انڈیا کی طرف سے ناقص روئی برآمد کرنے پر پاکستان کا کارروائی کا فیصلہ
28 مارچ 2018 (11:06) 2018-03-28

کراچی:بھارتی برآمد کنندگان کی جانب سے غیر میعاری روئی دینے پر پاکستانی ٹیکسٹائل ملز مالکان نے درآمدی روئی کی بھارت میں پری انسپکشن کرانے اورکچھ نے انڈین ایکسپورٹرز کے خلاف انٹرنیشنل کاٹن ایسوسی ایشن(ا?ئی سی اے) میں اپیل داخل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔


چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایا کہ چند ماہ قبل حکومت پاکستان کے بھارت سے ڈیوٹی فری روئی کی درآمد کی اجازت دیے جانے کے باعث کئی پاکستانی ٹیکسٹائل ملزنے بھارت سے بڑے پیمانے پر روئی درا?مدی معاہدے کیے تھے تاہم درآمد شروع ہونے سے قبل ہی روئی کی قیمتوں میں 5 سے 10 سینٹ فی پاو?نڈ اضافے کے باعث کئی بھارتی برآمد کنندگان نے پاکستانی ٹیکسٹائل ملزکے ساتھ کیے گئے سودے غیراعلانیہ طور پر منسوخ کردیے تاہم بھارت سے پاکستان آنے والی روئی کا معیارکچھ عرصے سے کافی خراب دیکھا جا رہا ہے۔


پاکستانی ٹیکسٹائل نے فیصلہ کیا ہے کہ روئی کی درا?مد سے قبل ان کے نمائندے بھارت جا کر روئی کی پری انسپکشن کریں گے تاکہ غیرمعیاری روئی درا?مد ہی نہ کیا جائے جبکہ اطلاعات کے مطابق بعض پاکستانی ٹیکسٹائل ملزنے غیرمعیاری روئی برا?مد کرنے والے ایسے بھارتی روئی برا?مد کنندگان جو کلیم بھی قبول نہیں کر رہے کے خلاف ا?ئی سی اے سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ انہیں بلیک لسٹ کرایا جا سکے۔ یاد رہے کہ ماضی میں بھی بھارتی روئی برآمد کنندگان روئی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث کئی مرتبہ پاکستانی ٹیکسٹائل ملز کے ساتھ کیے گئے روئی برآمدی معاہدے منسوخ کر چکے ہیں


ای پیپر