پٹرول کہانی
28 جون 2020 2020-06-28

میں ا س بات کا قائل ہوں کہ کسی بھی حکومت کو پٹرول سمیت دیگر اشیا عوام کو اس صورت میں فراہم نہیں کرنی چاہئیں کہ عوام کے ٹیکسوں کی کمائی ان میں بطور سب سڈی شامل کی جا رہی ہو مگر اس بات کا کہیں زیادہ قائل ہوں کہ حکومتوں کوخود ناجائز منافع خور نہیں ہونا چاہئے اور اسے مافیاز کے سامنے سرنڈر نہیں کرنا چاہئے۔ میرے پروگرام میں پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے سیکرٹری انفارمیشن خواجہ عاطف رضا نے جون کے پہلے ہفتے میں ہی انکشاف کر دیا تھا کہ حکومت یکم جولائی سے پہلے ہی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دے گی مگر یہ خبر کہیں زیادہ بڑی ہے کہ حکمرانوں نے ہائی آکٹین ( ایچ او بی سی) کے بعد ہائی سپر اور ڈیزل کی قیمتوں کے میکانرم کو بھی ڈی ریگولیٹ کر دیا ہے۔ جب پٹرول کا بحران تھا اورقیمت چوہتر روپے لیٹر تھی تو اس وقت بھی ہائی آکٹین ڈیڑھ سو روپے کی اوسط قیمت پر مختلف پٹرول پمپوں پر وافر دستیاب تھا اور اسے سستا نہیں کیا گیا تھا، گمان ہے کہ اب یہی کام سپر ، ڈیزل اور مٹی کے تیل کے ساتھ ہو گا۔

حکومت کے پاس پٹرول مہنگا کرنے کے حق میں دو بڑے دلائل ہیں۔ پہلی دلیل یہ ہے کہ عالمی منڈی میں مہنگا ہو گیا ہے اور دوسرا یہ کہ مہنگا ہونے کے باوجود ابھی تک خطے کے باقی ممالک سے سستا ہے۔ پہلی دلیل کا جواب سابق وزیر خزانہ اسحق ڈار نے دیا ہے کہ جب اپریل2018 میں تیل کی عالمی منڈی میں قیمت 72ڈالر فی بیرل تھی تو اس وقت پٹرول اٹھاسی روپے اور ڈیزل ننانوے روپے لٹر عوام کو دیا جا رہا تھا۔ جون2020 میں عالمی منڈی کی قیمت41 ڈالر فی بیرل ہے یعنی 43فیصد کم تو پٹرول سو روپے اور ڈیزل ایک سو ایک روپے لیٹردیا جا رہا ہے۔ ہمیں اس موقعے پر روپے کی قیمت میں کمی کو بھی ملحوظ رکھنا ہو گا مگر اس کے باوجود یہ اضافہ زیادہ ہے اور اس وقت بہت زیادہ لگتا ہے جب ایوان میں بتایا جاتا ہے کہ اصل اضافہ تو اکتالیس روپے کیا جانا تھا مگر صرف ساڑھے پچیس روپے کیا گیا یعنی آپ پٹرول کی قیمت کو ایک سو سولہ روپے لٹر پر لے جاتے جو اس برس کے آغاز پر کو کرونا سے پہلے تھی۔

چلیں یہ بات مان لیتے ہیں کہ عالمی منڈی میں قیمت بڑھی اور آپ نے بھی بڑھا دی مگر کیا یہ معاملہ اتنا ہی سادہ ہے اور اگر اتنا ہی سادہ ہے تو ہم پٹرولیم کمپنیوں کے آپس میں کئے جانے والے ناجائز اور ناپاک گٹھ جوڑ کو کہاں رکھیں جن کو آپ کی حکومت نے خود تسلیم کیا۔ ان پرائیویٹ کمپنیوں نے پٹرول کی قلت پیدا کر کے حکومت پر دباو پیدا کیا اور پٹرول مہنگا کرنے کا جواز فراہم کیا۔ بادی النظر میں یہ پرائیویٹ پٹرولیم کمپنیوں کے مافیا اور حکومت کے کرپٹ عناصر کی ملی بھگت نظر آتی ہے جنہوں نے ایک دوسرے کو سہارے او ر جواز فراہم کئے ۔ مزید کہنے دیجئے کہ اگر یہ واقعی عالمی منڈی میں قیمتوں کا ردعمل ہے تواس کے لئے ریاستی سطح پر قائم ادارے اوگرا کی سمری کا انتظار کیوں نہیں کیا گیا اور اس موقعے پر قیمتوں کی ڈی ریگولرائزیشن کا فیصلہ کیا جواز رکھتا ہے حالانکہ اس سے قبل یہ کہا جارہاتھا کہ اوگرا عالمی منڈی کے نرخوں کے تناظر میں پٹرول مزید سات روپے سستا کرنے کی سفارش کرنے جا رہی ہے۔ اس کی صرف ایک وضاحت ہے کہ حکومت پٹرول مافیا کے سامنے صرف جھکی نہیں بلکہ لیٹ گئی اور وہ بھی چاروں شانے چت ہو کر، اُلٹی، بالکل اسی طرح جیسے وہ چینی مافیا کے سامنے لیٹی اور پھر آٹا مافیا کے سامنے۔ چینی اورآٹا ایک دوسرے سے مختلف کیس سٹڈیز ہیں مگردونوں کے نتائج یکساں ہیں۔ چینی پر بہت بڑھکیں ماری گئیں کہ کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا مگر جہانگیر ترین اور علی ترین بھی نکل گئے اور چینی کی قیمت بھی دوبارہ پچپن روپوں پر نہیں آئی۔ آٹے پر تو نہ بڑھکیں ماری گئیں اور نہ دعوے کئے گے۔ جب یہ پریس ریلیزیں جاری کی جارہی تھیں کہ پنجاب میں اس مرتبہ گندم کی ماضی کی نسبت مقدار میں سب سے زیادہ اور سب سے شفاف خریداری ہوئی ہے تو آٹے کا بیس کلو کا تھیلا آٹھ سو پانچ روپوں سے ایک ہزار تیس روپے کا ہو گیا۔

دوسری دلیل امریکا، چین، بھارت اور بنگلہ دیش سمیت دیگر ممالک کی دی جا رہی ہے کہ اگر وہاں پاکستانی روپوں میں دیکھا جائے تو پٹرول ہم سے مہنگا ہے اور کئی جگہوں پر ڈیڑھ سے پونے دو سو روپے لٹر تک ہے۔ اگر آپ اکنامکس اور ریاٰضی میں بالکل کورے ہیں تو آپ کے لئے یہ ایک اچھی دلیل ہے لیکن اس تکنیکی موازنے کا رتی برابر بھی علم اور فہم رکھتے ہیں تو سب سے بودی دلیل ہے۔مہنگائی کا تعلق کبھی کسی شے کی قیمت کے ساتھ نہیں ہوتا بلکہ قوت خرید کے ساتھ ہوتا ہے۔ اب اگر آپ امریکا، چین، بھارت اوربنگلہ دیش کی جی ڈی پی، گروتھ ریٹ، فی کس آمدنی اور افراط زر کے چار بنیادی عناصر کو باہر نکال کر موازنہ کریں گے تو کبھی حقیقت تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ اس کی سادہ سی مثال یہ ہے کہ آپ کے پاس اگر ایک کروڑ روپے ہیں تو بیس لاکھ روپے کی گاڑی بھی آپ کے لئے سستی ہے لیکن اگر آپ کے پاس ایک لاکھ روپیہ ہے تو پانچ لاکھ کی گاڑی بھی آپ کے لئے مہنگی ہے، کیا سمجھے، نہیںسمجھے، تو سمجھو، ایک لکھ پتی آدمی کو بھوک لگتی ہے تو اس کے لئے کسی بھی بیکری کا ڈیڑھ سو روپے کا پیزے کا پیس بھی سستا ہے مگر ایک مزدور جس کی دیہاڑی نہیں لگی تو اس کے لئے تندور سے ملنے والی پندرہ روپے کی روٹی بھی مہنگی ہے حالانکہ وہ پیزا کے ٹکڑے سے دس گنا سستی ہے اور یہی صورتحال پٹرول کے ساتھ ہے۔

اب المیہ یہ ہے کہ جب پٹرول سستا ہوا تو حکومت باقی تمام اشیا کی قیمتیں کم کروانے میں ناکام رہی جن میںپبلک ٹرانسپورٹ کے کرائے بھی تھے لیکن جب قوی امکان ہے کہ اس قیمت میں مزید اضافہ ہو گا تو حکومت باقی اشیا پر اس کے اثرات کو نہیں روک سکے گی جس کی وجہ سے مہنگائی مزید بڑھے گی جو پہلے ہی خطے میں سب سے زیادہ ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے اس برس سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں دیا جبکہ لاک ڈاون کی وجہ سے پرائیویٹ اداروں نے تنخواہوں میں کٹوتیاں کی ہیں اور ایسے میں بڑھتی ہوئی مہنگائی ایک بڑے معاشی اور انسانی بحران کو جنم دینے جا رہی ہے جس میں حکومت نے بھی پٹرول کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے کے ذریعے اپنا بڑاحصہ ڈال لیا ہے جبکہ اس سے پہلے نااہلی اور بدعنوانی کی وجہ سے منفی گروتھ ریٹ کی ذمہ دار بھی حکومت ہے۔

ہاں، یہ درست ہے کہ حکومت کورونا آنے کے بعد پٹرول کی قیمتیں 116 روپوں سے کم کرکے 74 روپوں تک لے کر گئی مگر دوسری طرف یہ بات بھی درست ہے کہ حکومت نے اپنی جیب سے تو پیسے نہیں دئیے بلکہ کوئی بھی حکمران اپنی جیب سے نہیںدیتا، ایک موقعے پر پٹرول تقریبا مفت ہو گیا اوروہاں حکومت نے بے رحمی کے ساتھ ( فیصد میں) کمائی کے نئے ریکارڈ قائم کےے۔ماضی مٰیں دیکھا جائے تو2011 سے 2014کے درمیان تیل کی قیمتیں نوے ڈالر فی بیرل سے زائد رہیں اور اگر خدانخواستہ یہی قیمتیں دوبارہ ہوئیں تو کیا ڈالرکے موجودہ ایکسچینج ریٹ اور پٹرول کے فی لیٹر نرخ کوسامنے رکھتے ہوئے ڈر ہے کہ یہاں پٹرول اڑھائی سو روپے لیٹر ہوجائے گا کیونکہ حکومت بیچ میں سے بطور ریگولیٹر نکل گئی ہے۔ مجھے پٹرول جیسی اہم شے کی قیمت سے حکومت کا باہر نکلنا یوں لگتا ہے جیسے شہریوں کو عالمی طاقتوں کے سامنے کھلا پھینک دیا گیا ہو اور جب حکومتیں یوں لاتعلق ہوجائیں تو پھر ذہن میں خدشات جنم لینے لگتے ہیں کہ کل کلاں بھارت نے پاکستان پر حملہ کردیا تو کیا اسے بھی حکومتی پالیسی کے مطابق ڈی ریگولیٹ کر دیا جائے گا اورکریڈٹ لیاجائے گا کہ یہ صرف بھارت نے حملہ کیا ہے ورنہ نیپال، بھوٹان ، بنگلہ دیش اور افغانستان بھی کر سکتے تھے مگر ہم نے اپنی کامیاب خارجہ پالیسی سے عوام کو اس حملے سے بچا لیا۔


ای پیپر