افغانستان۔ امریکی تاریخ کی طویل ترین جنگ
28 جون 2019 2019-06-28

افغان صدر اشرف غنی دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان سے واپس روانگی کے وقت خاصے پر عزم دکھائی دے رہے تھے مگر ان سفارتی مسکراہٹوں کے پیچھے کابل واپسی پر انہیں نہایت تلخ حقائق کا سامنا ہے جو چٹانوں سے زیادہ مضبوط اور امریکہ جیسی عالمی سپر پاور سے زیادہ مستحکم ہیں اور وہ ہیں طالبان جو گزشتہ 18 سال سے امریکہ کی تاریخ کی طویل ترین جنگ کے ممکنہ اختتام پر خود کو فاتح سمجھتے ہیں۔

اشرف غنی 25 ستمبر کو ہونے والے افغان صدارتی انتخابات میں دوسری مدت کے لیے امیدوار ہیں ان کے مقابل دیگر مضبوط امیدواروں میں عبد اللہ عبداللہ اور محمد حنیف عطمار کے نام قابل ذکر ہیں لیکن امریکہ چونکہ حامد کرزئی کی طرح اشرف غنی کو ایک موقع اور دینے کا فیصلہ کر چکا ہے لہٰذا غالب امکان یہی ہے کہ یہ الیکشن وہی جیتیں گے ان کی مدت صدارت مارچ میں ختم ہو چکی ہے مگر انہوں نے افغان سپریم کورٹ سے حکم امتناعی لے رکھا ہے کہ اگلے الیکشن تک نگران حکومت کی بجائے وہی صدر رہیں گے مگر ان کا اصل امتحان اس وقت شروع ہو گا جب امریکہ طالبان کے حالیہ مذاکرات کے نتیجے میں 20 ہزار امریکی اور نیٹو افواج افغانستان سے انخلاء کریں گے۔

اشرف غنی پاکستان آئے نہیں تھے بلکہ بھیجے گئے تھے اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان نے افغانستان کے معاملے میں سفارتی طور پر اپنا وزن بر قرار نہیں رکھا بلکہ پہلے سے زیادہ بڑھا لیا ہے جس کی وجہ سے انڈیا سکتے کی حالت میں ہے۔ یہ سب جانتے ہیں کہ طالبان اور امریکہ کو مذاکرات کی میز پر بٹھانے والا پاکستان ہے اس وقت بھی طالبان وفد کی قیادت ملا عبد الغنی برادر کر رہے ہیں جنہیں پاکستان نے جیل سے رہا کیا تھا ۔ تاکہ افغان مسئلے کا حل ڈھونڈا جا سکے مُلاّ برادر طالبان کے بانیوں میں سے ایک ہیں جو ملا عمر کے ساتھی تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انڈیا کے صحافتی اور سفارتی تجزیہ نگار لکھ رہے ہیں کہ ہندوستان نے اتنے سالوں میں جو افغانستان میں بھارتی سرمایہ کاری کی تھی وہ سب ڈوبتی نظر آتی ہے کیونکہ افغانستان میں طالبان اثرو رسوخ بڑھنے کا مطلب صاف ہے کہ انڈیا کی چھٹی ہو گئی ہے۔ انڈیا اس سارے مذاکراتی عمل میں خاموش تماشائی ہے اور امریکہ کے ذریعے اتنی یقین دہانی چاہتا ہے کہ افغانستان کے مسئلہ کے حل کو کشمیر کے ساتھ کسی طرح نہ جوڑا جائے۔

یاد رہے کہ اگر مذاکرات کا میاب ہو جاتے ہیں تو یہ انڈیا کے لیے دھچکا ہو گا کیونکہ افغانستان سے چلایا جانے والا انڈین جاسوسی نیٹ ورک بند ہو جائے گا جو بلوچستان میں دہشت گردی اور پراکسی وار کا ذمہ دار ہے ۔ اس سے پاکستان میں دہشت گردی کا خاتمہ ہو گا۔ 26 فروری کو پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر پاکستان نے انڈین فلائیٹس کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے سے روک دیا تھا جس کے بعد دہلی سے کابل کا روٹ ایران کے راستے سے چل رہا تھا مگر انڈیا کی بد قسمتی ہے کہ جس دن ایران نے امریکہ کا ڈرون بتاہ کیا ہے ایران نے بھی اپنی ایئر سپیس بند کر رکھی ہے جس کی وجہ سے انڈیا کو اب کرغیزستان اور سنٹرل ایشیائی ممالک سے گزرنا پڑتا ہے اور 2 گھنٹے کی فلائٹ کا دورانیہ اب 6 گھنٹے ہو چکا ہے۔ ان حالات میں را افغانستان میں کیسے کام کر سکتی ہے۔

امریکی سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو نے اشرف غنی کے دورہ پاکستان سے 2 دن پہلے کابل کا غیر اعلانیہ دورہ کیا اور صدر غنی کو پاکستان جانے کا کہہ کر خود انڈیا چلے گئے۔ اس سے پہلے افغانستان کے تمام سیاسی دھڑوں کے نمائندوں نے بھوربن میں ’’لاہور پراسیس‘‘ کے نام سے ایک اجلاس میں شرکت کی جس میں گلبدین حکمتیار بھی آئے ہوئے تھے ان مذاکرات کا مقصد یہ ہے کہ سب کو ڈائیلاگ میں شریک کیا جائے تاکہ پائیدار امن کی راہ تلاش کی جا سکے۔ مذاکرات کا یہ سارا سلسلہ اب قطر میں امریکہ اور طالبان کے درمیان حتمی مذاکرات پر منتج ہو رہا ہے امریکہ کا خیال ہے کہ یہ سارا عمل ستمبر تک مکمل ہو جائے گا یہ وہی وقت ہو گا جب افغانستان میں صدارتی انتخابات ہونے ہیں۔

اشرف غنی اور وزیر اعظم عمران خان کے درمیان دو طرفہ تعلقات دہشت گردی تجارت کے فروغ افغان مہاجرین کی واپسی اور معلومات کے تبادلے اور دیگر معاملات پر بات چیت ہوئی کہا جا رہا ہے کہ افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے جو جون کے آخر تک کی شرط تھی اس میں اگلے سال تک توسیع کی جا رہی ہے یہ افغانستان کی درخواست پر کیا گیا ہے۔ پاکستان میں ایک موقع پر 40 لاکھ سے زیادہ افغان پناہ گزین تھے جو ہماری ملکی معیشت پر بہت بڑا بوجھ تھا۔

طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا 2 پوائنٹ ایجنڈا تھا طالبان کہتے تھے کہ امریکی اور غیر ملکی فوجیں افغانستان چھوڑ دیں امریکہ کا مطالبہ یہ تھ کہ طالبان ہمیں یہ گارنٹی فراہم کریں کہ افغان سر زمین میں دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہو گی تو ہم انخلاء کے لیے تیار ہیں ان دونوں باتوں پر فریقین میں اتفاق ہو چکا ہے البتہ طالبان انخلاء کی تاریخ مانگتے ہیں جبکہ امریکہ کچھ مہلت مانگ رہا ہے ۔ اس کی اندرونی وجہ یہ ہے کہ 2020 ء امریکہ میں الیکشن کا سال ہے اور ڈونالڈ ٹرمپ کی کوشش ہے کہ کسی طرح یہ سال پورا ہو جائے تاکہ وہ امریکی عوام کو الیکشن میں یہ باور کرا سکیں کہ انہوں نے اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے کہ امریکہ کو دوسرے ممالک میں جا کر بے مقصد جنگوں میں نہیں الجھنا چاہیے۔ ویسے ہر امریکی صدر اسی نعرے پر آتا ہے کہ ایک دفعہ فوج واپس بلا کر دوسری مدت کے لیے منتخب ہو تا ہی پھر سے کسی نئے محاذ جنگ کا تعین کر لیا جاتا ہے باراک اوبامہ نے بھی یہی کیا تھا۔

یہ ایک ناقابل فراموش حقیقت ہے کہ 18 سال تک امریکہ نے افغانستان میں جنگ کرنے کے بعد منہ کی کھائی ہے وہ طالبان کو ختم کرنے آئے تھے مگر اب انہی طالبان کے ساتھ مذاکرات کر کے نکل رہے ہیں۔ طالبان مذاکرات میں انخلاء کی تاریخ اس لیے بھی چاہتے ہیں تاکہ افغان عوام کو بتا سکیں کہ جیت ان کی ہوئی ہے۔ یہ دلچسپ امر ہے کہ امریکہ اور برطانیہ کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں کے پڑھے ہوئے امریکی مذاکرات کار جب طالبان کے سامنے بیٹھتے ہیں تو جنگلوں اور پہاڑوں میں رہنے والے طالبان مذاکرات کاروں کا طرز مکالمت امریکیوں کو بے بس کر دیتا ہے۔ افغانستان میں 18 سال کے امریکی قیام کے با وجود آج تک پورا افغانستان تو کیا امریکی صرف کابل کو بھی فول پروف سکیورٹی نہیں دے سکے طالبان جب اور جہاں چاہتے ہیں کارروائی کرتے ہیں۔ اس وقت بھی طالبان ملک کے 50 فیصد حصے پر قابض ہیں اور اپنے زیر قبضہ علاقوں میں عوام کا تحفظ اور تنازعات کے فیصلے کرتے ہیں اور عوام سے ان کی آمدنی فصل یا کاروبار پر 10 فیصد ٹیکس وصول کرتے ہیں اس پیسے سے وہ اپنے سکیورٹی اخراجات چلاتے ہیں۔

افغانستان ایک دفعہ پھر نیا افغانستان بننے جا رہا ہے مگر جو حالات نظر آ رہے ہیں وہ یہی ہیں کہ امریکی انخلاء اگر ہوا تو اس کے بعد افغانستان ایک بار پھر 1996 ء کی طرح طالبان کے زیر اقتدار آ جائے گا اور اس صورت میں امریکہ کے ساتھ ان کا معاہدہ تادیر نہیں چل سکے گا۔ افغانستان کی تاریخ یہی بتاتی ہے ۔ پھر اگر وہاں دوبارہ شمالی اتحاد حکومت کے دور جیسی خانہ جنگی شروع ہو گئی تو ہو سکتا ہے کہ امریکہ دوبارہ واپس آ جائے یا اپنے قیام میں توسیع کے لیے کوئی اور حربہ استعمال کرے یہ سارا منظر نامہ 2020 کی امریکی صدارتی انتخاب کی مہم سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔

پاکستان کے لیے خوشی کی خبر یہ ہے کہ اس نے پاک افغان سرحد پر 900 کلو میٹر باڑ مکمل کر لی ہے افغانیوں کے لیے پاکستان آنے کے لیے ویزا سسٹم عملاً نافذ کر دیا گیا ہے سرحد پر 800 سے زیادہ چوکیاں تعمیر کرنے کا کام جاری ہے۔ کسی بھی طرح کی در اندازی اب آسان نہیں ہے ۔ افغانستان میں قیام ِ امن سے پاکستان کو بہت فائدہ ہو گا اور ہمارا مغربی بارڈر محفوظ ہو جائے گا۔


ای پیپر