امیدواروں کی گرفتاریوں نے شفاف انتخابات پر سوالیہ نشان لگا دیا : شہباز شریف
28 جون 2018 (20:37) 2018-06-28

لاہور: پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعلی میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ انتخابی مہم کے دوران امیدواروں کی گرفتاریوں اور نااہلیوں نے شفاف اور آزادانہ انتخابات کے انعقاد پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ آئین اور قانون کے تحت جب عوامی عدالت میں پیش ہو چکے ہیں تو عوام کی عدالت کو اپنا فیصلہ کرنے دیا جائے۔ مجھے امید ہے کہ جمہوریت کی روح کے مطابق عوام کی عدالت ہی سب سے بڑی عدالت ثابت ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے خلاف نیب کی انتقامی کارروائیاں انتخابی مہم کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔ ایسی کارروائیوں نے شفاف انتخابات کے انعقاد پر شکوک و شبہات پیدا کردیے ہیں۔ مسلم لیگ ن نے آئین کے آرٹیکل 218 (3) کے تحت الیکشن کمیشن سے رجوع کیا ہے۔ غیر جانبدارانہ اور شفاف انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے الیکشن کمیشن کا فرض ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو آزادانہ طور پر انتخابی مہم چلانے کے یکساں مواقع کو یقینی بنائے۔ مجھے امید ہے کہ الیکشن کمیشن اس صورتحال کا فوری نوٹس لے گا۔

مسلم لیگ ن کے صدر نے کہا کہ ہماری خدمت کی سیاست کو جرم بنانا درست نہیں ہے۔ مسلم لیگ ن ملک کی سب سے مقبول ترین جماعت ہے اور اسے عوام کے ساتھ اپنے گہرے رشتے پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کو یہ تاثر ختم کرنا چاہیے کہ مسلم لیگ ن اس کے نشانے پر ہے۔ ہم نے ماضی میں بھی ایسے ہتھکنڈوں کو عوامی عدالت کے فیصلوں سے ناکام بنایا تھااور آج بھی عوام کی عدالت مسلم لیگ ن کے خلاف جاری تمام ہتھکنڈوں کو ناکام بنا دے گی۔ قمر الاسلام کی انتخابی مہم کے دوران گرفتاری قابل مذمت ہے۔ مجھے اس پر سخت تشویش ہے۔ اس گرفتاری سے آزادانہ اور شفاف الیکشن کے انعقاد پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ اس طرح سیاسی قیادت کو انتخابی عمل سے باہر رکھنا خوش آئندہ نہیں ہے۔ مسلم لیگ ن اپنے امیدواروں اور مخالف سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کی نا اہلیوں کو درست نہیں سمجھتی۔


ای پیپر