ستر سال کم نہیں ہوتے
28 مارچ 2018

پچھلی دفعہ میں یہی عرض کررہا تھا کہ ملکوں، قوموں اور انسانوں کی زندگی کے سترسال بہت ہوتے ہیں، گو یہ کہا جاتا ہے کہ ساٹھ سال میں بندہ سٹھیاجاتا ہے اور یہ بھی فرمان ہے کہ جس انسان نے اپنی زندگی سنوارنی ہوتی ہے، تو چالیس سال میں اس کے اندرتبدیلی آجاتی ہے، اُس کے بعد بدلنا گوناممکن تو نہیں، مگر ذرا مشکل ضرور ہوجاتا ہے۔
قارئین میں جناب چیف جسٹس صاحب کا مشکور ہوں کہ انہوں نے کالم لکھنے سے پہلے مجھے باوضو ہونا سکھا دیا ہے، کیونکہ میں کالم لکھتے وقت قرآن مجید سامنے رکھ لیتا ہوں، چیف جسٹس صاحب کے آگے بھی دلائل دینے کے لیے وکلاءصاحبان کتابوں کے انبار لگادیتے ہیں۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ صرف قرآن مجید حوالہ جات کے لیے بہت کافی ہے۔
چونکہ میں نہ عالم ہوں، نہ فاضل اور مجھ جیسے دینی علم وآگہی اور مطلوبہ جوابات ، قرآن و حدیث سے حاصل کرلیتے ہیں، جہاں تک مجھے علم ہے سوائے ایک بدبخت کے میرے اِس طریق کار پہ کسی کو اعتراض نہیں بلکہ اتفاق ہے۔
سترسال کے دوران آج کل ہمارا وطن جن کٹھن حالات سے دوچار ہے، اگر اس کو جانچا جائے تو کل کے دینی رہنما، آج کے سیاسی رہنما بن چکے ہیں۔ ہماری نظر میں کسی حدتک حالات کے بگاڑ میں وہ بھی شامل ہیں۔ مثلاً یہ کہ گناہ کبیرہ میں جوگناہ شامل ہیں،ان میں ایک گناہ یہ ہے کہ جب کوئی مسلمان اپنے بھائی کو کافر کہہ کر پکارتا ہے، تو ان دونوں میں ایک ضرور کافر ہوجاتا ہے۔ یعنی ایسا کہنے والا۔
رسول پاک کے فرمان کو سمجھنے کے لیے درس نظامی کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ یہ ہرمسلمان کی سمجھ میں بات آجاتی ہے۔
چیف جسٹس صاحب نے وکیل اعتزازاحسن کے دودھ والے کیس پہ کہا تھا، کہ بچوں کے دودھ پاﺅڈر ملک”فارمولا“ ملک، جو کہ دودھ نہیں ہوتا، بلکہ فارمولے استعمال کرکے اِسے دودھ کی شکل دی جاتی ہے۔وکیل اعتزاز احسن دودھ والوں کی طرف سے وکیل تھے، چیف جسٹس نے حکم دیا تھا، کہ فلاں تاریخ تک دودھ کے ڈبوں پر لکھا جائے ، کہ یہ دودھ نہیں ہے حکم عدولی پر وکیل اعتزاز احسن پہ صرف اور صرف دس ہزار جرمانہ کردیا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ جرمانہ انتہائی کم ہے جبکہ ہمارے ملک میں اربوں کا دودھ آتا ہے ۔وکیل جو خدا کے فرمان کی حکم عدولی کرسکتا ہے، اور قل شریف جسے نہیں آتا ،کلمہ پڑھنے سے انسان مسلمان تو ہوجاتا ہے لیکن کلمے سے ایمان نہیں آتا، اس نے عدالت کو بتادیا، اور انکار کردیا کہ وہ جرمانہ ادا نہیں کرے گا، ....اصرار کے باوجود جب انکار ہوتا رہا تو مجبوراً بھرم اور ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے جناب چیف جسٹس نے دس ہزار خود جمع کرادیا۔ اور کہا کہ یہ رقم میرے بیٹے نے ادا کردی ہے، اور کہا ہے کہ بھتیجے نے ”صدقہ“ سمجھ کر اپنے انکل کو دیا ہے۔
چیف جسٹس قاضی القضاہ ملک کا سب سے بڑا منصب ہے، حتیٰ کہ وہ کسی بھی حکمران کو چشم زدن میں بلکہ چشمِ ابرو سے معزول کرسکتا ہے، اور انہوں نے کرکے بھی دکھایامگر نجانے کیوں نہال ہاشمی جیسے سید کے لیے باپ بیٹے کے دل میں ذرا بھی رحم نہ آیا شاید اپنی اوقات سے بڑھ کر دھمکیاں دینے کی وجہ سے، مگر چچا اسحاق ڈار کے لیے بھی قانون آڑے آگیا اور عمران خان کے گھر کے نقشے کے لیے بھی۔ میں تو صرف یہ سمجھنا چاہتا ہوں کہ کیا ایک وکیل جج کو علانیہ کہہ سکتا ہے کہ میں جرمانہ نہیں دوں گا کرلو جو ....مجھے یہ بھی معلوم کرنا ہے کہ اعتزاز احسن کس طرح چیف جسٹس کے ڈرائیور بن جاتے ہیں، اور کسی چیف جسٹس کے بیٹے کے چچا ۔ہمیں تو سابقہ اٹارنی جنرل عرفان قادر سے یہ شکوہ تھا، کہ وہ چیف جسٹس افتخار چودھری کو عدالت میں نازیبا اشارے کررہے تھے، جیسے نازیبا الفاظ مجھے متذکرہ سطور میں لکھنے پڑے۔ .... ان ستر سالوں میں یہ دن بھی دیکھنے پڑے، ملک کے وکلاءصاحبان قانون کا اس قدر احترام کرتے ہیں کہ اپنے قانون کے مطابق فیصلے نہ کرنے پہ جج کو کمرے میں بند کردیتے ہیں۔ پھینٹی لگادیتے ہیں۔ آوازے کستے ہیں۔ حتیٰ کہ پولیس والوں کے کھونے بھی عدالت کے اندر کھول دیتے ہیں مگر سابق چیف جسٹس افتخار چودھری نے وکیلوں کے نعرے چیف تیرے جاں نثار، بے شمار بے شمار کہنے پہ وکیلوں کو سربٹھالیا۔ اور موجودہ چیف جسٹس اپنے ہر جج کی تعریف کرتے اور ان کے ”عادل“ ہونے کی گواہی دیتے ہیں۔ جب کہ معروف ومشہور وکیل ایس ایم ظفر صاحب نے پی سی ہوٹل میں منعقدہ ایک تقریب میں ، جس میں میں بھی شامل تھا، اور جسٹس اللہ نواز صاحب، جن کا نام ”نواز“ ہونے کی وجہ سے مجھے اب بھی یاد ہے، اور کچھ اور جج صاحبان بھی موجود تھے، کہا تھا، کہ پہلے لوگ ہمیں وکیل کرتے تھے، اب جج کرلیتے ہیں۔
میں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا کیونکہ واقعی عادل اور انصاف پسند اب بھی موجود ہیں، اور پہلے بھی موجود تھے۔.... میں نے بات شروع کی تھی قرآن مجید کے حوالے سے، میںنے جب قرآن کھولا ،تو سورة المائدہ میں لکھا ہے کہ جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلے نہ کریں وہی کافر ہیں۔ اور یہ بات اللہ سبحانہ‘ وتعالیٰ نے تورات، انجیل، اور قرآن مجید تینوں الہامی کتابوں میں فرمائی ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے، کہ ”صدقہ“ سرکاری خزانے میں جمع کرایا جاسکتا ہے، اور یہ اگر رواج چل پڑا تو ہمارے لوگ، بجلی کے بل، پانی وفون کے بل، کسٹم کی ادائیگی وغیرہ بھی صدقہ وخیرات سمجھ کر جمع کرادینے کے بعد غریبوں اور ناداروں کو زکوٰة دینا بند کردیں گے، صدقہ عموماً مسکینوں کو دیا جاتا ہے، اور حضور نے فرمایا کہ جو شخص اس طرح چھپا کر صدقہ دیتا ہے کہ سیدھے ہاتھ کی الٹے ہاتھ کو خبر نہیں ہوتی۔ تو یہ شخص قیامت کے دن عرش الٰہی کے سائے میں ہوگا، مگر ہم تو اس خطہ ارض پر رہتے ہیں کہ جہاں حکمران وآمر اپنے آپ کو ظل الٰہی کہلوانا پسند کرتے ہیں۔ مگر اس حقیقت کو سننا بھی پسند نہیں کرتے کہ بقول حضرت علامہ اقبالؒ
گرچہ اِس دیر ِکہن کا ہے یہ دستور ِقدیم
کہ نہیں میکدہ و ساقی و مینا کو ثبات!!
پاکستان بننے کے بعد یہ بھی پہلا موقع ہے کہ کلمے کے نام پہ لئے گئے وطن میں لسانی اور قومی عصبیت کے نام پر سیاسی جماعت بنی، اور یہ بھی پہلی دفعہ ہوا کہ پارٹی بنانے والے کے سرپہ دست شفقت ہمارے پیارے ملک کو تسلیم نہ کرنے والے انتہائی متعصب ملک کا ہے، اور ان کا آپس میں اتحاد واتفاق کچھ اس قسم کا ہے کہ جس کی مثال یہ دی جاسکتی ہے کہ مری، گلگت، چترال یا کاغان جہاں ملک کے میدانی علاقوں سے سیاحت کے لیے پہاڑی علاقوں کا رخ کرتے ہیں، تو بعض اوقات کھلنڈرے لڑکے تفنن طبع کی خاطر اوپر سڑک سے وادی میں جاتی ڈھلوان سے کوئی بڑا پتھر گرادیتے ہیں اور بہت نیچے وادی میں بنی بستی میں درجنوں گھر ہوتے ہیں جہاں ان کے مویشی اور بچے بھی باہر موجود ہوتے ہیں، اوپر سے پتھر کے لڑھکنے کے ارتعاش اور قدرے خاموش آواز کو بھی ایک اور پراسرار آواز مکینوں کو اس طرح سے مطلع کردیتی ہے کہ وہ کسی نقصان سے بچ جاتے ہیں، اور یہی حال ان کا رات کو بھی ہوتا ہے، شاید رات کو بھی ان کا نظام خبرو خیر ایسا ہو
یہ رات خیر سے کٹ جائے سونے والوں پر
پلٹ پڑا جو کہیں آفتاب، کیا ہوگا !!
اور تو اور یہ انتظام حفاظت ہم جنس پرندوں میں بھی موجود ہے، اگر کسی ایک بھی کالے پرندے پہ افتاد آجائے، تو صرف اس کی ایک آواز پہ سارے پرندے ہم آواز ہوکر آسمان سرپہ اُٹھا لیتے ہیں، اور یہ اطلاع اور تو اور بیرون ملک بھی پہنچ جاتی ہے۔ اس سے زیادہ میں اور کیا لکھ سکتا ہوں۔
بات دیوانے کی ہے کیا کیجئے
جوسمجھنا ہے خود سمجھ لیجئے
شکر ہے منصوبہ زوال وطن پہ قدغن کے بعد حالات امن بہتر ہیں .... (جاری وساری ہے )


ای پیپر