حسین حقانی کو ایک ماہ میں پاکستانی لایا جائے: سپریم کورٹ
28 مارچ 2018 (15:31) 2018-03-28

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے حکومت کو حسین حقانی کو واپس لانے کے لیے ایک ماہ کی مہلت دے دی اور چیف جسٹس نے کہا کہ مزید تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ چیف جسٹس نے دوران سماعت میڈیا پر زیر التواء مقدمات پر رائے دینے والوں کو بھی خبردار کر تے ہوئے کہا کہ ایسا نہ ہو میڈیا پر بیٹھ کر رائے زنی کرنے والوں پر پابندی لگا دوں۔


میمو گیٹ اسکینڈل کیس کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی سپریم کورٹ نے حکومت کو حسین حقانی کو واپس لانے کے لیے ایک ماہ کی مہلت دیدی چیف جسٹس کہتے ہیں حسین حقانی کی واپسی کے لیے مزید تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی ،ساتھ ہی زیر التواء مقدمات پر میڈیا پر رائے دینے والوں کو تنبیہ کردی ایسا نہ ہو کہ زیر التواء مقدمات پر میڈیا پر بیٹھ کر رائے زنی کرنے والوں پر پابندی لگا دوں ہوسکتاہے نوٹس دے کر سب کوبلالیں ٹی وی پر بیٹھ کرلوگ کہتے ہیں گڑھے مردے اکھاڑے جارہے ہیں حسین حقانی کی واپسی میں گڑھے مردے اکھاڑنے والی کون سی بات ہے رات کومیڈیاپر لوگ باتیں کرنے بیٹھ جاتے ہیں عدالت میں زیر التواء مقدمات پر رائے زنی نہیں ہونی چاہیے جب فیصلہ آ جائے تو اسکے بعد جو مرضی کہتے رہیں۔


ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ حسین حقانی پر ایف آئی آر کی کے اندراج کی نقل جمع کروادی ہے اور کہا کہ عدالت ہمیں ایک موقع فراہم کردے چیف جسٹس نے کہا کہ حسین حقانی عدالت کوواپس آنے کی یقین دہانی کرواکے گئے عدالتی احکامات پر عمل کرناحکومت کاکام ہے ابھی تک مثبت پیش رفت نہیں ہوئی حسین حقانی کوکب تک وطن واپس لایاجائے گا سیکریٹری داخلہ نے عدالت کو بتایا امریکہ سے دستاویزات گزشتہ روز واپس آچکی ہیں۔


چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سیکرٹری خارجہ اور سیکرٹری داخلہ کو متفرق درخواستوں کیلئے نہیں بلایا چیف جسٹس نے ڈی جی ایف آئے سے سوال کیا کہ بتا دیں کہ کتنے دنوں میں نتائج دے سکتے ہیں تو ڈی جی ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ حسین حقانی کی واپسی کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گیدائمی وارنٹ کے ا جراء کے بعد ریڈ وارنٹ کیلئے انٹرپول سے رابطہ کریں گیمیں خود بھی امریکا جائوں گا، وہاں وکیل کی خدمات بھی حاصل کی جائیں گی۔


ای پیپر