مورکھ یا مورخ۔۔۔؟؟
28 جون 2018 2018-06-28

دوستو، مورکھ لکھے گا کہ ایک قوم ایسی بھی تھی جو یہ کہہ کر چائے پینے سے انکار کردیتی تھی کہ چائے پینے سے رنگ کالا ہوجاتا ہے۔۔اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ تاریخ تو مورخ لکھتا ہے، پھر یہ ’’ مورکھ ‘‘ کون ہے؟؟، تو جناب، تاریخ تو واقعی مورخ لکھتا ہے، لیکن تاریخ میں جتنی بری باتیں لکھی جاتی ہیں وہ ’’ مورکھ ‘‘ ہی لکھتا ہے۔۔اسی لئے جب ہم مورکھ لکھا کریں تو سمجھ جایا کریں کہ اس کا لکھا ملک و قوم کے مفاد میں ہرگزہرگز نہیں ہوسکتا۔۔ مورکھ کی کچھ اورباتیں اور مزیدانکشافات بھی سن لیجئے۔۔
مورکھ لکھے گا، ایک ایسی قوم بھی تھی جس کی دلہنیں بیوٹی پارلرز اور دلہا حکیموں کے پاس تیارہوتے تھے۔۔ مورکھ یہ بھی لکھے گا کہ، ایک قوم ایسی بھی تھی جو بچوں کو کہتی تھی ننگے پیر مت چلو پیر بڑے ہوجائیں گے۔۔
مورکھ یہ بھی لکھے گا،اک ایسی قوم تھی جس میں کسی کا تین دن بخارنہ اترے تو چوتھے دن رشتہ داروں پہ شک کرتے تھے کسی نے جادو کرایاہوگا۔۔ مورکھ یہ لکھنے سے بھی باز نہیں آئے گا کہ، ایک قوم ایسی بھی جہاں کتابیں لکھنے والوں سے زیادہ تعویذ لکھنے والے کماتے تھے۔۔ مورکھ یہ بھی لکھنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گا کہ، ایک عظیم لیڈر تھا جب بھی وہ گھر سے انقلاب لکھتا تھا راستے میں لڑکی مل جاتی تھی اور وہ اس سے شادی کرکے گھر لوٹ جاتا تھا۔ پھر سردیاں بیوی کے ساتھ گزارتا تھا اور گرمیاں شیرْو کے ساتھ نتھیا گلی۔۔۔اگر مورکھ کے ہوش ٹھکانے پر رہے تو ضرور لکھے گا ،بغیر سحری کے اور اچار پراٹھا کھا کر روزہ رکھنا تقریباً برابر ہی ہے۔۔ مورکھ یہ بھی ضرور لکھے گا کہ ،، ایک ایسا جدید دور بھی گزرا ہے جس میں ایک لبرل طبقہ آزادی کے نام پر صرف چائے کی پتی بیچنے کے لیے اپنی بچیوں کو نچاتا تھا،شاید وہ کسی ’’ترنگ‘‘ میں رہتا تھا۔۔ مورکھ یہ بھی سوچے گا کہ، انڈے اور دہی والے شیمپو سے بال دھو کر، اسٹابری،اورنج اور مینگو والے صابن سے دو،دوبار غسل کرنے کے باوجود روزہ کیوں لگتا تھا،پھر ایک دن افطار کے بعدلیمن میکس سے برتن دھوتے ہوئے اس کی عقل ٹھکانے لگ گئی۔۔ مورکھ لکھے گا،اک قوم ایسی بھی تھی جو ہاتھ میں خارش پہ سمجھتی تھی آج پیسے ملنے والے ہیں۔۔ مورکھ یہ بھی لکھے گا کہ اک ایسی قوم بھی تھی جو سردیوں کی چھٹیاں سردی آنے سے دس دن پہلے اور، گرمیوں کی چھٹیاں گرمیوں سے پہلے گزار دیتی تھی۔۔
ایک بچے نے اپنی ماں سے پوچھا، ممامصری کی ممی اور پاکستانی ممی میں کیا فرق ہے؟؟۔۔ماں نے جواب دیا۔۔بیٹا مصر کی ممی سے بچے ڈرتے ہیں اور پاکستانی ممی سے بچوں کے پپا ڈرتے ہیں۔۔مصر کے لوگ مصر کو ’’ام الدنیا‘‘ یعنی دنیا کی ماں کہتے ہیں۔۔جب ایک پاکستانی نے مصری سے پوچھا گیا کہ،کیا مصردنیا کی ماں ہے؟ اس نے اثبات میں سرہلادیا۔۔اس سے دوبارہ پوچھا گیا،پھر دنیا کا باپ کون ہے؟؟ مصری نے کہا کہ ،مصر ماں اور باپ دونوں ہے۔۔پاکستانی نے کہا،ایسا ہونہیں سکتا کہ ماں اور باپ دونوں ایک ہوں۔۔یہ ٹھیک ہے کہ مصر دنیا کی ماں ہے لیکن باپ کا بھی پتہ ہونا چاہیئے کہ وہ کون ہے؟ پاکستانی نے پھر مصری کو سمجھاتے ہوئے کہاکہ،میری رائے میں اگر مصر دنیا کی ماں ہے تو پاکستان دنیا کا باپ ہے۔۔کیوں کہ مصر کے اہرام تقریبا 5 ہزار سال قدیم ہیں تو پاکستان میں ٹیکسلا کے آثار تقریبا 8 ہزار سال پرانے ہیں اس طرح پاکستان دنیا کا باپ ہوا۔۔
بات ہورہی تھی مورکھ کی۔۔ مورکھ جب ہماری قوم کے حوالے سے لکھے گا تو یہ ضرور لکھے گا کہ۔۔ دو آدمی لڑرہے ہیں، ایک آدمی گھر سے باہر نکلا اور انہیں لڑتا دیکھ کر بیچ بچاؤ کرائے بغیر آگے بڑھ گیا اور کوئی لفٹ ہی نہیں کرائی،تو یہ کراچی ہے۔۔دو آدمی لڑرہے ہیں،ایک آدمی گھر سے باہر نکلا اور انہیں لڑتے دیکھ کر کہنے لگا، میرے گھر کے سامنے نہیں،کہیں اور جاکرلڑو،یہ اسلام آباد ہے۔۔دو آدمی لڑرہے ہیں،تیسرا آدمی انہیں چھڑانے آیا،دونوں آپس میں لڑنا چھوڑ کر اسے پیٹنے لگے،یہ لاہور ہے۔۔ دو آدمی لڑرہے ہیں،بیس آدمی اکھٹے ہوگئے، دس زخمی ہوکر اسپتال پہنچ گئے، باقی دس کو پولیس پکڑ کر لے گئی، تو جان لیجئے کہ اس شہر کو پشاور کہا جاتا ہے۔۔دوآدمی لڑرہے ہیں، بیس آدمی اکٹھے ہوئے،ایک آدمی وہاں آیا اور چائے کا کھوکھا لگالیا، یہ کوئٹہ ہے۔۔دو آدمی لڑرہے ہیں، ایک ایک کرکے وہاں اور بھی لوگ جمع ہونا شروع ہوگئے پھر لڑنے والوں پر جگتیں ہونے لگیں، یہ فیصل آباد ہے۔۔دو آدمی لڑرہے ہیں، دوہزار اور آگئے اور دو،دو کرکے آپس میں لڑنا شروع ہوگئے، یہ پاکستانیوں کی فیس بک ہے۔۔
ڈاکٹر کہتے ہیں کہ صبح جلدی اٹھنے سے عمر بڑھتی ہے۔لیکن شاید وہ یہ بات نہیں جانتے کہ،مرغا صبح سویرے سب سے پہلے اٹھتا ہے، بانگ بھی دیتا ہے اور شام کو کسی کڑاہی میں بھی سب سے پہلے چڑھتا ہے۔۔ اس لئے وہم چھوڑو اور آرام سے اٹھا کرو۔۔۔ہماری قوم دنیا کی واحد قوم ہے، جو دیوار پر لکھ دیتے ہیں کہ ’’دیوار پہ لکھنا منع ہے‘‘۔۔۔ ہمارے پیارے دوست فرماتے ہیں، دو لڑنے والوں کے درمیان صلح نہ کراسکو تو کم سے کم نیچے بیٹھ جایا کرو تاکہ،دوسرے لوگ بھی انجوائے کرسکیں۔۔ایک بزرگ فرماتے ہیں، میں نے تین لوگوں سے زیادہ بدنصیب کسی کو نہیں دیکھا۔۔پہلا وہ جو پرانے کپڑے پہنے جبکہ اس کے پاس نئے کپڑے ہوں۔۔دوسرا وہ شخص جس کے پاس کھانا ہو اور پھر بھی بھوکا رہے۔۔۔یہاں پہنچ کر بزرگ چپ ہو گئے اور ان کی آنکھوں میں آنسو بہنے لگے۔۔۔کسی نے پوچھا، تیسرا شخص کون ہے؟۔۔ فرمایا، تیسرا وہ شخص جومیڈیا ورکر ہے۔
مورکھ یہ بھی لکھے گا کہ ،ایک قوم ایسی بھی تھی جہاں ’’پھوپھی‘‘ کو بدنام کرکے رکھا جاتا تھا،پھوپھیوں پر نت نئے لطیفے اور مزاحیہ واقعات گھڑے جاتے تھے، ایک بار پھوپھی نے پوچھا، بیٹا تم کیا کرتے ہو؟ نوجوان نے جواب دیا، پھوپھومیں ’’کارڈیالوجسٹ‘‘ ہوں، پھوپھی جواب میں کہتی ہے۔۔تیری ماں اور تیرا باپ اگر میری سن لیتے تو آج تو بھی کم سے کم کہیں ’’کمپاؤنڈر‘‘ لگاہوتا اور عیش کرتا۔۔پھوپھو جب دانتوں کا معائنہ کرانے بھتیجے ڈینٹسٹ کے پاس گئی، بھیتجے نے پھوپھو کو کہا،منہ کھولئے۔۔پھوپھو نے غصے سے کہا، میرا منہ نہ کھلوا، ورنہ تجھے صاف صاف بتادوں گی کہ تیرے ماں باپ نے گھر سے بھاگ کر شادی کی تھی۔۔ مورکھ یہ بھی لکھے گا کہ ایک قوم ایسی بھی تھی ،جہاں بچوں میں کیلشیئم کی کمی، نوجوانوں میں وٹامن ’’شی‘‘ کی کمی، واپڈا والوں کو بجلی کی کمی تھی جو کبھی پوری نہ ہوسکی۔۔ مورکھ یہ بھی لکھنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرے گا کہ ، ایک قوم ایسی بھی تھی جو ڈاکٹر کے پاس جا،جاکر خود ڈاکٹر بن جاتے تھے۔۔ ڈاکٹر صاحب،ڈاکٹر صاحب،میرے گھٹنے میں سوزش ہے، یورک ایسڈ کا ٹیسٹ بھی کرایا، نارمل نکلا، شوگر چیک کی وہ بھی نارمل ہے، گرم پٹی بھی باندھی، تین دن سے کوئی فرق نہیں پڑا، آپ ہی کوئی دوا لکھ دیں پلیز۔۔ڈاکٹر آگے سے کہتاہے، ایناں کچھ کر لیا دوا بھی خود لکھ لے ماما۔۔ مورکھ آگے مزید لکھ سکتا ہے کہ ، ایک قوم ایسی بھی تھی جو موٹرسائیکل ہلاکر پٹرول کی مقدار کا اندازہ لگالیتی تھی، پھر اسی قوم کے نوجوان پٹرول ختم ہونے پر اسے لٹا کر سعودی عرب کے تیل کے کنوؤں سے ’’روحانی رابطہ‘‘ کرادیتے تھے جس کے بعد وہ اپنی موٹرسائیکل کسی قریبی پٹرول پمپ لے جانے کے قابل ہوجاتے تھے۔۔ مورکھ یہ بھی لازمی لکھے گا کہ ،ایک قوم ایسی بھی تھی جو ناک سے سونگھ کر خربوزہ میٹھا ہونے کا باآسانی پتہ لگالیتی تھی۔۔اسی قوم کے جوان تربوز کو تھپکی لگاکراس کے لال ہونے کا اندازہ بھی کرلیتی تھی۔۔لیکن جدید سائنس اس قوم کی ان تمام ’’تھیوریز ‘‘ کے بارے میں پراسرار طور پر خاموش تھی۔


ای پیپر