ا نتخا بی مہم کا با قا عد ہ آ غا ز
28 جون 2018 2018-06-28

ایک شنید، جسے آ پ اب بھی تا ز ہ کہہ سکتے ہیں، لیکن وہ دو چا ر رو ز میں ہی باسی کہلا ئے گی، وہ یہ ہے کہ ملک بھر میں انتخا بی مہم کا باقا عد ہ آ غاز ہو گیا ہے۔ مختلف سیا سی جما عتیں اپنے اپنے اند ا ز میں اپنی اپنی طا قت کے مظا ہر ے کر نا شر وع ہو چکی ہیں۔ مسلم لیگ ن نے گذ شتہ سو مو ا ر کو اپنی مہم کا آ غا ز کر ا چی سے کیا۔ اس سے پہلے پا کستا ن تحر یکِ ا نصا ف نے اپنی مہم کا آ غا ز میانو ا لی سے کیا۔ سا تھ سا تھ متحد ہ مجلسِ عمل نے اپنی تحر یک کا آ غا ز پشا ور سے کیا۔تا ہم سب کچھ اچھا اس لیئے نہیں کہا جا سکتا کہ سیا سی جما عتو ں میں ٹکٹو ں کی تقسیم کے مسا ئل تا حا ل حل نہیں ہو پا ر ہے۔ اس کی بد تر ین مثا ل تو تحر یکِ انصا ف کی جا نب سے خو ا تین کی مخصو ص نشستو ں کے لیئے ٹکٹو ں کی تقسیم پر مبینہ نا ا نصا فی کی صو ر ت میں دیکھنے کو ملی۔ اس نا ا نصا فی کے خلا ف تحر یک ا نصا ف کی سٹی صدر قر با ن فا طمہ کی قیا د ت میں پی ٹی آ ئی کی خو ا تین نے پی ٹی آ ئی کے مر کز ی و ا ئس چیرمین شا ہ محمو د کے گھر کے سا منے دھر نا دیا۔ قا رئین کو یا د دلا نے کی ضر ور ت نہیں کہ دھر نا کلچر کو وطنِ عز یز میں پر وا ن چڑھا نے کے ذ مہ دار عمر ا ن خا ن ہیں۔ لہذا شا ہ محمو د کے گھر کے سا منے دھر نے کے اسی کلچر کے تحت خو ا تین کے مابین جو لڑ ا ئی ہو ئی اس میں نو بت ہا تھا پا ئی تک جا پہنچی۔ نتیجتاً کئی خوا تین ز خمی ہو گئیں۔ کیا اس مو قع پر عمر ا ن خا ن صا حب سے یہ سو ا ل پو چھنا نہیں بنتا کہ کیایہ ہے وہ کلچر جو وہ اپنی کا میا بی کی صو ر ت میں اسمبلیو ں میں لے کر جا ئیں گے؟اس صو ر تِ حا ل کا نو ٹس الیکشن کمیشن کو اس لیئے فو ری طو ر پر لینا بنتا ہے کہ اس نے ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت کی ہے۔ ضابطہ اخلاق میں سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے لیے عمومی ضابطہ اخلاق کے علاوہ انتخابی مہم ، جلسے جلوسوں اور پبلسٹی کے حوالے سے بھی جامع ضوابط مرتب کیے گئے ہیں، جن پر پوری طرح عمل کیا جائے تو انتخابات نہ صرف خوشگوار ماحول میں منعقد کروائے جاسکیں گے، بلکہ ووٹ دینے کی شرح میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے اور انتخابات کے نتائج بھی پہلے کی نسبت قابل بھروسہ ہوں گے۔ یوں صرف ضابطہ اخلاق کے نکات، جن کی مجموعی تعداد نوے سے کچھ کم ہے، پر عمل کرنے سے انتخابات کو صحیح معنوں میں صاف اور شفاف بنانے میں خاصی مدد مل سکتی ہے۔ سابقہ تجربات اور مشاہدات کو مدنظر رکھیں تو عام انتخابات کو ایک بے ہنگم اور منہ زور کارروائی قرار دینا پڑتا ہے۔ یہ درست ہے کہ انتخابات عموماً ہر جگہ ہی ہنگامہ خیز ہوتے ہیں، مگر یہ ہنگامہ اگر کسی نظم و ضبط کا پابند ہو تو اچھا ہے۔ سیاسی اختلاف اگر نظریاتی اختلاف کی حد تک رہیں، تو یہ خوب، مگر اختلاف میں نوبت اگر ذاتیات کو حد کو پہنچ جائے، تو یہ سیاست، سیاستدان اور سیاسی حامی کی بدنامی کا باعث بنتی ہے۔ اس صورتحال میں لوگ انتخابات کے نام سے بھی نفرت کرنے لگ جاتے ہیں۔ اگر عوام کا بڑا حلقہ سیاسی سرگرمیوں سے اتفاق ہی نہ کرتا ہو تو وہ رائے دہی کے لیے بھلا کیوں گھروں سے نکلنے لگے؟ ہمارے معاشرے کا ایک قابل ذکر حصہ جو ووٹ دینے کے لیے گھروں سے نہیں نکلنا پسند کرتا، اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ سیاسی جماعتوں اور امیدواروں نے انتخابات کو کشتی کا اکھاڑا سمجھ رکھا ہے؛ حالانکہ اکھاڑا بھی کسی اصول، ضابطے کا پابند ہوتا ہے۔ طاقت اور دولت کی نمائش ہی انتخابات کی پہچان بن چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ متوسط طبقے کے فرد کے لیے اس دوڑ میں حصہ لینا مشکل تر بنادیا گیا ہے۔ نتیجتاً متوسط طبقے کے لوگ خود کو نمائندگی سے محروم سمجھتے ہیں۔ کم یا درمیانے درجے کی آمدنی والے لوگ خواہش تو رکھتے ہیں کہ طاقت کے ایوانوں میں ان کی نمائندگی بھی ہو، مگر وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ایسا کیونکر ممکن ہے۔ وجہ اس کی صرف یہ ہے کہ سیاسی اور انتخابی عمل بڑے پیسے کا کھیل بن چکا ہے۔ اس ناپسندیدہ روش، جو قومی مفادات کے بھی خلاف ہے، کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ضابطہ اخلاق پر پوری طرح عمل نہیں کیا جاتا۔ الیکشن کمیشن حکم دیتا ہے کہ قومی اسمبلی کے انتخابات کے لیے انتخابی مہم کے اخراجات کی حد پر پوری طرح عمل نہیں کیا جاتا۔ الیکشن کمیشن حکم دیتا ہے کہ قومی اسمبلی کے انتخابات کے لیے انتخابی مہم کے اخراجات کی حد چالیس لاکھ روپے اور صوبائی اسمبلی کے لیے بیس لاکھ روپے ہوگی اور ان اخراجات کی مانیٹرنگ الیکشن کمیشن کی ضلعی کمیٹی کرے گی۔ مگر اس شق پر عمل ہوتاکہاں نظر آتا ہے؟ ملک کے بڑے شہروں، قصبوں اور دیہی حلقوں میں بھی الیکشن مہم کے اخراجات کا مصدقہ آڈٹ کروایا جائے، تو اصل اخراجات لیکشن کمیشن کی جانب سے مقررہ حد سے کئی گنا زیادہ ہوں گے۔ مگر ایسا آڈٹ کہیں بھی نہیں کروایا جاتا، نہ ہی انتخابی امیدواروں سے اس بارے حساب طلب کیا جاتا ہے کہ وہ جو میلوں لمبی پینا فلیکس کی اشتہار بازی ہے اس کے اخراجات کہاں سے آرہے ہیں؟ اس نوع کے آڈٹس ناگزیر ہیں۔ یہ نہ صرف انتخابات کی شفافیت یقینی بنانے کے لیے ضروری ہیں، بلکہ اسی سے رہنماؤں کی بعد از انتخابات دیانتداری کو بھی یقینی بنایا جاسکتا ہے، کیونکہ یہ تصور کیا جاتا ہے کہ انتخابی مہم پر سرمایہ کاری، ذاتی مفادات کے حصول کے لیے ہی کی جاتی ہے اور اس لحاظ سے یہ پیشگی بدعنوانیوں کی زمرے میں آتی ہے۔ اگر الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق پر عمل یقینی بنایاجائے تو اس طرح کی انتخابی بدعنوانیوں کی راہ روکی جاسکتی ہے۔ انتخابی ضابطہ اخلاق کے تحت مذہب، ذات اور برادری کے نام پر مہم چلانے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ اگر ان نکات پر پابندی سے عمل کروایا جاسکے تو سیاست کئی گمراہ کن اور تشویش ناک نتائج پید اکرنے والے عوامل سے پاک ہوسکتی ہے۔ اب تک یہ دیکھا گیا ہے کہ مذہب، ذات اور برادری کو سیاست میں موثر ہتھیار کے طور پر

استعمال کیا جاتا ہے اور ان عصبیتوں کے نتیجے میں ہمیشہ تعصبات نے جنم لیا ہے۔ ہمارا ملک چونکہ متنوع مذاہب، قومیتوں، برادریوں اور زبانوں کا گہوارہ ہے اس لیے ہم تعصبات کے ان امکانات سے قطعاً صرف نظر نہیں کرسکتے۔ اس طرح دیگر جماعتوں کے رہنماؤں کی ذاتی زندگی پر تنقید کو بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ ضابطہ اخلاق کی اس شق پر عمل کرکے سیاستدان تحمل کی ایسی روایت پیدا کرسکتے ہیں، جس کی ہماری ملک کی سیاست کو اشد ضرورت ہے۔ اور پھر ایک دوسرے کا ذاتی احترام ہر صورت میں ملحوظ خاطر رہنا چاہیے، یقیناًاس کے وسیع فوائد سامنے آئیں گے۔ اس طرح ضابطہ اخلاق کی رو سے ہوائی فائرنگ اور اسلحے کی نمائش پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ لالچ یا دباؤ ڈال کر کسی امیدوار کو دستبردار ہونے پر مجبور کرنے کی بھی ممانعت ہے۔ مگر انتخابی ضابطے کے ایک شق جس کی کھلی خلاف ورزی ابھی سے دیکھی جاسکتی ہے وہ پبلسٹی کے حوالے سے ہے۔ ضابطہ اخلاق کی شق 26 کہتی ہے کہ

کسی بھی سائز کے پینا فلیکس، ہوڈنگز، بل بورڈز اور وال چاکنگ پر مکمل پابندی ہوگی۔ لیکن عملی صورتحال ضابطہ اخلاق کی اس شق کے برعکس نظر آتی ہے۔ ا سی طر ح ضا بطہ ا خلا ق کی د ھجیا ں بکھیر نے کی ایک ا ور مثا ل اوپر تحر یکِ ا نصا ف کی خو ا تین کی آ پس میں شا ہ محمو د کے گھر کے با ہر ہو نے وا لی لڑا ئی کی صو رت میں دی جا چکی ہے۔


ای پیپر