” اے پی سی کا اعلامیہ“
28 جون 2019 2019-06-28

آل پارٹیز کانفرنس کے نتیجے پر ایک خاتون اینکر سخت برہم ہیں، کہتی ہیں اپوزیشن نے اے پی سی کا شوق بھی پورا کر لیا، کھودا پہاڑ نکلا کیا؟ پہلے ہی کہا تھا اس اپوزیشن کے تلوں میں تیل نہیں ، انہوں نے اسے ’مذاق سیاست‘ کا نام دیا تو مجھے ان کے مو¿قف کی تشریح میں حضرت غالب یاد آگئے، فرما گئے ،’ بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا ، جو چیرا تو اک قطرہ خون نہ نکلا‘ مگر میرا موقف اس اے پی سی پر جناب جون ایلیا والا ہے، ’آسمانوں میں ہے خدا تنہا ، اور ہر آدمی سے خطرہ ہے ‘،’جون ہی تو ہے جون کے درپے، میر کو میر سے ہی خطرہ ہے‘اور حاصل کلام’ اب نہیں کوئی بات خطرے کی ، اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے‘۔

خبر پڑھیں:خاموشی کا فن

شاعری کو رہنے دیجئے، کرکٹ کا موسم ہے تو کرکٹ کی زبان میں ہی بات کر لیتے ہیں کہ خاتون اینکر کا خیال تھا کہ جس طرح مہنگائی کی وجہ سے خون رگوں میں ٹھوکریں مار رہا ہے، اے پی سی میں شامل دونوں بڑی جماعتوں کے لیڈروں کے باپ پابند سلاسل ہیں تو اب ٹی ٹوئنٹی ہی کھیلا جائے گا، کچھ چھکے ہوں گے اور کچھ چوکے اور جناب عمران خان کی حکومت کو آﺅٹ کر کے باہر کیا جائے گا مگر اے پی سی کا اعلامیہ بتاتا ہے کہ انہوں نے ٹیسٹ میچ کھیلنے کا فیصلہ کیا ہے، رہ گئے بے چارے عوام جن پر مہنگائی کے گرنے والے سکائی لیبوں پر پہلے رابطہ عوام مہم ہو گی اوراس کے بعد مشترکہ جلسے، عوام کی ترجمانی کے لئے دوبارہ استاد غالب سے رجوع کرتے ہیں، ’ آہ کو چاہئے ایک عمر اثر ہونے تک، کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک‘۔

آ ل پارٹیز کانفرنس کی دھماکہ خیز خبریہ ہے کہ جناب بلاول بھٹو زرداری موجودہ پارلیمنٹ کے محافظ کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی والدہ نے انہیں بتایا تھا کہ پارلیمنٹ اور حکومت دونوں مختلف چیزیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ پارلیمنٹ کو ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر آل پارٹیز کانفرنس میں شامل جماعتیں پارلیمنٹ کا خاتمہ چاہتی ہیں تو وہ چلے جاتے ہیں اور اپنی سیاست کرتے ہیں۔ مجھے نہیں علم کہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنے پیارے بیٹے بلاول کو یہ بات کب بتائی ہوگی کہ حکومت اور پارلیمنٹ الگ الگ چیزیں ہیں کیونکہ مجھے نوے کی دہائی میں ان کی سیاست اچھی طرح یاد ہے جب نواز شریف حکومت کے خاتمے کے لئے وہ پارلیمنٹ ہی کے خاتمے کا مطالبہ اورجدوجہد کیا کرتی تھیں اور پھر دو مرتبہ انہوں نے کامیابی بھی حاصل کی۔ پرویز مشرف کی طرف سے پارلیمنٹ کے خاتمے اور مارشل لاءکے نفاذ پر شروع، شروع میں پیپلزپارٹی بہت محتاط رہی تھی، بہرحال، عمران خان کو مبارکباد کہ انہیں بلاول زرداری کی صورت اپنی پارلیمنٹ کو ایک محافظ مل گیا ہے۔

مجھے آل پارٹیز کانفرنس اپنی تصویروں میں سنجیدہ نہیں لگی، مریم نواز کا استقبال کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کی تصویریں غلط معنی میں پیش کی جا رہی ہیں، ایک قومی جماعت کے چئیرمین کو اپنے انداز واطوار میں متانت اور سنجیدگی لانی ہو گی کہ وہ اس سے پہلے بھی شیخ رشید کو جواب دیتے ہوئے شیخ رشید بن چکے ہیں۔ پیپلزپارٹی کو چاہئے کہ وہ اپنے لیڈر کو شیخ رشید بننے سے روکے۔ بلاول بھٹو نے جناب عمران خان کی طرف سے صحابہؓ کی مبینہ توہین کے معاملے پر بھی کہا کہ وہ مذہب کوسیاست میں نہیں لانا چاہتے ۔ اس پر بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان کچھ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا یعنی اس کامطلب یہ ہوا کہ مذہب کو یتیم چھوڑ دیا جائے، جو بھی اس کے ساتھ جو سلوک کرنا چاہے کرے، پاکستان کو ایک سیکولر ریاست ڈیکلئیر کر دیا جائے؟

ابھی کچھ ہی روز قبل جناب اعتزاز احسن نے کہا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری شریف خاندان پر اعتماد نہ کریں کہ انہیں جس روز اشارہ ملا وہ چلے جائیں گے ۔ یہ خطرہ صرف پیپلزپارٹی کو نواز لیگ سے نہیں ہے بلکہ نواز لیگ کو بھی پیپلزپارٹی سے ہے اور کافی حد تک مولانا فضل الرحمان سے بھی ہے۔ اس حمام میں سب ننگے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان اور آصف علی زرداری ہی اس دور کی سب سے بڑی سازش کے پہلے مہرے اور پہلی کڑی ہیں۔ آج ہم جہاںکھڑے ہیں وہاں لانے کے لئے اصل سفر دھرنوں سے نہیں شروع ہوا تھا کہ دھرنے تو اپنے مقاصد میں ناکام ہو گئے تھے۔ اصل سفر بلوچستان اسمبلی سے شروع ہوا تھا جہاں سے مسلم لیگ نون کے وفاداروں کو راتوں رات باغی بنایا گیا تھا اور اس ’ سیاہ ست‘ میں زرداری اورمولانا دونوں شریک تھے، اس سازش کو آگے لے جاتے ہوئے سینیٹ کے انتخابات میں جب ایک اجنبی کو چئیرمین بنا دیا گیا تھا تو اس پر بھی ایک زرداری سب پر بھاری کے نعرے لگے تھے ۔ ابھی چند روز قبل آصف علی زرداری ایوان میں فرما رہے تھے کہ ماضی کا حساب کتاب بند کر دیا جائے اور آگے چلا جائے اور مجھے یقین ہے کہ یہ اسی لے اور تال میں غزل سرا ہوئے تھے جس سر اور تال میں جناب شہباز شریف نے میثاق معیشت کا انترا اٹھایا تھا۔

مولانا فضل الرحمان نے طاقتوروں کے پاﺅں دابے کہ انہیں نوازا جائے گا مگرانہیں قومی اسمبلی کی رکنیت نہیں دی گئی، جب قومی اسمبلی کی رکنیت نہیں ملی تو تہتر کے آئین کے تناظر میں ہمیشہ ملنے والی کشمیر کمیٹی کی سربراہی بھی گئی لہذا اب مولانا سخت غصے میں ہیں جبکہ دوسری طرف کا موقف سیدھا سادا ہے کہ تم نے ہمارے پاﺅں دابے اور ہم نے تمہاری مزدوری دابی، حساب برابر۔ مولانا کی برہمی کے برعکس جہاں آصف علی زرداری ان اینٹوں کو چُن کر راستہ بنانے میں مصروف ہیں جنہیں انہوں نے ایک دوسرے سے بجانے کے لئے جمع کیا تھا وہاں شہباز شریف بھی مصر ہیں کہ وہ ایڑھیاں رگڑتے رہیںگے اور انہیں یقین ہے کہ پانی یہیں سے نکلے گا۔ یہاں جماعتوں کو جماعتوں سے خطرہ ہے ۔میں یہ سب دیکھتا ہوں تو کہتا ہوں کہ مذکورہ خاتون اینکرکے موقف کے برعکس میںاس بے چاری اپوزیشن سے بہت زیادہ توقعات نہیں رکھتا۔ کیسے سوچ سکتا ہوں کہ اپوزیشن اٹھے گی اور حکومت پر اسی طرح چڑھائی کر دے گی جس طرح عمران خان دھرنوں میں چڑھ دوڑے تھے۔ اس اپوزیشن کا دیا ہوا اعلامیہ کہتا ہے کہ ایک رہبر کمیٹی بنے گی، یہ کمیٹی ایک مناسب امیدوار کا چناﺅ کرتے ہوئے سینیٹ کا چیئرمین تبدیل کرے گی، یہ اعلامیہ قومی ترقیاتی کونسل، ججز کے خلاف ریفرنس اور قرضہ کمیشن کی بھی مخالفت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ پچیس جولائی کو انتخابات کا ایک برس پورا ہونے پر یوم سیاہ منایا جائے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس اعلامیئے کا مخاطب اور ٹارگٹ واضح ہے۔ اب بلاول بھٹو زرداری پارلیمنٹ کے جتنے مرضی محافظ بنتے رہیں اور شہباز شریف حکومت کے حق میں جتنے مرضی میثاق معیشت کرنے کی تجاویز پیش کر تے رہیں، ان کے بیانات کو اعلانئے کو شوگر کوٹڈ کرنے کے لئے ہی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے اس اعلامئے کی صورت ایک خط لکھ دیا گیا ہے کہ ہم موجودہ تنخواہ پر نوکری کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں ، دیکھنا یہ ہے کہ اس خط کا کیاجواب آتا ہے۔


ای پیپر