وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد معاملات میں پیش رفت ہو گی : چیف جسٹس ثاقب نثار
28 مارچ 2018 (14:17)

اسلام آباد: چیف جسٹس سپریم کورٹ میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ حکومت کو کام کرنے دیا جائے اور وزیراعظم سے ملاقات کے بعد معاملات میں تیز پیشرفت ہوگی، انشا اللہ اب کوئی سمری نہیں رکے گی ،سیکرٹری کیڈ ہسپتالوں کے سربراہان کی تقرری کے سلسلے میں ہمیں مثبت پیش رفت چاہیے، اگر پیش رفت نہ ہوئی توسربراہان کے طور پر اچھے لوگوں کی تقرری خود کریں گے، اس کے بعد مستقل تقرری آئندہ حکومت کرلے گی ۔


بدھ کو چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے وفاقی ہسپتالوں میں سہولیات سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ پمز اور دیگر ہسپتالوں کے سربراہان کی تقرری کی سمری کابینہ کو دوبارہ بھیجی جائے گی ، عدالتی احکامات پر تیزی سے کام ہورہا ہے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ انشا اللہ اب کوئی سمری نہیں رکے گی ، وزیراعظم سے گزشتہ روز کی ملاقات کے بعد معاملات میں تیزی سے پیش رفت ہو گی ، سیکرٹری کیڈ ہسپتالوں کے سربراہان کی تقرری کے سلسلے میں ہمیں مثبت پیش رفت چاہیے، اگر پیش رفت نہ ہوئی توسربراہان کے طور پر اچھے لوگوں کی تقرری خود کریں گے، اس کے بعد مستقل تقرری آئندہ حکومت کرلے گی ۔


درخواست گزار ڈاکٹر نے کہا کہ انتظامی عہدوں پر بھی ڈاکٹروں کو لگا دیا جاتا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ میرے خیال سے صحت کے شعبے کے سیکرٹری سمیت انتظامی معاملات پر ڈاکٹرز ہی ہونے چاہئیں، حکومت کو کام کرنے دیں، بعد میں دیکھیں گے اچھے لوگ لگائے گئے کہ نہیں۔ کیس کی سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کردی گئی۔


ای پیپر