جو اللہ کی نہیں مانتا… اللہ اس کی نہیں مانتا
28 جون 2019 2019-06-28

نیا بجٹ آتے ہی ہرطرف آہ وبکا مچ گئی ہے،ہرطرف پریشان کن اور مایوسی کی صورتحال نظر آرہی ہے۔میں شام کی سیر کرنے پارک میں گئی تو میری سہیلی اپنے گھر کا قصہ سنانے لگی کہ ان کے ابا جان سرکاری ملازم ہیں اور انہیں نئی حکومت سے بڑی امیدیں تھیں،مگر تنخواہوں میں معمولی اضافے اور نئے ٹیکسوں نے ان کی تمام امیدوں پر پانی پھیردیا۔وہیں پارک میں کچھ اور لوگ بھی تھے ہر کوئی مہنگائی کا رونا رو رہا تھا کہ اس بجٹ کے بعد ہمارا جینا دوبھر ہوجائے گا اورعزت کے ساتھ دو وقت کی روٹی کھانا بھی نا ممکن ہوجائیگا۔واپسی پر استاد جی سے ملاقات ہوگئی۔میں نے سوچا ان کی رائے بھی پوچھ لوں۔میں نے سلام کیا توحسب معمول انہوں نے نہایت شفقت سے جواب دیا ساتھ ہی میں نے سوال کردیا استاد جی یہ نیا بجٹ آتے ہر بندہ پریشان ہوگیا ہے آخر کیا وجہ ہے اس کی ؟

استاد جی نے گہری سانس لی اورکہنے لگے بچہ جی!

جو اللہ کی نہیں مانتا اللہ اس کی نہیں مانتا

پھر کہنے لگے جب ہم اللہ کے قانون کو چیلنج کر دیتے ہیں نا تو پھراللہ بھی ہمیں چھوڑ دیتا ہے۔

بیٹا یاد رکھنا!

سود ایک ایسی لعنت ہے جو انسان کو پستیوں میں گرا دیتی ہے اور اپنے پائوں پر کبھی کھڑا نہیں ہونے دیتی۔

یہ اللہ کا حکم ہے کہ سود لینے والا اور دینے والا دونوں ہی جہنمی ہیں۔

آہ نہیں سنتاکوئی، نہیں دیکھتا کوئی، نہیں سمجھتا کوئی، نہیں مانتا کوئی، نہیں مانتا کوئی، نہیں مانتا کوئی۔

کاش کہ کوئی میرے رب کا یہ فلسفہ سمجھ جائے۔

شائد یہ سن کر کوئی سنبھل جائے

بچہ کبھی کسی سے سود نہ لینا نہ دینا

ورنہ تم کسی کام کے نہیں رہو گے ،کسی کام کے نہیں رہو گے۔

یاد رکھنا سود سے ہر چیز سے برکتیںاٹھ جاتی ہیں

سود کسی چیزکو پائوں پہ کھڑا نہیں ہونے دیتا

سود وہ بھٹی ہے جس میں ڈل کر مٹی سونا نہیں بنتی بلکہ راکھ بن جاتی ہے۔

استاد جی اداس لہجے میں اپنی راہ ہولیے اور میں سوچ میں گم ان کی باتوں کی گہرائیوں میں ڈوبی گھر لوٹ آئی۔

جس بات پہ دھیان جاتا جس چیز پہ غور کرتی جس کاروبار پر نظر ڈالتی وہاں سود کا بسیرا نظر آتا اورساتھ ہی ساتھ نفسا نفسی ،حالات اور کردار کی گراوٹ کی انتہا نظر آتی۔

آج اگر ہم اپنے بجٹ پر اور ملکی معیشت پر نظر دوڑائیں

تو اتنا تو قرضہ نہیں لیا کہ جتنا ہم سود ادا کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہم سودی نظام میں پھنس گئے ہیں یہ ایک ایسی دلدل ہے جس سے باہر نکلنا اب تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ اگر روپے کی قیمت دیکھیں تو وہ ڈالر کے مقابلے میں تاریخ کی بدترین سطح تک گر چکی ہے۔ کیا وجہ ہے؟

کیونکہ ہم نے اللہ کی نہیں مانی اس لیے اب اس سے نکلنا بہت مشکل ہے۔

اسی لیے آج ہر بندہ پریشان ہے،غریب تو غریب امیر اچھے بھلے کھاتے پیتے لوگ بھی رو رہے ہیں شریف توشریف ، بدمعاش بھی رو رہے ہیں۔

سب سے پہلے تو ہم دیکھتے ہیں کہ سود کے بارے میں قرآن کا کیا حکم ہے؟

اللہ تعالی کا فرمان ہے:''اے ایمان والو! االلہ سے ڈرو اور جو سود لوگوں کے پاس باقی رہ گیا ہے اگر ایمان والے ہو تو اسے چھوڑ دو، اگر تم نے ایسا نہیں کیا تو االلہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کے لیے خبر دار ہوجاو.... '' (البقرہ:275)

اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کی پرورش کرتا ہیـ۔(سورۃ البقرۃ)

اسی طرح اگر ہم حدیث کی رو سے دیکھیں تو

حضرت جابر رضی اللہ فرماتے ہیں کہ رسولؐ اللہ نے سود لینے والے، دینے والے، تحریر لکھنے والے اور گواہوں، سب پر لعنت کی اور فرمایا وہ سب (گناہ میں) برابر ہیں۔

(مسلم: کتاب البیوع، باب لعن آکل الربوا و مُوکِلہ)

یہاں پرایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ سود سے بڑے بھی کئی گناہ ہیں جیسے شرک، قتل ناحق اور زنا وغیرہ لیکن اللہ اور اس کے رسولؐ نے جتنی ممانعت سود کی کی ہے وہ کسی اور گناہ کی نہیں آخر اس کی کیا وجہ ہے؟

جواب یہ ہے کہ سود اسلامی تعلیمات سے براہِ راست متصادم ہے اور یہ انسان کے معاشرتی اورمعاشی نظام پر حملہ کرتا ہے۔ اسلام ہمیں مروّت، ہمدردی اور ایثار کا سبق سکھلاتا ہے جبکہ سود بخل، حرص،ہوس اور زرپرستی پیدا کرتا ہے۔ یہ اسلامی بھائی چارے اور اخوت کا دشمن ہے۔سود اسلامی سنہرے معاشی نظام کے منافی ہے جو کہتا ہے کہ دولت گردش میں رہے اور اس کا بہائو امیر سے غریب کی طرف ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کے نظامِ زکوٰۃ و صدقات کو فرض کیا گیا ہے جبکہ سودی نظام میں دولت کا بہائو ہمیشہ غریب سے امیر کی طرف ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے سود اسلام کے پورے معاشی نظام کی ضد ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہماری دولت پورے ملک کے چند خاندانوں میں سمٹ کر رہ گئی ہے۔

آج جب میں موجودہ دور کو دیکھتی ہوں تو عین نبی پاک کی اس حدیث کے مصداق نظر آتا ہے کہ

ـَ''لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا جب ہرکوئی سود کھانے والا ہوگا۔ اگر سود نہ کھائے تو بھی اس کا بخار (اور ایک دوسری روایت کے مطابق) اس کا غبار اسے ضرور پہنچ کے رہے گا''

(نسائی: کتاب البیوع، باب اجتناب الشبہات فی الکسب)

اور آج کا دور بالکل ایسا ہی ہے۔ معاشرے کی رگ رگ میں بھی سود کچھ اس طرح سرایت کر گیا ہے کہ ناچاہتے ہوئے بھی ہر کوئی اس سے متاثرہو رہا ہے۔افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اگر کوئی اس چنگل سے بچنا بھی چاہے تو بھی اسکے لیے ہر موڑ پر دشواری ہے۔تاہم اگر کوئی شخص صدق دل سے سود سے بچنے کا ارادہ کرلے تو وہ اس میں کامیاب ہوسکتا ہے اگر لالچ اور ہوس کا پجاری نہ ہو تو!

بظاہریہ لگتا ہے کہ سود سے مال بڑھتا ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے کیونکہ:

جس معاشرہ میں سود کا رواج ہوگا، اس میں برکت نہیں رہے گی،وہ بالآخر کنگال ہوجائے گا۔ غریب طبقہ کی تعداد دن بدن بڑھتی جائے گی اور وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے کچھ بھی کر گزرے گا اور حلال حرام کی تمیز بھی کھو دے گا۔

لب لباب یہ ہے کہ ہماری موجودہ حالت زار کا باعث یہی سودی نظام ہے جس کے خاتمے کے لیے آج تک کوئی اقدامات نہیں کیے گئے بلکہ ہر نئی حکومت نے پہلے کی پیروی کرتے ہوئے سودی نظام کو مزید مستحکم کیا ہے۔حال تو یہ ہے کہ پاکستان کی شریعت کورٹ نے سود بتدریج ختم کرنے کا حکم دے رکھاہے جبکہ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس وقت کی میاں نواز شریف کی گورنمنٹ نے اس کے خلاف سپریم کورٹ سے سٹے لے رکھا ہے اور معاملہ یہیں پر رکا ہوا ہے پھر ایسے حالات کیوں نہ پیدا ہوں جب ہم اللہ کے قانون کو چیلنج کر رہے ہیں۔

یاد رکھیں اسلامی نظامِ معیشت کے بنیادی اُصولوں میں ملک سے سود کا خاتمہ اور نظامِ زکوٰ ۃ و خیرات کی ترویج ہے۔ سود کے خاتمہ سے نظامِ سرمایہ داری کی جان خود نکل جائے گی جبکہ اسلامی نظام وراثت اورزکوٰۃ وصدقات کا نظام لاگوہوجانے پر طبقاتی تقسیم بھی ختم ہوجائے گی اورمعاشرہ خوشحالی کی طرف گامزن ہوجائے گا۔امید ہے وطن عزیزکو مدینہ کی ریاست بنانے کی دعویدار حکومت پہلی فرصت میں سود کے خاتمے کے لیے اقدامات کرے گی۔


ای پیپر