سرخیاں ان کی۔۔۔؟
28 جون 2018 2018-06-28

* ۔۔۔ (ن) لیگ کے زعیم قادری بھی باغی ہو گئے۔
O ۔۔۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما زعیم قادری پارٹی قیادت سے ناراض ہو گئے۔ ا س قدر ناراض کہ بلبلا اُٹھے۔ حالانکہ میرے مطابق جناب زعم قادری ایک ایسے سیاسی کارکن ہیں جنہوں نے پارٹی کی ہر بات مانی اور ہر فرمائش بھی پوری کی تھی ۔ مگر نیکی کر دریا میں ڈال کے مصداق وہ ساتھ چلتے رہے۔ شاہدین جانتے تھے کہ خود غرضی اور سفاکی کے اس دور میں نیکی بلکہ نیکیاں کرنے والے کو ہی دریا میں پھینک دیا جاتا ہے۔ بہرحال نیوٹن نے کہا تھا کہ ہر عمل کا ردعمل ہوتا ہے۔ زعیم قادری کی چوٹیں بھی کافی گہری معلوم ہوتی ہیں ورنہ جس انداز میں انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران جناب شہباز شریف اور جناب حمزہ شہباز کو للکارا ہے اس طرح تو پنجابی فلموں کے ہیرو سلطان راہی بھی اپنی فلموں میں اپنے دشمنوں کو نہیں للکار تے تھے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا وہ یونہی ڈٹے رہتے ہیں یا پھر بادشاہت کے جاہ و جلال سے گھبرا کر واپسی کا سفر باندھتے ہیں۔ ویسے اگر جان کی امان پاؤں تو عرض کروں۔ ہمارے ملک میں سیاسی جماعتیں موجود ہی نہیں ہیں جو موجود ہیں وہ محض لمیٹڈ کمپنیاں ہیں۔ جن میں اس قدر گھٹن زدہ ماحول ہے کہ عزت نفس والوں کے لیے سانس لینا مشکل ہے۔ مسلم لیگ پیپلزپارٹی ایم کیو ایم بلکہ پاکستان تحریک انصاف میں بھی یہی آمرانہ کلچر تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے سائیں بلھے شاہ نے کہا تھا۔
عمر گوائی وِچ مَسیتی، اندر بھر یانال پلیتی!
***
* ۔۔۔ کیا 2018ء کے انتخابات شفاف ہوں گے؟
O ۔۔۔ ایک نجی محفل ایک نامور سیاسی شخصیت نے سوال پوچھا؟ انتخابات شفاف ہوں گے؟ میں نے کہا۔ کبھی کیکر کے درخت پر انگور کے گچھے لگتے ہیں۔ نظام کرپٹ ہو اور انتخابات شفاف ہوں یہ ممکن ہے؟ درحقیقت ہمارے ملک میں انتخابات فرمائشی پروگرام ہوتے ہیں۔ جو منظم دھاندلی کی بنیاد پر پروان چڑھتے ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ملکی تاریخ میں 1977ء کے انتخابات کے متعلق بغلین بجائی جاتی ہیں کہ وہ دھاندلی سے پاک تھے۔ حالانکہ ان میں باقاعدہ منظم دھاندلی کی گئی یہ دھاندلی سول ایڈمنسٹریشن کی سطح پر کروائی گئی۔ یوں ’’پولنگ ڈے‘‘ دھاندلی متعارف ہوئی۔ جبکہ بھٹو شہید کی جماعت کو اس دھاندلی کی قطعاً ضرورت نہ تھی! پھر انتخابات کے نتائج میں عظیم لیڈر ذوالفقار علی بھٹو مضبوط ہوئے کہ کمزور یہ سب تاریخ میں درج ہے۔ بہرحال، 2018ء کے انتخابات شفاف ہوں گے یا غیر شفاف یہ نہیں جانتا البتہ یہ جانتا ہوں کہ جس طرح ’’نادان بھی وہی کچھ کرتا ہے جو دَانا کرتا ہے۔ مگر دھکے کھانے کے بعد۔۔۔؟‘‘ آج ہماری کونسی بھی ایسی سیاسی جماعت نہیں جو ملک کے زمینی حقائق عوام کے بنیادی مسائل بشمول ملک اور معاشی جنگل ، امریکی پالیسیوں کے اثرات، عوامی دکھ درد کے نام پر انتخابات لڑ رہی ہو۔ مقابلہ صرف جیتنے کے لیے ہے۔ مگر What is the meaning of winning کوئی نہیں کوئی نہیں جانتا؟ لہٰذا بغداد انتخابات کچھ جیت جائیں گے کچھ دھاندلی کا شعور مچائیں گے۔ جس طرح آج کچھ اپنی آسمان کو چھوتی مقبولیت میں ہوش گنوا بیٹھے ہیں۔ اس طرح عین بوقت نماز شاید وضو ہی توڑ دیں اور بام عروج والے دیکھتے ہی رہ جائیں کہ یہ کیا ہوا؟ یہی 2018ء کے انتخابات کا تجسس ہے جو کچھ دنوں کے لیے باقی بچا ہے۔ مگر جناب عمران خان یہ تاریخی حقیقت یاد رکھیں کہ بھٹو مرحوم انتخابات جیت کہ طاقتور نہیں بلکہ کمزور ہو گئے تھے۔ کیوں آخر کیوں؟ یہ ہے آپ کے سوچنے کی بات کیونکہ جس طرح 1977ء میں بھٹو کی جماعت کو دھاندلی کی قطعاً ضرورت نہ تھی کیونکہ چاروں اطراف بھٹو کا نام گونج رہا تھا۔ بالکل اسی طرح آج تحریک انصاف کو 'electables' کی اتنی ضرورت نہ تھی ۔ جتنی اس نے چادر پھیلا دی۔ خان صاحب خدا کے لیے حکمت سے کام لیں اور اپنے آنگن میں اترتے چاند کو گہن زدہ نہ ہونے دیں۔ "Please put a better way" I mean the only way, this election si meaningful winning ویسے بھی زندگی ہمیشہ تمہیں وہی دیتی ہے جو تم اُسے دیتے ہو۔
***
* ۔۔۔ الیکشن شفاف نہ ہوئے تو ملک کو ناقابل تلافی نقصان ہو گا۔ شہباز شریف
O ۔۔۔ مسلم لیگ (ن) کے نئے صدر جناب شہباز شریف نے کہا ہے کہ انتخابات شفاف نہ ہوئے تو ناقابل تلافی نقصان ہو گا۔ درحقیقت اب تو یاد بھی نہیں کہ آپ کب سے اقتدار میں ہیں البتہ یہ یاد ہے کہ آپ سے پہلے بھی عوام حالتِ عذاب میں تھے اور آپ کے بعد بھی حالت عذاب میں ہیں، اس لیے لکھتے لکھتے نہ جانے کیوں اردو ادب کے شہنشاہ مشتاق احمد یوسفی یاد آ گئے۔ ان کی مزاح نگاری پر ہنسنا فیشن تھا۔ بہرحال 1947ء سے لے کر 2007ء تک تقریباً ساٹھ سالوں میں یہ ملک 40.3ارب ڈالر کا مقروں ہوا۔ مگر گزشتہ جمہوری حکومت یعنی زرداری حکومت نے 26.6ارب ڈالر اور اگلے پانچ سالہ جمہوری حکومت یعنی نا اہل نواز شریف حکومت نے 34.1ارب ڈالر قرض لے کر قوم کو گروی رکھ دیا۔ اب ملک کا ٹریڈ Deficit 28 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ سرمایہ کاری خطرے سے خالی نہیں۔ سی پیک جس پر ہم بھنگڑے ڈالتے ہیں۔ اس کی حقیقی حالت یہ ہے کہ چینی سرمایہ کار پاکستان کی معاشی صورت حال اور قرضوں کی عدم ادائیگی کی بدولت تذبذب کا شکار ہیں۔ حب پاور پراجیکٹ تقریباً بند پڑا ہے۔ ساہیوال کول پراجیکٹ پر بھی رقم ادا نہ ہونے کی بدولت چینی ادارے ہم سے خفا ہیں۔ میرے ذرائع کے مطابق شنگھائی الیکٹرک کمپنی بھی کراچی الیکٹرک سے ناراض ہے۔ ہماری برآمدات کا تو کیا ہی کہنا۔ کیا لکھوں کہ رونا آتا ہے۔ اوپر سے پاکستانی روپیہ۔ الحفی٭۔۔۔ الامان۔۔۔ رحم یا اللہ رحم۔


ای پیپر