لوٹا سیاست اور گدی نشین
28 جون 2018 2018-06-28

پاکستان بننے سے پہلے جن لوگوں نے اپنے فائدے کے لیے انگریز سرکار کے مؤقف کی ہر موقع پر تائید اور حمایت کی اُن میں وہ تمام جاگیردار، انگریزوں کے پٹھو اور ضمیر فروش اشرافیہ پیش پیش تھی یہ طبقہ برصغیر میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ ہی وجود میں آیاتھا۔ پھر لوٹا سیاست کا آغاز ہوا، موجودہ پاکستان کے بڑے بڑے سیاست دانوں اور خاص طور پر عمران خان کے جیتنے والے گھوڑوں میں ملتان کے قریشی، ڈی جی خان کے مزاری ، دریشک ، کھوسے، جھنگ کے گدی نشین ، بلوچستان کے سبی دربار میں انگریز حکمران کی بگھی کھینچنے والے سردار، پنجاب کے جاٹ اور راجپوتوں کے کچھ خاندان سبھی شامل تھے۔ اس طبقے کی اُٹھان 1857ء کی جنگ آزادی میں ادا کیے گئے کردار سے شروع ہوئی۔ سیکڑوں نہیں ہزاروں کی تعداد میں ایسے جاگیردار اور اشرافیہ کا وجود 1857ء کی جنگ سے ہی جود میں آیا جن کو سیکڑوں ہی نہیں لاکھوں ایکڑ تک زمین انگریزوں نے عطا کی اس میں ہندوستان میں رہ جانے والا طبقہ بھی شامل تھا۔ 1935ء میں انگریزوں نے ایک دستور بھی دیا تا کہ جاگیردار زندگی کو اصولوں کے مطابق گزارنے کا ہنر سیکھ سکیں۔ مگر ایسے طبقہ کا ہر اصول تو آئین نہیں انگریز کی وفاداری کا تھا۔ خاص طور پر 1937ء میں پنجاب میں پہلے انتخابات ہوئے تو انگریز سرکار کی تائید اور حمایت سے بننے والی یونینسٹ پارٹی قائم کی گئی اس میں متحدہ پنجاب میں انگریزوں کے نوازے ہوئے ہندو، سکھ اور پنجابی جاگیردار شامل تھے اس جماعت کی پروموشن میں گدی نشینوں کا بھی ہاتھ تھا۔ جو جاگیرداروں کو کامیاب کرانے کے لیے میدان میں کود کھڑے ہوئے۔ جب گدیاں سیاست میں آئیں تو ملتان کے قریشی، جھنگ کے سیال، مظفر گڑھ کے گورمانی، نواب زادہ، نصر اللہ خان کا خاندان، پنڈی کے راجے، سرداران چکوال، جھنگ کے سیال بلکہ سمجھ لیجیے کہ بڑے بڑے سبھی شامل تھے اُن کی حمایت کی۔ عمران خان کے الیکٹیبلز وہ سبھی لوٹے ہیں جنہوں نے تاج برطانیہ کے ایڈورڈ ہفتم کی جشن تاج پوشی میں شرکت کی اس موقع پر ڈی جی خان کے رئیسوں اور سرداروں نے جو تاج برطانیہ ہی کے نوازے ہوئے تھے ایک عرض داشت پیش کی جس کا ایک ایک لفظ شرمسار کرنے والا ہے۔ آپ ہی فیصلہ کیجیے کہ عمران خان کے یہ ہیں الیکٹیبلز جو ملکہ و کٹوریہ اور شہنشاہ کی آمد کے بارے میں ایسا خوشامدی سپاس نامہ پیش کرتے ہیں کہ سرشرم سے جھک جاتا ہے۔
’’یہ امر اظہر من الشمس ہے کہ ہم سلطنت عظمیٰ کے دوسرے ممالک میں بسنے والوں کا مقابلہ علوم و فنون کی تحصیل اور تجارت و زراعت کی ترقی میں کسی طور پر نہیں کر سکتے مگر ہم اس بات پر بجا طور پر نازاں ہیں کہ ہم برطانیہ عظمیٰ کے تخت کی تابعداری اور فرمانبرداری میں ان سے کسی طرح پیچھے نہیں ہیں۔ ہم بصد عقیدت و احترام حضرت ملکہ معظمہ مغفور و مرحومہ قیصر ہند (ملکہ وکٹوریہ) کی ذات والا صفات کے مداح ہیں جو ہمارے لیے گنجینہ فیوض و برکات تھیں‘‘ یہ سپاس نامہ دریشک، مزاری، لغاری، کھوسہ سرداروں کے دستخطوں سے پیش ہوا تھا اور بہت کچھ بھی لکھا گیا تھا یہ جاگیردار ہی نہیں گدی نشین بھی اس دوڑ میں کسی سے پیچھے نہیں تھے۔ جلیا نوالہ باغ کے حادثہ بلکہ المیہ کے بعد گورنر پنجاب سرمائیکل ایڈوائیر اپنے عہدے سے فارغ ہوئے تو اُن کی خدمت میں خود پیش ہو کر جو سپاس نامہ پیش کیا تھا، آج کی سیاست میں کچھ نہیں بدلا وہ کچھ چل رہا ہے ، وہی کردار ہیں جن کو قائداعظم نے کھوٹے سکے قرار دیا تھا۔ بچارہ عمران خان دعویٰ کرتا ہے کہ وہ وزیراعظم بن کر نیا پاکستان بنائیں گے ۔ اُن
کو معلوم نہیں کہ وہ پارٹی میں ڈسپلن قائم نہیں کر سکے۔ 25 سالوں میں جدوجہد کا حوالہ دیتے ہیں مگر 25 سال میں وہ 25 صاحب کردار ہیرے نہ تراش سکے۔ اب لوٹوں کو امیدوں کا مرکز قرار دیتے ہیں کہ وہ حکومت میںآ کر سب ٹھیک کر دیں مگر کے پی کے کی حکومت میں کوئی دیانت داری کی مثال قائم نہ کر سکے۔ سینیٹ کے انتخاب میں لوگ فروخت ہو گئے۔ کپتان کہتا ہے کہ وہ وزیراعظم ہاؤس میں نہیں رہیں گے درست ہے مگر یہ بھی سوال ہے دو کروڑ کا عمرہ آپ پر کیسے جائز ہو گیا ہے۔ جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکرپٹ ہے جن لوگوں کو جوڑ توڑ کر آپ کو پیش کیا گیا ہے وہ سستے داموں فروخت نہیں ہوئے بھاری قیمت وصول کی ہے۔ نئے پاکستان کے لیے جو کارکن آپ نے تیار کیے تھے وہ تو الٹے پاؤں واپس لوٹ رہے ہیں بلکہ وہ مقابلے میں ہیں۔ آپ کے مقابلے میں کھڑے ہیں ۔ خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں ایسی ہوا کھڑی ہے کہ معاملہ کافی کمزور ہے۔ متحدہ مجلس عمل کے پی کے میں بڑی قوت بن کر آ رہی ہے۔ یہ 2002ء جیسی کامیابی تو حاصل نہیں کر سکے گی مگر بڑی جماعت ضرور بنے گی۔ کے پی کے پرویز خٹک کے سامنے بہت سی مشکلات ہیں۔ پارتی تین دھڑوں میں بٹ گئی ہے۔ پرویز خٹک کے ایما پر بننے والی خواتین کی مخصوص نشستوں میں بڑا حصہ خٹک گروپ کے پاس ہے۔ سپیکر کے پی اسمبلی خود وزیراعلیٰ کے مضبوط امیدوار ہیں۔ پھر نہ جانے کپتان کو بنوں سے کس نے اور کیوں اتارا ہے۔ 1970ء میں جس طرح ذوالفقار علی بھٹو ڈی جی خان سے مفتی محمود کے مقابلے میں ناکام ہوئے تھے ایسا منظرنامہ بنوں سے کپتان کے ساتھ بننے جا رہا ہے۔ ڈی آئی خان میں جمعیت علماء اسلام کے موالانا فضل الرحمن آگے ہیں ۔ کنڈی خاندان کا بڑا حصہ تحریک انصاف کے مخالف ہے۔ پشاور میں تحریک انصاف دھڑے بندی کا شکار ہے یہی وجہ ہے کہ ناصر موسیٰ زئی جو 2013ء اور ضمنی انتخاب میں (ن) لیگ کے امیدوار اور دوسرے نمبر پر تھے پہلے تحریک انصاف نے ان کو صوبائی ٹکٹ دیا۔ اب تبدیل کر کے اُن کو قومی اسمبلی کا ٹکٹ دیا ہے۔ اے این پی کے ارباب نجیب جو دو مرتبہ ناکام رہے تھے اُن سے وعدہ کیا تھا کہ انہیں ٹکٹ ملے گا مگر وعدہ پورا نہیں کیا اور تحریک انصاف کا حصہ بن گئے تھے۔ اب وہ متحدہ مجلس عمل کے امیدوار ہیں۔ چارسدہ اور مردان میں اس مرتبہ پی ٹی آئی کو ٹف ٹائم ملے گا۔ مردان میں ٹکٹوں کی تقسیم کا معاملہ ابھی تک درست نہیں ہوا جس سے ٹکٹ لے کر واپس لیا جاتا ہے وہ آزاد حیثیت سے میدان میں ہے۔ سوات میں تحریک انصاف ٹکٹوں کی تقسیم پر ا س حد تک انتشار کا شکار ہے کہ مراد سعید جیسے وفاداروں کی سیٹ خطرے میں پڑ گئی ہے۔ رحیم اللہ یوسف زئی کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کامیابی کی طرف گامزن ہیں۔ ایبٹ آباد سے سابق ڈپٹی سپیکر اور کرلال قوم سے تعلق رکھنے والے پرانے وفادار سردار یوسف کو ٹکٹ نہیں دیا گیا۔ اب وہ تحریک انصاف کے امیدوار علی اصغر جو اصغر خان کے صاحبزادے ہیں اُن کو سردار یوسف کی جگہ ٹکٹ دیا گیا ہے ۔ اہم بات یہ ہے کہ نہ تو ایئر مارشل (ر) اصغر خان اپنی زندگی میں مقامی سطح پر کوئی دھڑا بنا سکے یہی وجہ تھی کہ 1970ء کا انتخاب ایئر مارشل اصغر خان نے راولپنڈی سے لڑا اور ناکام رہے۔ 1977ء میں قومی اتحاد کے پلیٹ فارم سے اصغر خان پشاور اور کراچی سے کامیاب ہوئے۔ اب تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے کامیاب ہونا کافی مشکل ہے۔ ضلع کرک سے علی قلی خاندان کے نوجوان اور جنرل (ر) علی قلی خان کے بیٹے جو گزشتہ چھ سال سے تحریک انصاف میں شامل تھے۔ باغی ہو گئے ہیں۔ جنرل (ر) علی قلی خان سے عمران خان نے ٹکٹ دینے کے باوجود انہیں سرخ جھنڈی دکھا دی ہے۔ ان کا بیٹا اپنے بزرگوں سابق گورنر اور وزیر داخلہ اسلم خٹک ، جنرل حبیب اللہ اور یوسف خٹک کی سیاست کا احیا کرنے کے لیے کرک سے آزاد الیکشن لڑ رہا ہے سابق سپیکر گوہر ایوب کا بیٹا عمر ایوب (ق) لیگ ، پھر (ن) لیگ سے ہوتا ہوا اب تحریک انصاف میں شامل ہے اور اس خاندان کو قومی اسمبلی کی ایک اور صوبائی کی دو نشستیں مل چکی ہیں۔ مگر تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے راجہ سکندر کا خاندان جو بنیادی طور پر ایوب فیملی کا سیاسی حریف ہے جس کی سربراہی راجہ عامر زمان کے پاس ہے جو تحریک انصاف کے ٹکٹ پر ایم این اے بھی رہے اب راجہ عامر تحریک انصاف کو چھوڑ کر مسلم لیگ (ن) کے دھڑے کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ پنجاب میں بھی ملک امین اسلم کو اٹک سے ٹکٹ نہیں دیا گیا ۔ اس خاندان کا شمار بھی ’’پنجاب چیفس‘‘ میں ہوتا ہے یونینسٹ پارٹی سے لے کر تحریک انصاف تک اس خاندان کی وفاداریاں تبدیل کرنے کی تاریخ ہے۔ عمران خان میاں والی میں نواب امیر محمد کاالا باغ اور خود اپنے خاندان کی مخالفت کا سامنا ہے۔ اس مرتبہ روکھڑی خاندان اور عبید اللہ شادی خیل تحریک انصاف کا مل کر مقابلہ کر رہے ہیں۔ چکوال میں تحریک انصاف نے سردار غلام عباس کو ٹکٹ دیا ہے۔ جو 1985ء سے 2018ء تک سیاسی وفاداریاں تبدیل کرتے رہے ہیں۔ ان کے مقابلے میں ملک عبدالمجید کا خاندان 1985ء سے مسلسل کامیاب ہو رہا ہے۔ چوہدری پرویز الٰہی نے تحریک انصاف سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی ہے۔


ای پیپر