ٹی سی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس کے بارے میں بات کرنا میرے اختیار میں نہیں، تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان آئی ایم سی ٹی سی کی کسی ایسی مہم کا حصہ نہیں بنے گا جو کسی دوسرے ملک کے خلاف ہوں۔ پاک امریکا تعلقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں۔پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم)کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ نقیب اللہ محسود کے قتل کے بعد شروع ہوا تھا۔

پاک فوج کی چیک پوسٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ چیک پوسٹیں اتنی نہیں ہیں جتنی بتائی جاتی ہیں، تاہم جب تک خطروں کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاتا تب تک چیک پوسٹوں پر ختم نہیں کیا جاسکتا۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی چیک پوسٹس پر موجود جوان عوام کی حفاظت کے لیے ہی وہاں موجود ہے، جو کسی بھی خطرے کے خلاف پہلا دفاع ہے۔ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ تمام قومی ادارے اپنی اپنی حدود کے اندر رہ کر کام کریں گے تو ملک ترقی کرے گا اور جہاں تک عام انتخابات کا سوال ہے تو اس اعلان پاک فوج کو نہیں بلکہ الیکشن کمیشن کو کرنا ہے ۔


ای پیپر