ایران : مظاہرے،معاشی بحران اور روحانی حکومت کا مستقبل؟
28 جون 2018 2018-06-28

امیر طاہری ایران کے ٹاپ ٹین کے بڑے صحافیوں میں سے ہیں۔لندن میں مقیم ہیں۔انگلش اورعربی پر مکمل عبور رکھتے ہیں۔انگلش ،عرب اور فارسی میڈیا میں آپ کے کالم تجزیات اور رپورٹنگ کو خوب سراہاجاتاہے۔27جون 2018کو ان کی ایک رپورٹ مشرق وسطی ٰ کے ایک بڑے اخبار الشرق الاوسط میں عربی میں چھپی ۔جس سے ایران میں جاری حالیہ معاشی بحران اور ایران کی موجودہ حکومت کے بارے ایک ایرانی صحافی کی زبانی اصل حقائق بیان کیے گئے۔پہلے ان کی رپورٹ کا خلاصہ ملاحظہ کیجیے اور پھر راقم کا تجزیہ ۔

ایران میں معاشی بحران شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔ ایران کا سب سے بڑا بازار جو تہران میں واقع ہے، مسلسل 3روز سے بند ہے۔جب کہ ملک بھر کے دیگر علاقوں مقصود شاہ، قیسریہ، خیام، سیدوالی، باشنار وغیرہ میں بھی بازار اور مارکیٹیں بند ہیں۔اس کے علاوہ اصفہان، بندر عباس،مشہد، کرمان،تبریزاورشیرازجیسے بڑے شہروں کے تاجروں نے بھی تہران کے تاجروں سے ہمدردی کے لیے مارکیٹیں بند رکھنے کا عندیہ دیاہے۔تہران کے سب سے بڑے بازار کا بندہونا ، ایران کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔آخری بار1978،79میں ایرانی شاہ کے دور میں یہ مارکیٹ کافی دن بند رہی تھی۔جس کے بعدایران میں شاہ ایران کا تختہ الٹ دیا گیا تھا۔ساڑھے 10کلومیٹر سے زائد رقبے پر مشتمل تہران میں واقع ایران کی سب سے بڑی مارکیٹ میں 40 سے زائد سڑکیں اور گزرگاہیں ہیں۔سونے چاندی اور دیگر جواہرات کی تجارت سے لے کر قالینوں کارپٹوں اور عام اشیاء ضروریہ سمیت 20 سے زائد انواع کی تجارت یہاں ہوتی ہے۔ڈیڑھ کروڑ آبادی کے حامل ایران کے سب سے بڑے شہر تہران کی تمام ضروریات زندگی یہاں دستیاب ہوتی ہیں۔اس مارکیٹ کو تہران اور ایران کی شہ رگ بھی کہا جاتاہے۔6مساجد،30ہوٹل،20 سے زائد بنک،لین دین کے 6بڑے دفاتر،قرضوں کے 9 مراکز،13کے قریب پرائمری اور سکینڈری سکول،دوسینما،زورخانہ سمیت کئی اہم دفاتر اور بلڈنگ اس مارکیٹ میں واقع ہیں ۔

تہران کی اسی مارکیٹ سے ایران کا سب سے زیادہ "خُمس " اور "امام کا حصہ" جمع ہوتاہے۔بلکہ ایران بھر کے امام بارگاہوں اور دیگر اداروں کے لیے صدقات وخیرات اور چندہ بھی اسی مارکیٹ سے سب سے زیادہ جمع ہوتاہے۔اس کے علاوہ ملک بھر میں یہیں سے جمع ہونے والا سرمایہ خرچ کیا جاتاہے۔ثقافتی اور سماجی ہم آہنگی کے لیے بھی یہ مارکیٹ ایران میں اہم کردار اد ا کرتی ہے۔ ایران کے 31صوبوں سے مختلف انجمنیں اور تنظیمیں اسی مارکیٹ سے چلائی جاتی ہیں۔جن میں سب سے بڑی انجمن اور تنظیم آذربائیجان کے نام سے ہے، جب کہ دوسری بڑی تہران میں اصفہان انجمن کے نام سے ہے۔ ایران بھر میں پھیلے ہوئے تقریبا500سے زائد خیراتی ادارے اسی مارکیٹ کے چندہ وخیرات سے چلتے ہیں۔ اس مارکیٹ میں زیادہ تر دوکانیں ہرسال15شعبان کو"امام غائب"کی

میلاد منانے والی ایران کی سب سے بڑی تنظیم سے وابستہ لوگوں کی ہیں۔یہ وہ تنظیم ہے جس کے662کلومیٹر رقبے پرپھیلے ہوئے تہران میں 15لاکھ سے زائد کارکنان ہیں ،جو تہران بھر میں محرم الحرام کے مہینے میں 500سے زائد زنجیرزنی کرنے والے جلوس نکالتے ہیں ۔سب سے اہم یہ ہے کہ بالواسطہ اور بلاواسطہ ایران کی سب سے بڑی اس مارکیٹ سے 6لاکھ سے زائد ایرانی ملازمین وابستہ ہیں۔

اگر ایران کی اس اہم ترین اور بڑی مارکیٹ کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو یہ 400سال پہلے ایرانی صفویوں کے دورحکومت میں بنائی گئی۔جب کہ دوصدی کے قبل شاہ ایران نے اس کا جدید ڈھانچہ تیار کیا۔بعدازاں اس مارکیٹ سے پٹرول اور دیگر معدنیا ت سے لے کر ہرقسم کی تجارت پروان چڑھتی رہی ۔ایرانی تجزیہ نگاروں کے مطابق اگر اس مارکیٹ سے روح اللہ خمینی اور اس کے کمیونسٹ اتحادیوں کو مالی سپوٹ نہ ملتی تو وہ کبھی شاہ ایران کا تختہ نہ الٹ سکتے ۔1979ء سے لے کر تاحال یہ مارکیٹ خمینی انقلابیوں کے زیرِاثر ہے۔لیکن گزشتہ سال کے آخر میں ایران میں غربت اور افلاس کے باعث شروع ہونے والے مظاہروں اور امریکا ایران نیوکلئیر ڈیل کے خاتمے کے بعدایرانی معیشت میں مسلسل گرواٹ کے باعث خمینی انقلابیوں کو سپوٹ کرنے والا تہران میں واقع ایران کا یہ سب سے بڑا بازار ہاتھ سے نکلتا جارہاہے۔

ایران کے حالیہ مظاہروں کا جہاں بڑا سبب معاشی بحران اور غربت وافلاس ہے ،وہیں ایک سبب اقتدار کی کرسی کے لیے ایرانی ملاؤں کے بیچ جاری رسہ کشی بھی ہے۔ایرانی سپریم لیڈر علی خامنائی کے حامی بعض شدت پسند دراصل ایرانی حکومت پربراجمان صدرحسن روحانی سے سخت ناراض ہیں۔ایرانی تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ لوگ حسن روحانی حکومت کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔جس کے لیے انہوں نے ملک بھر میں غربت اور افلاس کی ماری عوام کو مظاہروں کے لیے نکالا۔اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتاہے کہ ایران کی مجلس اسلامی کے شدت پسند ارکان جن میں امیر عبادی ،فاطمہ ذوالقدر،آیۃ اللہ مجتبی ذوالنورنے واضح طور پرحسن روحانی کو حکومت سے علیحدہ کرنے کا مطالبہ کیاہے۔بلکہ ایک دن پہلے ایران کی مجلس اسلامی کے 71ارکان نے حسن روحانی حکومت کو 15دن کی مہلت دی ہے کہ اس مدت میں وہ ایران میں جاری مظاہروں پر کنٹرول کریں اور ایران کی معاشی صورت حال کو کنٹرول کریں ورنہ ان کو حکومت سے الگ کردیا جائے گا۔ایرانی فوج کے جرنیل بھی حسن روحانی حکومت سے سخت نالاں نظر آتے ہیں۔چنانچہ ایرانی پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر یحیی رحیم صفوی اور باسیج فورس کے کمانڈرجنرل غلام حسین غیب برور نے بھی حسن روحانی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت ایرا ن کے موجودہ حالات کی ذمہ دار ہے۔جب کہ ایرانی کے مذہبی رہنماؤں میں آیۃ اللہ نور ہمدانی،آیۃ اللہ مکارم شیرازی وغیرہ نے بھی مارکیٹ کے تاجروں سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ حسن روحانی حکومت کو تاجروں کی مشکلات جلد دور کرنا چاہیں۔ایرانی تجزیہ نگاروں کے مطابق اگر حالات درست نہ کیے گئے تو گزشتہ سال 1250شہروں میں ہونے والے مظاہرے اس بار ملک بھر میں وسیع تر ہو جائیں گے جس سے ایران کا موجودہ نظام حکومت بھی تباہ ہوسکتاہے۔غور طلب بات یہ ہے کہ ایران میں ہونے والے حالیہ مظاہروں کو ایرانی میڈیا بھی درست قراردے رہاہے۔جب کہ اس سے پہلے ایران میں ہونے والے مظاہروں کو ایرانی میڈیا امریکا اور یہودیوں کی سازش قراردیتا رہاہے"۔یہ ایرانی صحافی امیر طاہری کی رپورٹ کا خلاصہ تھا۔

غور کیا جائے تو 1979ء میں خمینی انقلاب کے بعد سے ایران مسلسل حالت جنگ میں ہے۔چنانچہ 80ء کے عشرے میں ایران عراق جنگ ،بعدازاں دیگر خلیجی ملکوں کے ساتھ ایران کی چپقلش،پھر نائن الیون کے بعد امریکا عراق جنگ میں ایران کی براہ راست مداخلت،عرب بہار کے بعد 2011سے شام میں جاری خانہ جنگی میں ایران کی شمولیت،2015ء سے یمنی خانہ جنگی میں ایران کی طرف سے حوثیوں کی حمایت ومدد ،اسی طرح امریکا افغان جنگ میں انڈیا کے ساتھ مل کر ایران کی براہ راست افغانستان میں اجارہ داری اور بھاری بھر سرمایہ کاری،لبنان ،بحرین،سعودی عرب ،نائجیریا اور پاکستان جیسے ملکوں میں پراکسی وار کی صورت ایران کی شمولیت سے یقیناً ایران کی معیشت اور عوام پر بہت اثر پڑ رہاہے۔اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق صرف شام میں ایران سالانہ 6بلین ڈالرز سے زائد خرچ کررہاہے،دیگر ملکوں میں یہ رقم اس سے بھی زیادہ ہے۔ظاہر سی بات ہے کہ جنگوں سے ملک تباہ ہوجاتے ہیں،عوام مفلس اور غریب ہوجاتی ہے۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ ایران کی سلامتی کے ساتھ ایرانی عوام کی خوشحالی اور سکون بھی داؤ پرلگا ہواہے۔جس کا اظہار عوام وقتا فوقتا حسب طاقت مظاہروں کی صورت کرتی رہتی ہے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ ایران کے اتحادی ممالک بھی ایران کو اب آنکھیں دکھانے لگے ہیں۔چنانچہ رواں ماہ 27جون کوجاری ہونے والے ایک بیان میں ایرانی مشیر خارجہ علی خرم نے کہا ہے کہ روس نے ہماری پیٹھ میں خنجر گھونپا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں روس نے شام میں دھوکہ دیا ۔بلکہ امریکا عراق جنگ میں ایران کو عراق میں بھرپور سپوٹ کرنے والے امریکا اور 80ء کی دہائی میں ایران عراق جنگ میں ایران کو اسلحہ فراہم کرنے والے اسرائیل نے بھی ایران کو دھمکانا شروع کردیا ہے۔

اہم ترین سوال یہ ہے کہ ایران کا مستقبل کیا ہوگا؟ غور کیا جائے تو ایک طرف اسرائیل عرب ملکوں کے ساتھ مل کر فلسطین کی تاریخی مقامات کے عوض فلسطینیوں کو اسرئیل کے قبضے میں بنجر اور صحرا دے کر "صدی کی سب سے بڑی ڈیل"کے چکر میں مگن ہے، تو دوسری طرف اردن،بحرین اور دیگر عرب ملکوں میں مالی بحران پیدا کرکے اور سالہا سال پس پردہ اپنے مضبوط حلیف ایران کو مصنوعی طورپر ڈرا دھمکا کرعراق اور شام سے بھگانے کی کوشش کررہاہے، تاکہ اسرائیل کے جھنڈے میں شامل دو نیلی پٹیوں کے پیچھے چھپے گریٹر اسرائیل کے خواب کو پورا کیا جاسکے۔خسارہ بہرصورت مظلوم مسلمانوں کا ہے یا پھر ظالموں کا ساتھ دینے نام نہاد اسلامی ملکوں کا !


ای پیپر