یورپین
28 جون 2018 2018-06-28

وہ ایک انتہائی خطرناک کُتا تھا ۔میں جب کام سے واپس گھر کو لوٹتا تو اکثر راستہ روک کے کھڑا ہوتا۔ شاید میرے استقبال کے لئے کھڑا ہو تا تھا ۔اس کی مالکن’’ آنابیلا‘‘نے مجھے ایک دو مرتبہ بتایا کہ یہ کچھ نہیں کہتا ۔میں نے کہا : ،جب یہ کہتا ہی کچھ نہیں تو اتنا بڑا کتا رکھنے کی کیا ضرورت تھی ؟کوئی چھوٹا موٹاکُتا رکھ لیتی ،وہ کچھ نہ کچھ کہہ بھی لیتا تو خیر تھی ،اِسے تو دیکھ کے ہی خوف آتا ہے ۔
ایک دن میں دور کھڑا دیکھ رہا تھا کہ گلی (آگ کا دریا) پار کروں یا نہ ۔وہ (کتا)گلی میں چہل قدمی کر رہا تھا ۔اتنی دیر میں گھر سے اسکی خوبرو مالکن نمودار ہوئی ۔مجھے دیکھ کر مسکرانے لگی تو میری بھی باچھیں ’’کھُل‘‘ گئیں۔
کہنے لگی:اِدھر آؤاِس کے پاس،کچھ نہیں کہے گا ۔
میں نے کہا : ،اِسے لے آؤ میرے پاس ،میں اِس کے پاس آؤں اِس کا ملازم ہوں کیا؟یہ الفاظ زباں تک تو آئے، بیاں تک نہیں،۔اتنی جراٗت کہاں تھی کہ اُن دونوں کے سامنے یہ کہتا۔خیر چل دیا اُن کی طرف ۔
کہنے لگی: پُرتگا لPortugal) (کا تو بچہ بچہ کتوں سے کھیلتا ہے، آپ اتنا کیوں ڈرتے ہیں ؟
میں نے دل میں ہی کہا: ،انگلینڈ کا بچہ بچہ انگلش بولتا ہے ، اب ہم سے نہیں بول ہوتی تو کیا نہر میں چھلانگ لگا دیں؟
آخر کار بات چیت کے آخر میں دل نے یہ فیصلہ کیا کہ کتے کے ساتھ اِس کی’’ ماڈل ٹائپ ‘‘مالکن ہوگی تو گلی پار کیا کروں گا ، ورنہ دوسرا لمبا راستہ تو ہے ہی ۔
یورپ میں مَیں کتوں سے ہی نہیں، بلکہ دوسرے جانوروں سے کتوں سے بھی زیادہ ڈرتا تھا ۔’’پرتگال ‘‘میں بڑے بھائی عبدالصمد کیساتھ ایک مرتبہ Pet shop میں ایک Pet پہ ہماری Bet لگ گئی کہ یہ چوہا ہے یا نہیں ہے۔بھائی کا موقف تھا کہ یہ ایک بڑا’’ یورپین ‘‘ چوہا ہے۔
میں نے کہا :، یہ بلی ہے نہ چوہا ،بس یہ کچھ اور ہی ہے ۔
بھائی کہنے لگے،یہ بلی کہاں سے آگئی بیچ میں ؟
میں نے کہا ،بھائی جی !بلی ،چوہے کا چولی دامن کا ساتھ جو ہوا۔
بحث جب لمبی ہوتی گئی تو ہمیں احساس ہوا کہ یہاں دکان والی بھی موجود ہے ،اُس سے یہ فیصلہ باآسانی کروا سکتے ہیں۔ویسے سچ تو یہ ہے کہ ہمیں خود احساس نہیں ہوا تھا،یہ احساس اُس دکان والی نے ہی ہمیں دلایا تھا ،کیونکہ بحث کے دوران چار پانچ مرتبہ اُس نے ہم سے پوچھاکہ میں آپ کی کوئی مدد کر سکتی ہوں ؟ بقول اُس کے اِس جانور کا نام chinchilla تھا ۔پھر اُس نے اِسے ہاتھ میں پکڑ کے دکھایا۔کہنے لگی ، میںآپ کو چوہے پکڑاتی ہوں۔میں نے کہا کہ اگر ہم سے کوئی غلطی ہو گئی ہو تو معاف کر دیں ،(کیونکہ اُس نے جانے کونسے چوہے پکڑا دینے تھے، اصلی یا بہت ہی اصلی )۔
پھر اُسنے ایک سانپ نکال کر دِکھایا ۔کہنے لگی ،پکڑ و گے؟
میں نے کہا:، میں تو آپ سے پہلے ہی معافی مانگ چکا ہوں ،اب کیا کان پکڑوائیں گی؟
بھائی کہنے لگے: ،مجھے پکڑائیں جی۔
میں نے کہا:، کیاکان؟
کہنے لگے:، نہیں سانپ۔
میں نے کہا :، بھائی جی !’’ کُڑی اگّے اینے وی پاگل نہیں ہو جائی دا‘‘۔
کہنے لگی :،کچھ نہیں کہے گا ۔
میں نے سوچا:،یہ کہاں آگئے،جہاں کتے کاٹتے نہیں ،سانپ ’’ڈاستے‘‘ نہیں۔
میری حیرت کی انتہا نہ رہی تو میں نے پوچھ ہی لیا کہ یہاں بیویاں بھی اپنے شوہروں کو کچھ کہتی ہیں یا وہ بھی کچھ نہیں ؟اور یہ سوال کرتے ہوئے میرے چہرے پہ جو بیچارگی تھی، وہ اس دکان کے تمام جانوروں نے �آ نکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھی ۔خیر میں نے اپنا شعر سنا کر اپنے آپ کو تسلی دی۔میرؔ کی روح سے معذرت کیساتھ
’’ ہم ہوئے تم ہوئے کہ میرؔ ہوئے ‘‘
اپنی بیگم کے سب اسیر ہوئے


ای پیپر