انقلابِ فرانس کے دوران بادشاہ کے گودام سے خواتین نے آٹا نکلوا لیا!
28 جون 2019 2019-06-28

انقلابِ فرانس کے دوران اکتوبر 1789ء کے واقعہ کی تحقیقات کے لیے قائم ہونے والے ’’پیرس کمیشن‘‘ کے سامنے پیپلز نیشنل گارڈ کے کمانڈر سٹینس لاس میلارڈ پیش ہوکر آنکھوں دیکھا حال بتاتا ہے۔ وہ سہما ہوا ہے اور اس کی آنکھیں ناقابلِ یقین واقعات کے خوف سے پھیلی ہوئی ہیں۔ وہ اپنا بیان شروع کرتا ہے۔ ’’پانچ اکتوبر 1789ء کو صبح سات بجے دو ہزار خواتین پیرس کے مرکز میں واقع ٹائون ہال میں دروازے توڑ کر داخل ہوئیں۔ وہ آٹے کی قیمت میں اضافے اور اس کی عدم دستیابی پر آگ بگولہ ہو رہی تھیں۔ انہوں نے انتظامی امور اپنے ہاتھ میں لے لیے، اسلحے، توپ خانے اور اناج کے گودام پر قبضہ کرلیا، سرکاری فائلیں اور کاغذات اٹھا اٹھا کر باہر پھینکنے لگیں۔ وہ ان کاغذات کو آگ لگانا چاہتی تھیں کیونکہ ان کے خیال میں انقلاب شروع ہونے سے اب تک محض فائلوں پر ہی کام ہوا تھا۔ وہ چیخ چیخ کر کہہ رہی تھیں کہ اگر کوئی ہمارے دشمنوں سے بدلہ لینے کے قابل نہیں تو پھر یہ کام ہم خود کریں گی۔ ان میں سے دو خواتین آگ کی مشعلیں اٹھا کر مجھ پر لپکیں۔ وہ مجھے زبردستی بارود کا دروازہ کھولنے پر مجبور کر رہی تھیں تاکہ بندوقوں اور توپ خانے کے لیے گولہ بارود حاصل کیا جاسکے۔ میں بمشکل جان بچا کر بھاگا‘‘۔ وکٹورین عہد کے سکاٹش مؤرخ تھامس کارلائل اس بارے میں لکھتے ہیں کہ ’’1789ء میں فرانسیسی مفلسی اور بھوک کا شکار تھے۔ آٹے کی قیمت آسمان سے باتیں کر رہی تھی، عوام قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے تھے، اُن پر ناجائز ٹیکس لگائے جا رہے تھے، بادشاہ کے دربار کے خفیہ اور ظاہری بے پناہ اخراجات، جاگیردارانہ نظام اور کیتھولک چرچ کا غیرلچکدارانہ رویہ شہریوں میں مایوسی اور غصے کے جذبات ابھار رہا تھا۔ پھر نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ جولائی سے اکتوبر 1789ء تک لوگوں کو ناشتے کے لیے ڈبل روٹی بھی نہ مل سکی۔ تب 5اکتوبر کی صبح ہوتے ہی پیرس کی گلیوں میں ایک نوجوان لڑکی ڈھول بجاتے ہوئے مجمع کے آگے آگے چل رہی تھی اور اونچی آواز میں پکارتی جا رہی تھی ’’باہر آئو مائوں، باہر آئو بہنو، باہر آئو لڑکیوں، خوراک کے لیے اور انتقام کے لیے‘‘۔ اس کی آواز سن کر خواتین اکٹھی ہو رہی تھیں۔ ہرگھر کی سیڑھیوں سے اترتی خواتین ایسے لگ رہی تھیں جیسے برف پہاڑوں سے پگھل کر نیچے آرہی ہو۔ چھوٹا مجمع بڑے سیلاب میں تبدیل ہوچکا تھا مگر پھر بھی پیرس کی ہرگلی، ہر کوچے سے وہ بہت تعداد میں چلی آرہی تھیں۔ ان میں جھاڑو دینے والیاں، مچھلی بیچنے والیاں، دکاندار، دفتروں میں کام کرنے والی خواتین ، فیشن ایبل امراء کی بیگمات، سب شامل تھیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے ان کی تعداد سات ہزار تک جاپہنچی اور انہوں نے پیرس کے ٹائون ہال پرقبضہ کرلیا۔ وہ اسے آگ لگانا چاہتی تھیں۔ پھر کچھ سوچ کر انہوں نے اپنا رخ اسمبلی ہال کی طرف موڑ دیا۔ اس جم غفیر میں سے صرف 15 خواتین کو ارکانِ اسمبلی سے ملنے کی اجازت دی گئی۔ اپنے مطالبات پیش کرتے ہوئے وہ بولیں کہ ’’ہمیں آٹا اور بادشاہ سے ملاقات کا وقت چاہیے‘‘۔ کئی گھنٹوں کے مذاکرات کے بعد سرخ فیتے نے صرف چار خواتین کو عالی جاہ سے ملنے کا پرمٹ جاری کیا۔ جس کے بعد اگلی صبح تک ایک شاہی فرمان جاری ہوا جس میں آٹے کی بلا روک ٹوک فوری سپلائی کا حکم دیا گیا تھا لیکن خواتین نے اس بادشاہی مہربانی کو قبول کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ ہمیں اس آرڈر اور آٹے کی سپلائی کنٹرول کرنے والے حکام پر کوئی اعتماد نہیں ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ بادشاہ اناج لے کر خود عوام تک پہنچے۔ اس مطالبے کو منوانے کے لیے ہزاروں خواتین دو دن تک محل کے احاطوں میں موجود رہیں۔ شاہی عمارت کی سیڑھیاں، باغیچے، دالان، اصطبل، برآمدے، سب کے سب خواتین سے بھرے رہے۔ اب اُن کے احتجاج میں تقریباً بیس ہزار مردبھی شامل ہوچکے تھے۔ ایک دن اور بیت گیا۔ پھر انقلابِ فرانس کا مشہور کردار بادشاہ لوئی16 خواتین کے عزم کے آگے مجبور ہوگیا۔ خواتین پیرس کی گلیوں میں ناچتی جارہی تھیں اور اناج کے بڑے بڑے چھکڑوں کے ساتھ شاہی بگھی کی طرف اشارہ کرکے کہتی جارہی تھیں ’’دیکھو ہم صرف آٹا ہی نہیں لائے بلکہ آٹے کو کنٹرول کرنے والوں کو بھی ساتھ لے آئے ہیں‘‘۔ انقلابِ فرانس کے دوران آٹے کی قلت پر تبصرہ کرتے ہوئے ممتاز تاریخ دان اولوِن ہفٹن لکھتا ہے کہ ’’اپنا حق لینے کے لیے فرانس کے لوگ کامیاب ہوئے لیکن اس فتح کا تمام تر کریڈٹ فرانسیسی خواتین کو جاتا ہے‘‘۔ تقریباً اڑھائی صدیاں قبل پیرس میں آٹے کابحران اور 2019ء میں ہمارے ہاں پاکستان میں آٹے کی قیمت میں شدید اضافہ یا اسی طرح روزمرہ ضروری اشیاء کی مہنگائی کے مسائل وغیرہ وغیرہ، اِن سب کا شکار صرف اور صرف عوام ہوتے ہیں۔ وہ عوام جن کے لیے حکومت قائم ہوتی ہے اور پالیسیاں بنائی جاتی ہیں۔ حکومت دراصل شہریوں اور ریاست کے درمیان ایک معاہدے کا نام ہوتا ہے۔ اگر یہ معاہدہ کمزور ہو جائے یا کارآمد نہ رہے تو فیصلہ شہریوں کو کرنا ہوتا ہے جن کے پاس دو راستے ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اپنے بنیادی اختیارو حقوق سے حکومت کے سامنے دستبردار ہو جائیں اور پھر سڑتے کڑھتے رہیں یا پھر ہرقسم کے خوف سے بالاتر ہوکر اپنا فیصلہ خود کریں اور اپنا حق قانونی و آئینی طریقے سے حاصل کریں۔ پہلی صورت میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ’’بھکاریوں کی اپنی کوئی مرضی نہیں ہوتی‘‘ یا پھر دوسری صورت کے فیصلہ کن لوگوں کے بارے میں ہی کہا گیا ہے کہ:

کوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیں

ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں


ای پیپر