مشتاق یوسفی اور قصہ ایک پبلشر کا
28 جون 2019 2019-06-28

کہنے کو تو ہم اپنے آپ کو کتاب دوست کہلوانے میں فخر محسوس کرتے ہیں اور کتاب کلچر کے فروغ کے لئے وقتاً فوقتاً لکھتے بھی رہتے ہیں، احباب محبت سے ہمیں کتب بھی ارسال کرتے ہیں، لیکن ہم کالموں میں جگہ دینے سے قاصر رہتے ہیں۔ وجہ ایک یہ بھی ہے کہ اگر کالم محض کتب پر لکھنا شروع کریں تو وہ کالم سے زیادہ ”تبصرہ کتب“ بن جاتا ہے سو ہم سرسری ذکر کرتے ہیں ان دنوں بھی بہت سے احباب کی کتابیں ہمارے میز پر ہمیں گھورتی رہتی ہیں، ہم انہیں سرسری دیکھ بھی چکے ہیں مگر ان پر لکھنے سے قاصر ہیں، وقت ملتے ہی ان کا تذکرہ بھی ہو گا۔

حال ہی میں ہمدم دیرینہ ڈاکٹر اشفاق احمد ورک کی کتاب ”عالم میں انتخاب“ شائع ہوئی ہے تو انہوں نے کرم فرمائی کی کہ اس کا نسخہ خرید کر تحفتاً پیش کیا، ہم ممنون ہیں کہ انہوں نے ” مشتاق احمد یوسفی کی منتخب شگفتہ تحریریں“ ”عالم میں انتخاب“ میں شامل کی ہیں، یہ کتاب نیشنل بک فاﺅنڈیشن نے شائع کی ہے اور طاہر پبلشرز مصنف یا مرتب کوچند کتب ہی اعزازی طور پر دیتا ہے، اب مصنفین کا حلقہ احباب بے حد وسیع ہوتا ہے سب کو بیک وقت کتاب دی بھی نہیں جا سکتی سو دھیرے دھیرے یہ ”تحفہ“ احباب کی نذر کیا جاتا ہے، مجھ سمیت ”احباب“ کا حال یہ ہے کہ ہمیشہ دوسروں سے کتاب کی توقع رکھتے ہیں وہ بھی مفت ملنے کی.... اگر ہم کتابیں لکھنے والے اپنے ہررائٹر کی صرف ایک کتاب خرید کر پڑھنے کی عادت ڈالیں تو اس سے کوئی پبلشر یہ نہیں کہے گا کہ ”ادبی کتب“ زیادہ فروخت نہیں ہوتیں، حالانکہ پانچ سو یا تین سو تعداد میں شائع ہونے والی کتابیں سال سے قبل فروخت ہو جاتی ہیں، کتاب میلوں پر ہزاروں افراد کتابوں کے سٹالز سے کتابیں خریدتے دکھائی دیتے ہیں کہنا یہ مقصود ہے کہ ابھی کتاب اتنی بھی غیراہم نہیں ہوئی کہ پڑھنے والوں کی دسترس سے دور ہو۔

ہمارے پبلشرز حضرات بھی مصنفین سے اچھا سلوک نہیں کرتے اگرچہ کچھ اچھے اشاعتی ادارے بھی موجود ہیں مگر یہ تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے، ذاتی تجربہ ملاحظہ فرمائیں۔

ہمارا دوسرا غزلیہ شعری مجموعہ ”یہ آغاز محبت ہے“ اسلام آباد کے ایک دوست پبلشر نے آج سے کوئی بائیس برس قبل شائع کیا تھا، اسی پبلشرنے پنجابی شعری مجموعہ بھی ”اکھیاں دے وچ دل“ بھی شائع کیامگر اس کی رائیلٹی نہیں دی کہ پنجابی کتاب تو فروخت ہی نہیں ہوتی، بعد میں ہم نے اس پبلشر سے علیحدگی اختیار کر لی۔ اور ”یہ آغاز محبت ہے“ کا تیسرا ایڈیشن اردوبازار لاہور کے ایک پبلشر نے شائع کیا رائیلٹی دی، اور کتاب ختم ہو گئی۔ گویا اس نے بھی ایک ایڈیشن فروخت کر لیا لیکن اسلام آبادی پبلشر آج تک وہ کتاب فروخت کر رہا ہے، گویا اس پبلشر کی ملک بھر میں شاخیں ہونے کے باوجود وہ پانچ سو کتابیں ختم نہیں کر سکا۔ کیا بائیس برس میں کوئی کتاب فروخت نہیں کی جا سکتی؟؟ جبکہ لاہور میں اسی کتاب کا ایڈیشن تین ماہ میں ختم ہو گیا ہو، اس سے پبلشر کی نیت اور صلاحیت کا پتہ چلتا ہے، مزے کی بات ہے اگلے روز ہی ہماری 1996ءمیں شائع ہونے والی وہی کتاب ایک دوست نے پیش کی، ہم حیران پریشان کہ ”یہ آغاز محبت ہے“ ابھی تک پرانے ٹائٹل کے ساتھ فروخت ہو رہی ہے؟ لگتا ہے کہ دوست اشاعتی ادارے نے کتابوں کے بچے نکلوانے کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے، ورنہ اتنے بڑے نیٹ ورک کے باوجود بھی پانچ سو کتابیں ختم ہونے کا نام کیوں نہیں لیتیں؟ اللہ تعالیٰ ایسے پبلشر دوستوں سے دشمنوں کو بھی بچائے، ایسے پبلشر پرنٹنگ کمپوزنگ کاغذ سے لے کر بائینڈنگ تک کے لئے اجرت دیتے ہیں فقط رائیلٹی دینے میں مصنف سے بہانے بناتے ہیں۔

ان کی کوشش ہوتی ہے کہ کتاب لکھنے والے کو کچھ نہ دینا پڑے....ہم نے بھی اپنی وہ دو کتابیں ”راہ اللہ“ اسی پبلشر کو بخش دی ہیں کہ بائیس برس اور بھی وہ انہیں فروخت کرتا رہے اور حلال کھاتا رہے۔

حضرات گرامی! ذاتی معاملہ کچھ طول پکڑ گیا بات کتابوں کی ہو رہی تھی، ”عالم میں انتخاب“ میں مشتاق احمد یوسفی کی شگفتہ تحریریں یکجا کی گئی ہیں، اشفاق احمد ورک ایک فعال تخلیقی آدمی ہیں، مزاح، تنقید، تحقیق، شاعری ان کے پسندیدہ موضوعات ہیں، کچھ روز قبل ان کا سفر نامہ حجاز ”جو اماں ملی کہاں ملی“ بھی شائع ہوا ہے ہم انہیں مبارک دیتے ہیں کہ اہم کام مکمل کر لیا۔ اب چلتے چلتے مشتاق احمد یوسفی کے شگفتہ افکار بھی ملاحظہ فرمائیں اور اچھے لگیں تے یہ کتاب اپنی گھریلو لائبریری کی زینت بنائیں، کتابیں گھر کی زینت ہوتی ہیں جس گھر میں کتابیں نہیں اسے قبرستان سے کم کیا کہا جا سکتا ہے؟ مشتاق یوسفی فرماتے ہیں:

٭....جب روپیہ اور ڈاکٹر دونوں جواب دے دیں تو ہومیوپیتھی سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔

٭.... کتے کی تندرستی اور نسل اگر مالک سے بہتر ہو تو وہ آنکھیں ملا کر ڈانٹ بھی نہیں سکتا۔

٭.... بیوی کو پیرس ڈھو کر لے جانا ایسا ہی ہے جیسے کوئی ایورسٹ سر کرنے کے لئے نکلے اور تھرماس میں گھر سے برف کی ڈلی رکھ کر لے جائے۔

٭.... بھری جوانی میں بھی میاں بیوی ۶۲ کے ہندسے کی طرح ایک دوسرے سے منہ پھیرے رہے۔

٭.... برصغیر میں کوئی لڑکی آفس میں ٹک نہیں سکتی، لڑکی اگر نیک ہے تو خوفزدہ ہو کر بھاگ جاتی ہے نیک نہیں ہے تو کوئی بھگا کر لے جاتا ہے۔

٭.... مونگ پھلی اور آوارگی میں خرابی یہ ہے کہ آدمی ایک دفعہ شروع کردے تو سمجھ میں نہیں آتا کہ ختم کیسے کرے۔

٭.... سگریٹ ایک ایسا سلگنے والا بدبودار مادہ ہے جس کے ایک سرے پر آگ اور دوسرے پر احمق ہوتا ہے۔

٭.... جو شخص کبھی اپنے شہر کی برائی نہیں کرتا وہ یا تو غیرملکی جاسوس ہے یا میونسپلٹی کا بڑا افسر۔


ای پیپر