جمہوریت اور انتخابی عمل میں ووٹر کا کردار
28 جون 2018 2018-06-28

یونانی مفکر ہیرو ڈوٹس نے جمہوریت کا مفہوم اس طرح بیان کیا ہے کہ جمہوریت ایک ایسی حکومت ہوتی ہے جس میں ریاست کے حاکمانہ اختیارات قانونی طور پر پورے معاشرے کو حاصل ہوتے ہیں یعنی جمہوریت سے مراد ایسا نظامِ حکومت ہے جس میں عوام کی رائے کو کسی نہ کسی صورت میں حکومت کی پالیسیاں طے کرنے کے لئے بنیاد بنایا گیا ہے۔ جمہوریت کا سراغ بھی سب سے پہلے برِ صغیر پاک و ہند میں ملتا ہے سو سال قبل مسیح اور بدھا کی پیدائش سے قبل برِ صغیر میں جمہوری ریاستیں موجود تھیں اور ان کو جانا پداس کہا جاتا تھا ۔ یونان میں بھی جمہوریت موجود رہی ہے لیکن وہاں جمہوریت کا تصور سادہ اور محدود تھا۔جدید جمہوریت کے تصور کا احیاء اٹھارویں صدی کے آغاز میں ہوا جو آج رو بعمل ہے،اس کو آزاد خیال جمہوریت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ جمہوریت کی صورت گری جن مفکرین نے کی اور جن کو اس کا بانی سمجھا جاتا ہے ان میں ایک والٹیئردوسرا مونٹیسکو اور تیسرا روسو ہے۔ یہ تینوں فرانس کے فلسفی ہیں جن کے افکار و نظریات کے ذریعے جمہوریت وجود پزیر ہوئی۔

ملک و قوم کے محسنوں کی قربانیوں کی بدولت پاکستان جمہوریت کی بنیاد پر آزاد ہوا، وہ قوم جو ماضی کے سوا اپنے ہر اثاثے سے محروم ہو چکی تھی حال و مستقبل کی امین بن گئی ،1973ء میں ملک میں آئین نافذ کیا گیا، یہ آئین ہماری قومی امنگوں کا مظہرہے۔ جس میں یہ یقین دہانی کروائی گئی کہ اس ملک میں مذہبی آزادی، تہذیبی و تعلیمی حقوق کی پاسبانی ، جائیداد کے حقوق اور حصولِ انصاف کا حق ہر پاکستانی کو بلاتفریق حاصل ہو گا۔ اسی آئین کے تحت ہمارے ہاں انتخابات ہو رہے ہیں۔ یہ ایک جمہوری عمل ہے جو کہ عوام کی شرکت کے بغیر قطعی ادھورا رہ جاتا ہے عوام کو یہ آئینی حق حاصل ہے کہ وہ بذریعہ ووٹ اپنے حکمرانوں کا انتخاب کریں لیکن عوام کی انتہائی مختصر تعداد بمشکل اپنی رائے کے اظہار کے لئے باہر نکلتی ہے۔ ہم نظام بدلنے کی باتیں تو بہت کرتے ہیں اور جب کرنے کا وقت آتا ہے تو عمل نہیں کرتے ۔ ہماری بحییثتِ شہری کیا ذمہ داریاں ہیں ، ہم پر کیا فرائض عائد ہوتے ہیں ان کا ادارک ہمیں نہیں ہے۔ ہم تبدیلی ضرور چاہتے ہیں لیکن اس کے لئے اپنا کرادر ادا نہیں کرتے اگر واقعی ہی نظام کو بدلنا ہے مخلص اور محبِ وطن قیادت کو برسرِ اقتدار لانا ہے اور واقعتاً ترقی کی راہ پر گامزن ہونا ہے تو صرف زبانی جمع خرچ سے کچھ حاصل نہیں ہو گا میدانِ عمل ہمارا منتظر ہے ۔ ووٹ ایک انتہائی اہم امانت ہے قوم کا ہر وہ شخص جو خود کو پاکستانی کہتا ہے ووٹ اس کے ملک اور قوم کی امانت ہے اور امانت میں خیانت بلاشبہ سنگین جرم ہے۔ چاہے وہ خیانت ووٹ نہ دے کر کی جائے یا اس کا غلط استعمال کر کے کی جائے۔ ووٹ کا اصل حقدار کون ہے اس کا فیصلہ ایک فرد اور اس کا ضمیر کرتا ہے۔ سیاسی منفی مقاصد اور طرف داریوں کو پسِ پشت ڈال کر وسیع تر قومی مفاد میں مستقبل کے لئے ایک بہتر فیصلہ ہی دانشمندی ہے۔ اس کے علاوہ نوجوانوں سے پر زور استدعا ہے کہ وہ ووٹ کا حق ضرور استعمال کریں آپ ہی اس قوم کے معمار ہیں۔ قائدِ اعظم نوجوانوں کو ہی مستقبل کا معمار کہا کرتے تھے۔ بے شک آج کا نوجوان پہلے سے کہیں زیادہ با صلاحیت، محبِ وطن، مخلص اور قوم کے لئے کچھ کر گزرنے کا جذبہ رکھتا ہے اس لئے اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں۔ اگر ہم گھر میں بیٹھے رہیں گے تو پھر تبدیلی کیسے آئے گی نظام کیسے بدلے گا یہ سوچنے کا مقام ہے جب عوام ہی اپنے فرض سے غافل ہوں گے جب ہم خود ہی تبدیلی لانے میں اپنا کردار ادا نہیں کریں گے تو پھر نظام سے شکایت جائز نہیں ۔ جہدِ مسلسل ہمارا فرض ہے اور سچے دل سے کی گئی کوئی محنت رائیگاں نہیں جاتی۔ اگر ہم سب صرف ایک منفی پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر ووٹ کے استعمال سے دستبردار ہو جائیں گے تووہی استعماری قوتیں برسرِ اقتدار آ جائیں گی جو شروع سے عوام کا استحصال کر رہی ہیں۔ یہ جہالت اور غربت ہے جو ہمارے ملک کے عوام سے ایسے نمائندے منتخب کروا کے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں بجھواتی رہتی ہے، جس کے سبب غریب عوام یعنی ووٹروں کی غربت دور ہوئی نہ جہالت لیکن ان کے منتخب نمائندے طاقتور بھی ہوتے گئے اور دولت مند بھی۔ دراصل ان منتخب ہونے والے

نمائندوں کو، جو پھر حکمرانی کرتے ہیں، یہ سوٹ کرتا ہے کہ ووٹر جاہل رہیں اور مفلس و قلاش رہیں۔ ان کی تمام جدو جہد پیٹ کا جہنم بھرنے اور بچے پیدا کرنے تک محدود رہے۔ ہاتھ بھیک مانگنے کی کوشش سے آگے نہ بڑھیں اور دماغ سوچنے سے ماؤف رہے۔ دراصل ان وڈیروں، رسہ گیروں، گدی نشینوں، ذات برادری کے ٹھیکیداروں، موروثی سیاست کے مجاوروں اور نو دولتیوں کی بقاء ہی اس فلسفے میں ہے کہ جاہلوں اور بھکاریوں کی تعداد دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کرتی اور بڑھتی رہے۔قوموں کے عروج و زوال کے ذمہ دار حکومتی نمائندے ہوتے ہیں۔ چونکہ ان کے ہاتھ میں ملک کی باگ ڈور ہوتی ہے لہٰذا ان کی حکمتِ عملی پر ہوتا ہے کہ یہ ملک کو ترقی کے راستے پر لے جائیں یا بربادی کا راستہ اختیار کریں۔ ملکوں اور قوموں کی خود مختاری اسی سے پہچانی جاتی ہے۔ اگر بد قسمتی سے کسی ملک میں کسی مفاد پرست قوت کے زیرِ اثر ایک کٹھ پتلی حکمرانی قائم ہو جائے تو پھر وہاں کے لوگوں کا وقت حکومت کو اپنی مجبوریوں کا احساس دلاتے ہوئے گزرتا ہے اور ملک میں کسی قسم کی ترقیاتی پیش رفت نہیں ہوتی۔ ایسی حکومتوں کی موجودگی میں کبھی کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا، یہ ہمیشہ زوال پزیر رہتے ہیں۔ اس کا اندازہ ہمارے ملک کے لوگ بخوبی لگا سکتے ہیں جو پچھلی 4دہائیوں سے اسی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ یاد رکھیے جو کام بد نیتی اور غلط رویے سے شروع کیا جائے اس سے خیر و برکت اٹھ جاتی ہے اور پھر وہی ہوتا ہے جیسے ہمارے ملک میں قدرت کے بخشے گئے بیش بہا قیمتی اثاثوں اور صوفیوں کے انسانی محبت، خیر خواہی اور برداشت کے پیغام اور ایک جامع تعلیمی، تہذیبی، ثقافتی ورثے کی موجودگی کے باوجود آج ہماری قوم غیر مہذب، غیر تعلیم یافتہ اور پس ماندہ کہلاتی ہے۔ انسان جس راستے کا انتخاب کرتا ہے وہی اس کی منزلِ مقصود بن جاتا ہے۔ پاکستان کی سیاسی فضا اسی طرح گرد آلود رہے گی اور جمہوریت غریب کی جورو کی طرح ’’سب کی بھابی‘‘ بنی رہے گی۔ ملک کی عمر بڑھتی اور عوام کی خوشیاں گھٹتی رہیں گی۔ ملک میں آمریت کے کینسر کو پھیلنے سے روکنا ہے تو ان جراثیم کو ختم کرنا ہو گاجن سے یہ بیماری جنم لیتی ہے۔


ای پیپر