سندھ میں پیپلزپارٹی کی ہی جیت کیوں ؟
28 جون 2018 2018-06-28

انتخابات کی بڑی تصویر یہ ہے کہ پرانے کھلاڑی اور پارٹیاں میدان میں ہیں۔ سندھ میں پیپلزپارٹی اور جی ڈی ہیں، یا چند ایک مقامات پر پی ٹی آئی ہے۔ پی ٹی آئی سمیت کسی کے پاس نیا کچھ بھی نہیں۔ اس صوبے کے دو بڑے سمجھے جانے والے کھلاڑیوں نے تاحال اتخابی منشور کا بھی اعلان نہیں کیا۔ بعض آذاد اور ذاتی حیثیت میں امیدوار ہیں لیکن ان کو بھی جی ڈی اے کی چھتری حاصل ہے۔ سندھ کے عوام نے تقریباً نصف صدی تک پیپلزپارٹی کے ساتھ عشق کیا۔ اور اس عشق میں اس کے ساتھ کیا کیا نہ ہوا؟

بائیں بازو کی طرف جھکاؤ کے ساتھ پیپلزپارٹی نے روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے کے ساتھ جنم لیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں وقت کے بڑے بڑے دانشور اور بڑے نام پارٹی کی پہچان بنے ۔ وقت گزرتا گیا۔ صرف عالمی اور خطے کے ہی نہیں ملکی حالات تبدیل ہوئے، نئی سیاسی معاشی اور سماجی حقائق ابھرے، طبقات ابھرے۔ سیاست کے طور طریقے اور ڈھنگ بدلے۔ پارٹی میں بھی کئی تبدیلیاں آئیں۔ آج پارٹی کی پہچان یہ ہے کہ سینکڑوں وڈیرے آصف علی زرادری کی قیادت میں جمع ہیں۔ جو صرف الیکٹبلز کی سیاست کرتے ہیں۔وڈیروں کے عقل میں یہ بات وہ اچھی طرح بٹھا چکے ہیں کہ انتخابات بھلے آپ جیت لیں، لیکن اقتدار تک لے جانے کا گر صرف اس کے پاس ہے۔ پارٹی تاریخ کی سب سے مشکل انتخابات لڑنے جارہی ہے۔ پہلے محترمہ کی قیادت تھی۔ 2008 میں محترمہ کی شہادت کی وجہ سے پارٹی کو کوئی مشکل نہیں درپیش تھی۔آج ایسا نہیں۔پارٹی کے جیالے اور حامی ووٹر بلاول بھٹو سے امید بناھے ہوئے تھے۔ لیکن وہ بھی پارٹی کے کلچر اور حکمت عملی کو تبدیل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ وفاق میں چار اور سندھ میں پانچ مرتبہ اقتدار میں ر ہنے کی وجہ سے کارکردگی پر جواب طلبی کو منہ دینا پڑرہاہے۔پارٹی میں عوامی قیادت، عوامی نعرے، مزاحمتی مزاج، طاقت کا سرچشمہ عوام کے تصورات اب موجود نہیں۔عوام کی وسیع تر بھلائی اس کا اینجنڈا نہیں رہے۔ اب یہ ساٹھ کے عشرے کی مسلم لیگ جیسے بن گئی ہے۔ جو ایک اقتداری پارٹی میں تبدیل ہو کر بالادست طبقے کے گروہوں کی سیاست کر رہی ہے۔ نواز لیگ اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان حالیہ تضاد میں پارٹی نے اپنی مزاحمتی مزاج کو مزید کھو دیا۔ گزشتہ تیس سال کے تجربے کے دروان گروہی سیاسی، معاشی اور طبقاتی مفادات حاصل کرنے کے تمام گر سیکھ لئے ہیں اور وسائل ہاتھ میں لے لئے ہیں۔ عوام پر یقین کر کے اس سے رجوع کرنے کے بجائے وہ اقتدار کی بقا اور حاصلات کے لئے ہر اس طاقت کے مرکزے کے ساتھ سودے بازی کرکے اقتدار تک پہنچنے کے لئے تیار ہے ۔

یہ درست ہے کہ پنجاب سمیت ملک کے دیگر صوبوں میں پارٹی سیاست کو ایک قدم آگے لے گئی اور وہاں کے عوام بھی کسی نہ کسی شکل میں اس کے ساتھ رہے۔ لیکن سندھ میں صورتحال مختلف تھی۔ذوالفقار علی بھٹو اس کے بعد بینظیر بھٹو کی قیادت ، قربانیوں کاسحر اپنی جگہ پر ۔ اجتماعی سوچ یہ بنی کہ بھٹو سندھی تھے جنہیں قتل کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ایم آر ڈی کی تحریک سندھ کی قومی تحریک کی شکل اختیار کر گئی۔ سندھ میں بظاہر قومی تحریک فکر اور ترجیحات کے لحاظ سے متوازی رہی، لیکن سندھ کے لوگوں نے دیکھا جدید تاریخ میں سندھ کے ایک لیڈر کا قتل ان کی آنکھوں کے سامنے قتل کیا گیا جو سندھ کی طویل محرومی کے بعد اقتدار میں آیا تھا۔

دوسری حقیقت یہ بھی تھی کہ قوم پرستوں نے 70 کے عشرے اور اس کے بعد براہ راست انتخابات میں حصہ نہیں لیا۔ قومی تحریک کے بانی جی ایم سید نے پارلیمانی سیاست میں سندھ کے درد کا درمان نہیں سمجھا۔ لہٰذا سندھ کے لوگوں کے پاس ایک ہی آپشن تھا کہ اپنے حقوق ، سیاسی اتحاد اور سیاسی انتظام کاری کے لئے پیپلز پارٹی کے ساتھ کھڑے ہوں، انہوں نے آنکھیں بند کر کے ووٹ بینظیر کو دے دیا، جو ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی اور تاریخ میں سندھیوں کی پہلی خاتوں لیڈر تھی۔

مسلسل پیپلزپارٹی کو ووٹ کرنا صرف جذباتی فیصلہ نہیں۔ اس کے پیچھے ایک اجتماعی شعور موجود رہا جس کو اکثر تجزیہ نگار نظرانداز کرتے رہے ہیں۔ وہ سندھ کو ایک طرف پنجاب کی بالادستی سے خطرہ محسوس کرتے رہے ۔اس کے پیچھے کئی واقعات اور جدوجہد بھی رہی ہے۔ سندھ کے اکثر اہل فکر ونظر سمجھتے ہیں کہ’’ بینظیر بھٹو کی قیادت میں چلنے والی پیپلزپارٹی ایک ایسے وقت کی متحرک پارٹی رہی جب سندھ کو باہر کی آبادکاری، بڑے شہروں سے بے دخلی، وفاقی وسائل کی منصفانہ تقسیم، صوبائی خود مختاری، کالا باغ ڈیم جیسے منصوبوں کا خوف عروج پر تھا۔ تب سندھ کے اجتماعی شعور کی خواہش اور کوشش یہی رہی کہ پیپلزپارٹی جو ان مطالبات کو جائز سمجھ کر سندھ کی پارلیمانی سیاست کی قیادت کر رہی ہے ، سندھ کا ووٹ اور اتحاد کا مظاہرہ اس کے ذریعے ہی ہونا چاہئے۔‘‘ بینظیر بھٹو کے قتل بہت کچھ تبدیل ہوا۔ لیکن پیپلزپارٹی نے کالاباغ ڈیم کو مردہ گھوڑا کی قرارداد منظور کرالی، اٹھارویں ترمیم کے ذریعے صوبائی خود مختاری کو آئین میں یقینی بنایا۔این ایف سی ایوارڈ میں حصہ بڑھایا۔

سندھ کے لئے یہ امرتکلیف دہ ہے کہ سندھ کے لوگ جس پارٹی کے سحر میں مبتلا تھے اس کی پہچان کرپٹ، بدانتظامی، اوربالادست طبقات کی پارٹی سے عبارت ہے ۔ جو عوامی مفادات سے زیادہ گروہی مفادات کو ترجیح دیتی ہے۔ آج پیپلزپارٹی کے امیدواران ووٹرز سے جوابدہی کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ جوابدہی مثبت امر ہے۔ اس سے ووٹ تو کم ہو سکتے ہیں لیکن نتائج تبدیل نہیں ہوسکتے۔

اب سندھ میں متبادل کی بحث اور شاید کوششیں بھی ہورہی ہے۔ متبادل سے مراد ہمیشہ بہتر آپشن ہوتا ہے۔اگر کوئی بہتر آپشن نہیں تو متبادل کا پورا بیانہ ہی دم توڑ دیتا ہے۔ اوپر جو حقائق بیان کئے ہیں ان کے ساتھ بھٹوز کی شہاتیں اور نچلی سطح پر ووٹرز کا گروپ پیدا کرنا ٹھوس حقائق ہیں۔ پیپلزپارٹی کو بے فیض، آزمودہ اور عوام کو عذاب دینے والے وڈیروں کے اتحاد کے ذریعے ہٹایا نہیں جاسکتا ۔ اور نہ ہی اس وڈیروں کے اتحاد کے ذریعے سندھ کو خوشحال بنایا جاسکتا ہے۔ ایسے متبادل کی صورت میں سندھ کے لوگ یہ سمجھیں گے کہ اس سے پہلے والے یعنی پیپلزپارٹی ہی بہتر ہے۔ یہ ضرور ہے کہ 2018ء کے انتخابات عوام کے لئے اور تبدیلی یا متبادل لانے ولاوں ے لئے ایک تجربہ ضرور ہیں۔ خود پیپلزپارٹی کے لئے بھی سبق ہیں۔

پیپلزپارٹی کا متبادل تلاش کرنا ایک اور آواز بلند کرنا نہ صرف اچھی بات بلکہ ضروری ہے، لیکن اس کے لئے محنت، سیاسی سچائی، ثابت قدمی کی ضرورت ہے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ عین الیکشن کے وقت ایک گروہ آئے اور سمجھے کہ وہ پیپلزپارٹی کا دھڑن تختہ کر دے گا۔ اگر صرف الیکشن کا ہی معاملہ ہے تو یہ ایک الگ مکینزم اور حرکیات ہیں جس میں آپ پیپلزپارٹی اور وڈیرے کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ اقتداری سیاست نے الیکشن کو بہت مہنگا ، پیچیدہ اور کئی مفادات پر مشتمل کھیل بنا دیا ہے۔


ای پیپر